محبت و جنگ کے امر ہونے والے فلسطینی نغمے

اگرچہ فلسطینیوں کی یادداشت کو ”الخراریف“ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو ان کی وہ افسانوی اور خیالی کہانیاں ہیں، جنہیں دادیاں یا نانیاں اپنے پوتے پوتیوں کو سناتی ہیں، فلسطینی لوک گیت ان خیالی کہانیوں سے خالی ہیں، انہوں نے اپنے روایتی گیتوں میں افسانوی کہانیوں کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں واقعات جو ان کے خدشات یا مسائل سے جڑے ہیں ان کو بیان کیا ہے۔ غاصبانہ قبضے کے بعد فلسطینیوں نے جن حالات میں زندگی گزاری، اس نے ان میں وطن کی خواہش کی ایک مستقل کیفیت پیدا کر دی، گویا ہر فلسطینی کو اس سانحے میں اپنا حصہ ملا ہے، چاہے وہ کچھ بھی ہو، جس نے ہر موقع پر چاہے غم میں یا خوشی میں فلسطین کی صرف آزادی کے گیت گائے۔
جو مختلف ادوار میں پیش آنے والی حقیقت پسندانہ کہانیوں سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک سنائی جاتی رہیں یہاں تک کہ ان کے یہ لوک گیت آج بھی ویسے ہی مقبول ہیں۔ اس میں ایک خاصیت ہے کہ فلسطینیوں کی غاصبیت کے تین ادوار ہیں، جن میں پہلا عثمانی سلطنت، دوسرا برطانوی سامراجی قبضہ اور حالیہ اسرائیلی قابض ریاست۔ ان کے لوک گیتوں میں عثمانیوں اور برطانوی سامراجیت کے خلاف ہی ماضی کے نغمے یا دبکے ملتے ہیں۔
فلسطینی لوک گیتوں یا دبکوں کی تاریخ دیکھی جائے تو ان کے تمام معروف دبکے مختلف غاصبانہ ادوار میں پیش آنے والی حقیقت پسندانہ کہانیوں سے جڑے ہوئے تھیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتے رہے ہیں۔ فلسطین کا سب سے مقبول نغمہ یا دبکے کا نام ظریف الطول ہے اس کے علاوہ بھی جو معروف نغمے ہیں ان میں ترک سلطنت کے خلاف کسانوں کی بغاوت یا برطانوی قبضے کے خلاف غاصبانہ رویوں کا اظہار ہے۔
ان گیتوں کا ترجمہ لکھنے کی بجائے ان کی وضاحت گیت کے بعد کر دی گئی ہے کہ کیا بات کی جا رہی ہے اور اس کا کیا پس منظر ہے۔
1۔ ظریف الطول
یا ظریف الطول وقف تاقولک۔ رایح عالغربة وبلادک احسنلک
خایف یا ظریف تروح وتتملک۔ وتعاشر الغیر وتنسانی انا
اس نغمے کے مقامی بول ظریف الطال یا ”ظریف الطال“ یعنی ”کتنا لمبا“ یہ مقامی فلسطینی عربی بولی میں تلفظ کیا گیا معنی ہے، اس دبکے کا پس منظر ایک حقیقی کہانی ہے جو فلسطین میں برطانوی مینڈیٹ کے دور میں ہوئی تھی۔ اس کا ہیرو ایک لمبے قد کا نوجوان ہے، جو گاؤں میں بڑھئی کا کام کرتا ہے۔ اس میں ایمانداری اور جرات جیسی بہت سی خوبیاں تھیں۔ ایک دن اس کے گاؤں پر صیہونی غنڈوں نے اچانک حملہ کر دیا اور گاؤں کے تین بہترین افراد زخمی اور ایک نوجوان شہید ہو گیا، اس واقعے نے اس کہانی کے لمبے نوجوان کو رات کے وقت گاؤں سے چھپ کر جانے پر مجبور کر دیا اور اس عہد کے ساتھ کہ وہ واپس آئے گا، پھر کچھ دنوں بعد ، اس نے اپنی ساری آمدنی کی بچت سے رائفلوں اور پستولوں کا ایک سیٹ خرید لیا۔
چار ہفتے بعد جب وہی صیہونی ٹولہ اسی گاؤں میں واپس آیا لیکن اس بار ”دار الطال“ نے گاؤں کے نوجوانوں میں ہتھیار تقسیم کیے اور ایک بڑی لڑائی چھڑ گئی جس میں بڑی تعداد میں گاؤں والے شہید ہوئے، لیکن بدلے میں انہوں نے صیہونیوں کے گینگ کے ارکان کی ایک بڑی تعداد بھی مار دی۔ اس جنگ میں ”ظریف الطال“ نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا اور بہادری سے حملہ کیا اور زخمیوں کو صیہونی غنڈوں سے بچایا۔ معرکہ ختم ہونے کے بعد جب دیہاتیوں نے شہداء کی لاشیں اکٹھی کیں تو انہیں معلوم ہوا کہ ”ظریف الطال“ ان میں نہیں ہے۔ وہ کافی دیر تک اس کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ کبھی نظر نہیں آیا۔ اس کی غیر موجودگی کا راز کسی کو معلوم نہ ہوا، یہاں تک کہ یہ نوجوان اس گاؤں میں ایک لیجنڈ بن گیا اور وہاں کے لوگوں نے اس کے لیے اپنے نغمے بنائے اور یہ نغمہ فلسطین مزاحمت کی ثقافت کے طور پر سب سے زیادہ مقبول ہوا۔
2۔ جفرا وھیا الربع
جفرا یا ہالربع نذلت على العین
جرتھا فضة وذھب وحملتھا للزین
جفرا یاھالربع ریتک تقبرینی
وتدعسی على قبری یطلع بیر میة
مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں محبت کی عجیب داستان ہے، اور اس موضوع ”جعفرا“ کی اصل کہانی ایک فلسطینی محبت کی کہانی ہے، جو نکبہ کے واقعے سے کئی سال پہلے، خاص طور پر سنۂ 1939 میں گلیل کے ایک گاؤں ”الکویت المہاجرہ“ میں پیش آئی تھی۔ اس محبت پر درجنوں فلسطینی گیت ہیں جو لفظ ”جفرا“ سے شروع ہوتے ہیں، گویا یہ ملامت سے مشابہ گیت بن گیا ہے۔ جسے لبنانی موسیقی کے سانچوں میں ڈھالا گیا، اس کہانی کا ہیرو شاعر احمد عبدالعزیز الحسن ہے جس نے اپنی کزن رفیقہ کو شادی کی پیشکش کی اور پھر ان دونوں کی شادی ہو گئی لیکن ایک ہفتے بعد دلہن بھاگ کر اپنے گھر والوں کے گھر چلی گئی اور واپس آنے سے انکار کر دیا، اسے واپس لانے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں، اور اس کے گھر والوں نے اپنی بیٹی کو اس سے طلاق دینے اور اس کی شادی اپنے کزن کے بیٹے سے کرنے پر اصرار کیا۔
دلہن کی جانب سے احمد کو مسترد کرنے کی وجوہات مختلف تھیں، بشمول یہ کہنا کہ وہ اسے مسلسل مارتا رہا؛ یہ سوچ کر کہ وہ اسے اپنے تابع کر لے گا، یا وہ اس شادی کو پہلے ہی رد کر رہی تھی۔ بہر حال تمام صورتوں میں احمد کا ”رفیقہ“ سے رشتہ ٹوٹ گیا، لیکن وہ اس کے لیے اپنی محبت میں مخلص رہا، اور علیحدگی کے بعد بھی اس کے بارے میں شاعری کرنے لگا، لیکن رسم و رواج کی وجہ سے اس نے اس کے اصل نام کے بجائے ”جعفرہ“ کے طور پر ظاہر کرنے کا انتخاب کیا۔
اس گانے کا خیال اس وقت شروع ہوا جب شاعر احمد اپنے گھر میں تھا، اور اس نے اپنی محبوبہ کو پانی کا ایک گھڑا العین جاتے ہوئے دیکھا، تو اس نے یہ اشعار ترتیب دیے، یہ گانا اس وقت سے لے کر آج تک فلسطین میں ثقافت کے اظہار میں سے ایک بن گیا۔ اس گانے میں سماجی رنگ نظر آتے ہیں کہ مرد کی محبت بیوی کے لئے اور عورت کا اپنے حق کے لئے کیا جانے والا فیصلہ عرب سماج میں اک خوبصورت ثقافت کا حصہ ہے۔
3۔ من سجن عکا طلعت جنازة
من سجن عکا وطلعت جنازة
محمد جمجوم وفؤاد حجازی
جازی علیھم یا شعبی جازی
المندوب السامی وربعة وعموما
محمد جمجوم ومع عطا الزیر
فؤاد حجازی وعز الدخیر
انظر المقدر والتقادیر
باحکام الظالم تایعدمونا
