الیکشن: قافلے دلدلوں میں جا ٹھہرے
دل بہت دکھتا ہے اور ترقی کا سفر اس وقت معکوس سمت میں جاتا دکھائی دیتا ہے جب کسی بھی مین سٹریم پارٹی کو الیکشن سے دور رکھا جاتا ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں کیا گیا یہ عمل اب کے انتخابات میں اور شدت سے دہرایا جا رہا ہے۔ چلن تو یہ ہونا چاہیے کہ آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ انڈر گراؤنڈ تنظیموں کو بھی کوشش کر کے قومی دھارے میں لایا جائے تاکہ وہ آئین اور قانون کے اندر رہ کر اپنی جستجو اور جدوجہد کا اظہار کریں اور منسلک عوام کے جذبات کی آواز بن سکیں مگر ایسا نہیں ہو سکا اور اس کے برعکس مین سٹریم پارٹیوں کے متشدد ہو کر غائب ہونے کا مسلسل عمل ہی چلتا رہا۔ اس کے محرکات الگ الگ ہونے کے باوجود انجام ایک سا ہی رہا۔
ایم کیو ایم بھی ایک مقبول سیاسی جماعت تھی مگر تشدد کا سہارا لینے کے بعد کٹ ٹو سائز ہو کر راندہ درگاہ ہو گئی۔ اسی طرح الذوالفقار نے بھی تشدد کا سہارا لے کر اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے لئے بے پناہ مشکلات پیدا کیں مگر سمجھدار سیاسی قیادت نے تشدد کو اون کرنے سے انکار کر کے اپنی پارٹی کا وجود بچا لیا۔ سلامتی کی ضمانت دینے والے مذہب کی بنیاد پر بنائی گئی جماعتوں نے بھی تشدد کی راہ اختیار کی اور وہ اپنے ان چاہے انجام سے دوچار ہوتی رہیں۔ بلوچستان اور فاٹا میں برسر پیکار متشدد جماعتوں سے تاحال ریاست برسر پیکار ہے اور ریاست اس سلسلے میں ایک ہی پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔
موجودہ سیناریو میں سب سے بڑی اور مین سٹریم پارٹی کو بھی چاہیے تھا کہ وہ سیاسی جدوجہد کو جاری رکھتی اور خود متشدد ہونے یا اس طرف اکسائے یا دھکیلے جانے دونوں صورتوں میں پیپلز پارٹی کی طرح تشدد کرنے والوں کو ڈس اون کر دیتی مگر قوم کی بدقسمتی کہ پارٹی قیادت ناسمجھی یا مقبولیت کے زعم میں بروقت اس سانحہ کی حساسیت کو سمجھنے اور ڈس اون کرنے میں کامیاب نہ ہو پائی۔
اب عالم یہ ہے کہ مقبول ترین اور واحد وفاقی پارٹی ہونے اور عوام کا بے پناہ اعتماد سمیٹنے کے باوجود ریاست اس پارٹی سے اس درجہ خائف ہے کہ کسی بھی صورت اسے منظر سے ہٹانے کے درپے ہے۔ اس عمل کو کسی بھی طرح جسٹیفائیڈ نہیں قرار دیا جا سکتا مگر دوسری طرف اس سیاسی جماعت کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کون سے محرکات ہیں جنہوں نے پارٹی کو ردعمل کے اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ آج اس کی عوامی مقبولیت ہی اس کے مٹائے جانے کا سبب بن رہی ہے۔ یہ مقبولیت قوم کو جوڑنے اور اس کو تعمیر کرنے کے لئے بہت بڑا عطیہ خداوندی ثابت ہو سکتی تھی مگر ریاست کے ہاتھوں یہ وجہ زوال بنتی دکھائی پڑتی ہے۔
اب سوائے بدقسمتی کے اسے اور کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ پارٹی کارکنان شعور کے اوپری درجہ پر فائز ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود نو مئی جیسے واقعہ کی ریاستی بقا کے لئے حساسیت کو نہ سمجھ پائے اور اس کو محض مذاق اور میمز کی زینت بنا کر قومی یک جہتی کے اس بہت بڑے موقع کو اپنے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے کا موقع دے دیا۔ قیادت کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے تھی کہ لڑائی ہمیشہ محض لڑنے کے لئے نہیں لڑی جاتی بلکہ مقاصد کے حصول کے لئے اسٹریٹجک ٹول کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہماری سیاسی قیادت کی اس فائٹ برائے فائٹ پالیسی نے پورے ملک کو برسوں میدان جنگ بنائے رکھا اور بالآخر اپنے اوپر ہی فائر بیک کر کے اپنی ہی پارٹی کے وجود کو خطرات دوچار کر لیا ہے۔
اب پارٹی کے غائب ہونے، مرکزی قیادت کے گرفتار ہونے اور ذیلی قیادت کے تتر بتر ہونے کے بعد نوجوانوں کے دلوں میں اترتی ہوئی مستقبل کی یاسیت کا یہ موجود منظرنامہ حساس اور باشعور عوام کے لئے بے حد تکلیف دہ ہے مگر ریاست کے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ تکلیف آخری ہے اور اس سے آگے کوئی المیے اور حادثات ہمارے منتظر نہیں ہیں؟ کیا ریاست گارنٹی دے سکتی ہے وہ اپنے تئیں ملک کو اس طرح آلام سے بچانے کی کوشش کر کے نئے آلام کو جنم دینے کی راہ ہموار نہیں کر رہی؟
کسی بھی ریاستی ضمانت سے بالا ان سوالوں کا جواب تو وقت ہی دے سکے گا مگر موجودہ الیکشن میں بھی عوام کے والہانہ نعرے اور آوے ہی آوے کا شور سن کر سمجھ میں نہیں آ رہا کہ پرانی بوتلوں سے نئی شراب برآمد کرنے کی عوام کی اس جستجو کو کیا نام دیں۔ کیا موجودہ حالات کو دیکھ کر بھی عوام کے ذہنوں میں سیاسی رہنماؤں کو ”خدا کرنے“ کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا؟ عوام کو سوچ اور شعور کب میسر ہو گا؟ اس کا جواب تو میسر نہیں مگر یہ شعر بے اختیار ذہن میں اتر آتا ہے کہ
قافلے دلدلوں میں جا ٹھہرے
رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے


