کیا آپ کی داڑھی سفید ہو رہی ہے؟


تحریر: حامد یزدانی اور خالد سہیل
۔ ۔ ۔
حامد یزدانی کا خط
۔ ۔ ۔
ڈیئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
آداب و تسلیمات
امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔

گزشتہ روز آپ سے فون پر بات ہوئی تو اپنی خیریت اور تازہ ترین صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے میں نے جب یہ مصرع پڑھا:

کہ آئینے میں اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی
تو آپ بے ساختہ ہنس دیے تھے اور پھر آپ نے اپنے مخصوص اور پرخلوص انداز میں فرمایا تھا:
”قبلہ و کعبہ، یہ مصرع تو صورت احوال کو اجمالاً بیان کرتا ہے۔ کچھ تفصیل لکھیں مجھے اس اجمال کی۔“
تو لیجیے، تفصیل حاضر ہے :

دو ہفتے گزرے۔ ایک صبح بیدار ہوا تو معمول کے مطابق ”رخ روشن“ کے ”دیدار“ اور ”اصلاح“ کے لیے آئنے سے رجوع کیا۔ آئینہ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، سچا ہوتا ہے۔ سو بد لحاظ ٹھہرتا ہے۔ اس صبح سامنے جو چہرہ تھا اس پر ”ریش مبارک“ کے آس پاس کے علاقے میں کچھ ناپسندیدہ ”عناصر“ کا قبضہ دکھائی دیا۔ بیگم کو فوراً آگاہ کرنے اور فوراً ”ضروری ازدواجی“ ڈانٹ ڈپٹ کی کارروائی کے بعد طبیعت کی کچھ ”تشفی“ ہوئی تو اپنے ڈاکٹر کو فون کیا اور ملنے کلینک پہنچ گیا۔ ڈاکٹر کی ماہرانہ رائے یہ تھی کہ ”ریش مبارک“ کے آس پاس کے خطے میں واقع ہونے والی ان ریشہ دوانیوں میں جلد کی الرجی کا عمل دخل ہے۔ لہٰذا جب تک الرجی اسپیشلسٹ سے ملاقات نہیں ہوجاتی اور الرجی کی قسم وغیرہ کا تعین نہیں ہوجاتا مجھے اپنے بال رنگنے کی اجازت نہیں۔

اس ماہرانہ حکم سے روگردانی ممکن نہ تھی۔ نتیجہ یہ کہ چند ہی روز میں نظر کے سامنے ایک جانے پہچانے چہرہ پر کوئی اجنبی چہرہ نمودار ہونے لگا۔

اچھے برے کی بات نہیں۔ بس مختلف تھا۔
اس پر بیگم نے ”تاریخ“ کی کتاب کے ”سبق آموز“ اوراق پلٹنا ضروری سمجھا اور کہنے لگیں :

تو اب ڈاکٹر ہی نے مجبور کیا آپ کو مصنوعی کیمیاوی مواد کے استعمال سے۔ برسوں پہلے جرمنی میں جب میں نے یہ مشورہ دیا تھا اس وقت آپ نے اس پر غور کرنے کے بجائے کولون کی اس ”چالاک اطالوی ہیئر ڈریسر کی“ ماہرانہ ”رائے کو پسند کیا تھا جس نے آپ کو بال رنگوانے پر قائل کر کے اچھی خاصی رقم بھی ہتھیانا شروع کردی تھی اور بالوں کو تباہ کرنے کا ایک مجرب اور تباہ کن نسخہ بھی آپ کو عطا کر دیا تھا۔ اب دیکھیے، بال تیزی سے سفید بھی ہو گئے ہیں اور کم بھی“

”ارے نہیں۔ سب قصور اس ہیئر ڈریسر خاتون کا بھی نہیں۔ یہ معاملہ موروثی بھی تو ہوتا ہے۔“ میں نے وضاحت کرنا ضروری سمجھا تھا۔ ”

ڈاکٹر صاحب،

بال نہ رنگے مجھے اب دو ہفتے ہوچکے ہیں۔ آج جب آئنہ دیکھتا ہوں تووہ مجھ سے وہی سوال کرتا ہے جو اب سے تیس برس قبل زندگی میں پہلی بار مونچھیں ”صاف“ کرنے پر اس نے مجھ :سے پوچھا تھا یعنی

اجنبی، تم کون ہو؟
کس شہر سے؟
کس خواب سے؟
کس درد سے آئے ہو؟
بولو
میرے چہرے سے تمھاری شکل بے شک ملتی جلتی ہے
مگر، تم کون ہو؟ بولو۔