یہ ثقافتی نغمہ بھی برطانوی غاصبیت کے خلاف تھا، جب جون سنۂ 1930 کی صبح ایکر شہر میں برطانوی مینڈیٹ کے خلاف عوامی احتجاج شروع ہوا۔ ان مظاہروں کی قیادت تین نوجوان فلسطینی انقلابیوں نے کی: فواد حجازی، محمد جمجوم اور عطا الزیر اس نغمے میں ناہی نوجواں کو بطور حریت ہیرو پیش کیا گیا ہے۔ اس احتجاج کے مقابل انگریزوں نے فلسطینیوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے اور ان کی تمام احتجاجی تحریکوں کو روکنے کی کوشش کی، چنانچہ انہوں نے تینوں نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں پھانسی کا حکم دیا، لیکن انہیں بغیر کسی خوف کے موت مل گئی، اور حجازی نے پھانسی کے وقت لکار کر کہا کہ وہ ایسی قوم سے ہیں جو ان کے مخالف ہیں اور برطانونہ کے مقابل ان کے مصائب اور لڑائیاں ایک ایسی قوم سے ہیں جو کبھی نہیں مرے گی۔
ان کی پھانسی کے دن کو فلسطینی تاریخ میں ”الثلاثاء الحمراء“ یعنی (لال منگل) کے نام سے جانا جاتا تھا اور ان کی کہانی کو ایک سے زیادہ شاعروں نے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا، خاص طور پر ابراہیم تقان نے ان پر بہت نغمے لکھے، مزید شاعر نوح ابراہیم کی نظم، اپنی انتہائی سادگی کے باوجود ان تینوں ہیروز کی کہانی کو دستاویزی شکل دینے کی سب سے مشہور شاعرانہ کوشش رہی، اور نوح ابراہیم کی نظم کو ایک مشہور مقبول گیت میں تبدیل کر دیا، جسے فلسطینی بینڈ ”فرقة العاشقین“ نے سنۂ 1980 کے شروع میں گایا تھا۔ اس نظم کے بعد شاعر نوح ابراہیم کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، یہاں تک کہ وہ سنۂ 1938 میں گلیلی شہر میں ایک جنگ کے دوران شہادت سے ہمکنار ہو گئے، اور اس وقت ان کی عمر صرف 25 سال تھی۔
4۔ طلت البارودة والسبع ما طل
طلت البارودة۔ والسبع ما طل
یا بوز البارودة۔ من دمہ مبتل
یہ نکبہ سے پہلے کے فلسطینی انقلاب کے حالات پر گیٹ بنایا گیا تھا، جس میں وہاں کے مرد تمام دستیاب ذرائع کے ساتھ ہمسایہ دیہاتوں اور شہروں کے دفاع کے لیے نکلتے تھے، اس وقت عوامی مزاحمت اپنے مالی وسائل کی صلاحیتوں پر انحصار کرتی تھی۔ اس میں سب سے اہم ”بارود۔“ تھا، اس زمانے میں ہتھیار ایک انمول خزانہ تھے، اس وقت فلسطینیوں کے لئے ”بارود“ ایک اہم ہتھیار تھا، جب بھی وہ میدان جنگ سے واپس آتے، ان کے گھر والے ان کا استقبال کرتے اور یہ نغمہ ”سات افراد“ گاتے۔ ان میں سے جو شہید ہوجاتا تو میدان جنگ میں اس کے ساتھی اس ساتھی کو واپس نہ لا سکتے تو اس کے گھر ولوں کو اس کا بارود واپس کر دیتے۔ یہ ایک طرح کا نوحہ خوانی کا گیت تھا، جن کے گھر سے کوئی شہید ہوجاتا، اور وہ شخص واپس لوٹنے والوں کے ساتھ نہیں آتا لیکن اس کا بارود واپس آتا۔
5۔ عالاوف مشعل
شفت واحد واقف جنت البرکة
حاکیتو عربی جاوبنی بالترکی
نسوان بتحکی والاطفال بتبکی
مع مین نحکی ترکی او المانی
عالاوف مشعل ایک نوجوان کے حالات کا واقعہ ہے، کے واقعات کی کہانی پہلی جنگ عظیم کے دوران پیش آئی۔ یہ اس وقت جب سلطنت عثمانیہ بلاد الشام اور فلسطین پر اپنا تسلط جما رہی تھی اور جوانوں کو جبری طور پر بھرتی کر رہی تھی، مقامی لوگ ترک فوج کے ساتھ ایسی لڑائیوں میں لڑنے پر مجبور تھے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، مقامی لوگوں میں انہیں استثنا حاصل تھا۔ جنہوں نے بھرتی سے بچنے کے لئے بھاری فیس ادا کی ہو، جہاں تک غریبوں کا تعلق ہے، ان کا مقدر سفر، جنگ اور خاندان اور عزیزوں سے علیحدگی تھی۔
مشعل ان فلسطینی نوجوانوں میں سے ایک تھا جس نے جبری بھرتی سے انکار کر دیا تھا، اس لیے وہ فرار ہو گیا تھا۔ فرار ہونے کے بعد وہ گلیل کے ایک چشمے کے قریب چھپ گیا تھا، لیکن ترک فوج نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ اگرچہ اس نے افسر کو رشوت میں سونے کا سکہ دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی، لیکن افسر نے سونے کا سکہ لے کر اسے گرفتار کر لیا، اسے جبری بھرتی کیا گیا اور جنگ پر بھیج دیا گیا، مشعل جنگ سے واپس نہیں آیا، پھر کبھی اس کا سراغ نہ مل سکا، لیکن وہ ہر اس فلسطینی کے لیے ایک علامت بن گیا، جو اپنے خاندان سے دور کسی پردیس میں غائب ہو گیا ہو۔ یہ نغمہ سلطنت عثمانیہ کے جبر کے خلاف ایک استعارہ بنا۔
6۔ یا طالعین الجبل
یا طالعین عین للل الجبل یا موللل الموقدین النار بین لللل یامان یامان عین للل ہنا یا روح
ما بدی منکی لللکم خلعة ولا لالالا لابدی ملبوس بین للل یامان یامان عین للل الھنا یا روح
یہ بہت ہی عجیب نغمہ ہے، روح کو چیرنے والا، احساسات اور الجھے ہوئے تاثرات جو آپ کو بہت تکلیف دیتے محسوس ہوتے ہیں، یہ محصور فلسطین کا وہ گانا جو زیر حراست مزاحمتی جنگجوؤں اور ان کی ماؤں کے درمیان پیغامات کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، یہ جیل سے نغمے لکھ کر ماؤں کو بھیجے جاتے تھے، اس شاعری میں ان کے پیغامات بھی ہوتے تھے، ان میں یہ مشہور گانا ”ا اے پہاڑ پر چڑھنے والے“ بھی ہے، اس گیت میں مائیں نظربندوں کو پیغام بھیجتی ہیں کہ راحت قریب ہے، اور مزاحمت کار ان کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن کریں گے۔ اس طریق پر بہت سارے اور مزید دوسرے فلسطینی گانے جیسے ”ترویدة شمالی“ بھی ہیں۔
7۔ حید عن الجیش یا غبیشی
حسناء: حید عن الجیشی یا غبیشی قبل الحناطیر ما یطلوا
غبیشی: واحید عن الجیشی لویشی ول یقحم غبیشی یا ذلو
یہ گانا ان فلسطینیوں کے بارے میں جو برطانوی مینڈیٹ کے دور میں ظلم و ستم کا شکار ہوئے تھے۔ اور انہیں وہاں سے بے دخل کر دیا گیا تھا غبیشی ایک بہادر اور خوبصورت نوجوان ہے جو ایک بڑے خاندان کی ”حسناء“ نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا۔ یھو ایک بڑے خاندان کی اولاد ”حسن“ نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا۔ غبیشی نے اس لڑکی کے لئے شادی کا پیغام بھیجا تھا، لیکن اس کے گھر والوں نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ وہ ایک نامعلوم قبیلے سے تھا۔
غبیشی کی تمام کوششیں اور ثالثی ناکام ہو گئیں، اس لیے اس نے اس کے گھر والوں کی اجازت کے بغیر اس سے شادی کر لی، اور اسے لے کر بہت دور بھاگ گیا۔ اس کے باوجود، غبیشی اور ”حسناء“ اس خوف میں رہتے تھے کہ اس کے گھر والے انہیں تلاش کر لیں گے، اس لیے انہوں نے ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہوئے ہر رات جاگنے کا فیصلہ کیا۔