اور میں آئنے سے ہٹ کر امجد اور طاہرہ کو گھورنے لگتا ہوں کہ جن کے اصرار نے مجھے اس حیرت سے آشنا کرنے کی ”شرارت“ تیار کی تھی۔

ڈاکٹر صاحب،

عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ چہرہ تو وہی ہے۔ بس بال اپنی رنگت میں مختلف ہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ اپنی اصل رنگت پر آ گئے ہیں۔ مگر کیا کیجیے کہ یہ اصل ”طبیعت“ کو گوارا نہیں کہ یہ تصنع ہی کو اصل سمجھنا چاہتی ہے۔

ویک اینڈ پر بچے گھر پر اکٹھا ہوئے تو میری دل جوئی کا ساماں کرنے لگے۔ اریب کا کہنا تھا کہ میں بنا رنگے بالوں کے ساتھ زیادہ باوقار (وغیرہ) لگتا ہوں۔ رابعہ بیٹی نے آئنے ہی کا کردار ادا کرتے ہوئے سیدھے انداز میں کہا:

”سچ کو خندہ پیشانی سے قبول کیجیے اور حقیقی اور فطری انداز میں ایجنگ کے مراحل سے لطف اٹھائیے۔ “

”ضروری ازدواجی“ ڈانٹ ڈپٹ کی ”اوور ڈوز“ سے بچنے کے لیے اس موقع پر میں نے بیگم کی طرف دیکھنے سے باقاعدہ اجتناب کیا اور بظاہر اپنی پوری توجہ گھر کے بنے تازہ اور بھربھرے بسکٹ کھانے پر مرکوز کردی۔ اور یہ سوچتا رہا کہ جب اپنا چہرہ مجھے اجنبی لگ رہا ہے تو دیکھنے والوں خاص کر دفتر کے ساتھیوں کو کیسا لگے گا؟

مگر شاید یہ فکرمندی میرے ہی احساس کی پیداوار تھی۔ کسی نے بھی اس پر کسی غیرمعمولی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔

چلیے، اس طرف سے تو جی کچھ مطمئن ہوا مگر اب یہ سوال ذہن میں چکراتا رہتا ہے کہ سپیشلسٹ سے ملاقات کے بعد اس نے اگر الرجی سے ”پاک“ کسی رنگ کے استعمال کی اجازت دے دی تو کیا کروں گا؟ کیونکہ اب تو میں اپنے اس چہرے سے آشنا ہونا بھی شروع ہو گیا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کچھ عرصہ بعد پھر سے ”رنگ داری“ کا شوق چرائے اور میں ایک بار پھر ایک اور اجنبی چہرے کے مقابل ہوں! ۔

کیا کہتے ہیں آپ؟
! ڈاکٹر صاحب
اپنی ”صورت“ اور ”احوال“ مختصراً دونوں رقم کر دیے ہیں۔ اب آپ کہیے۔ یہ سب کیا ہے؟
کیا آپ بھی ایسی کسی صورت حال سے دوچار ہوئے اپنی زندگی میں؟ اگر ہوئے تو اس سے کیسے نمٹا آپ نے؟
جوابی خط کا منتظر رہوں گا۔
آپ کا ادبی دوست
حامد یزدانی
واٹرڈاؤن، کینیڈا
جنوری۔ 2024
۔ ۔ ۔

خالد سہیل کا جواب
۔ ۔ ۔
! قبلہ و کعبہ حامد یزدانی صاحب

آپ کے ادبی محبت نامے میں چالاک اطالوی دختر خوش گل کی شاطرانہ چال کا ذکر پڑھ کر میرے باریش چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

اب میں چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی ریش مبارک سفید اور چہرہ پرنور ہو رہا ہے۔ باطنی اور داخلی طور پر تو آپ بزرگ پہلے ہی تھے کیونکہ آپ کی باتوں اور تحریروں سے دانائی ٹپکتی تھی اور اب خارجی اور ظاہری طور پر بھی بزرگ دکھائی دے رہے ہوں گے۔ عین ممکن ہے اب لوگ آپ کو پیر و مرشد کہہ کر آپ کی خدمت میں آپ کے مرید بننے اور دست بوسی کرنے حاضر ہو جائیں۔

آپ کی پرنور داڑھی کے بارے میں آپ کے بچوں کے معصومانہ خیالات اور آپ کی بیگم کے نیم طنزیہ نیم مزاحیہ تاثرات پڑھ کر بہت لطف آیا۔ چلیں آپ کی سفید داڑھی نے آپ کی بیگم کو برسوں کی دل میں دبائی بھڑاس نکالنے کا مسیحائی موقع فراہم کیا۔