حسناء کے گھر والوں نے اس سلسلے میں اس وقت برطانوی انگریز کمانڈر جان گلوب سے مدد مانگی جو کہ ٹرانس جارڈن افواج کا کمانڈر تھا، وہاں کے مقامی عربوں اس کمانڈر کو ”ابو حنیک“ کہا جاتا تھا، کیونکہ اس کے نچلے جبڑے میں گولی لگی تھی جس سے اس پر واضح نشان پڑ گیا تھا۔ ”ابو حنیک“ نے غبیشی کو زندہ یا مردہ لانے کی قسم کھائی اور ایک پوری بٹالین کے ساتھ اس کی تلاش کے لیے نکلا۔ جیسے ہی فوجیوں نے غبیشی کے گھر پر چھاپہ مارا، حسناء کو اندازہ ہو گیا، اس نے اپنے شوہر کو نیند سے جگایا اور اسے بھاگنے اور ”فوج کے گھیرے سے بھاگ جانے کو کہا۔ غبیشی بیدار ہوا اور ان کے درمیان بات چیت ہوئی۔ یہ بات چیت کا مکالمہ بعد میں ایک روایتی گیت میں بدل گیا جو فلسطین میں ہر جگہ پھیل گیا۔
8۔ یا یمة فیہ دقہ ع بابنا
یا یمہ فی دقہ ع بابنا
یا یمہ ہای دقة احبابنا
یا یمہ ہای دقة قویة
یا یمہ عشاق الحریة
یہ گانا سنۂ 1936 کے عظیم فلسطینی انقلاب کے گلوکار ”ابو عرب“ کی آواز میں ہے یہ سنۂ 1970 کی دہائی میں ایک فلسطینی ہیرو ”بلال“ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے پس منظر پر ہے، جو اپنے ابائی شہر بیت رحم سے لے کر لبنان تک بے گھر ہی رہا۔ اپنے گھر سے روانگی کے کئی سال بعد اس نے یہودی قبضے کے خلاف مزاحمت کاروں کے ایک گروہ میں شمولیت اختیار کرلی، اور اسی سلسلے میں ایک بار پھر فلسطین میں دراندازی کی، یہ گروپ بعد میں ”777 بمجموعة“ سے معروف ہوا، ایک رات کو بلال نے پلان کیا کہ اسے بیت المقدس میں اپنے گاؤں جانا ہے اور جانے سے پہلے اپنی ماں کو دیکھنا ہے، جب اپنے گھر پہنچا تو اس نے دروازے پر دستک دی تو اس کی والدہ نے گھر کے اندر سے پوچھا کہ ”کون ہے؟
“ اس نے جواب دیا، ”آپ کا بیٹا بلال“ لیکن ماں کو اس بات پر یقین ہی نہیں آیا کہ اس کا بیٹا واپس آ گیا ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے قبل یہ افواہ تھی کہ بلال جنوبی لبنان کی لڑائیوں میں بلال شہید ہو گیا ہے، اس لیے ان کے گاؤں والوں نے اس کی ماں سے اس کی شہادت پر تعزیت کی تھی اور وہاں سب یہی سمجھتے تھے کہ وہ مر چکا ہے، اس کی ماں نے سوچا کہ قابض افواج نے اس کے لیے گھات لگایا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ چھاپہ ماروں کے ساتھ کون تعاون کر رہا ہے، اس نے دروازہ نہیں کھولا، اس لیے بلال اپنے پڑوس میں گیا اور پوچھا کہ اس کی ماں ایسا کیوں کر رہی ہے، تب وہ پڑوسی خاتون اس کے ساتھ اس کے گھر واپس آئی۔
انہوں نے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا، اور اس بار پڑوسی خاتون نے ام بلال کو معاملہ سمجھایا، کہ دروازے پر موجود شخص اصل میں اس کا بیٹا تھا، پھر بلال کی ماں نے دروازہ کھولا، اپنے بیٹے کو گلے لگایا، اس کا بوسہ لیا، اور پھر اس کی بندوق کو بوسہ دیا۔ بلال کی لبنان واپسی کے بعد وہاں کے مصور ابو عرب سے جب بلال کی ملاقات ہوئی، تب بلال اسے یہ کہانی سنائی تو اس نے اسے لکھا اور گایا۔ اس نغمے کی مقبولیت کی وجہ وہ احساسات ہیں جو بیٹے سے بچھڑنے کے بعد جب یہ مکمل یقین ہو گیا ہے کہ وہ مر چکا ہے لیکن اسے دوبارہ زندہ دیکھنے پر کسی ماں کے احساسات ہوتے ہیں۔