آپ کے اہل خانہ کے رد عمل سے مجھے اپنے اہل خانہ کا رد عمل یاد آ گیا۔ آپ کی شریک سفر نے دل کی بھڑاس نکالی ہے تو میں بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔

جب میں ایک ٹیچر تھا اور میرے چہرے پر بے ترتیب داڑھی خاردار جھاڑیوں کی طرح اگ رہی تھی تو میں نے ریزر خرید کر شیو کرنے کا سوچا۔

لیکن پھر مجھے اس خیال نے شیو کرنے سے روکا کہ یہ ایک ایسا عمل ہے کہ اگر میں نے ایک بار کیا تو پھر مجھے ساری عمر بار بار کرنا پڑے گا اور میری زندگی کا بہت سا قیمتی وقت اس بے کار اور فضول کام میں ضائع ہو جائے گا۔

محترمی و مکرمی حامد یزدانی صاحب!

آپ کو شاید یقین نہ آئے کہ میں نے نوجوانی کی ایک شام کو ایک کاغذ اور قلم اٹھایا اور حساب لگایا کہ اگر

ایک دن شیو پر بیس منٹ ضائع ہوں گے تو
ہفتے میں سات مرتبہ شیو کرنے میں کتنے منٹ اور
سال کے باون ہفتوں میں کتنے منٹ اور
آئندہ پچاس سال میں کتنے منٹ ضائع ہوں گے

جب سب منٹ جمع کیے تو پتہ چلا کہ میں اپنی زندگی کے بیس ہفتے یعنی پانچ مہینے شیو کرنے میں ضائع کرتا رہوں گا۔

یہ سوچ کر میں نے کبھی شیو نہیں کیا

(مجھے فیڈیل کاسٹرو کے ایک انٹرویو میں یہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ اس نے بھی وقت کے ضیاع کی وجہ سے لمبی داڑھی رکھی تھی)

اگر آپ کو معلوم نہیں تھا تو اب پتہ چل گیا ہو گا کہ میری داڑھی سچی داڑھی ہے لیکن اس میں مذہبی خیالات و اعتقادات سے زیادہ اہم میری سستی و کاہلی ہے۔

میں نے شیو نہ کرنے کا فیصلہ تو کر لیا لیکن اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میری داڑھی کا رشتہ خاندانی روایت سے جڑا ہوا ہے۔

چنانچہ جب میں پشاور سے لاہور اپنے خاندان سے ملنے گیا تو میرے احسان ماموں نے سب رشتہ داروں کو کھانے پر بلایا اور کھانے کے بعد سب کو ایک دائرے میں بٹھایا اور ان سے کہا

آپ سب خالد سہیل کی طرف دیکھیں۔ اس نے بے ترتیب و بے ہنگم داڑھی بڑھانی شروع کر دی ہے۔ نجانے یہ طالبان بننا چاہتا ہے یا ہپی۔ ہمارے خاندان میں کسی نے اس طرح الٹی سیدھی داڑھی نہیں بڑھائی۔ اس لیے میں سارے خاندان کی طرف سے سہیل کو حکم دیتا ہوں کہ وہ داڑھی منڈوا دے۔

میرے ماموں کے شاہی فرمان کے بعد سب رشتہ داروں نے اپنی اپنی نصیحت کی۔ ایک آنٹی نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ سہیل بیٹا داڑھی رکھو گے تو کوئی شریف خاندان تمہیں اپنی بیٹی نہیں دے گا۔

مجھے اس دن اندازہ ہوا کہ میری داڑھی کا تعلق خاندانی روایت سے ہی نہیں سماجی شرافت سے بھی ہے۔ اس دن مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اس داڑھی کا تعلق میری داخلی بغاوت سے بھی ہے۔

میری داڑھی میری عمر بھر کی ساتھی ہے۔
اب میں دو ماہ بعد اپنے حجام کے پاس چلا جاتا ہوں اور وہ میری بے ترتیب داڑھی کو ترتیب دے دیتا ہے۔
میرا حجام ایک باذوق حجام ہے۔

وہ بے ترتیب داڑھی کو ترتیب دیتے ہوئے ادب اور فلسفے اور نفسیات پر اپنی رائے سناتا رہتا ہے اور میں خاموشی سے سنتا رہتا ہوں۔

! قبلہ و کعبہ حامد یزدانی صاحب

آپ کو خط لکھتے ہوئے مجھے ایران کے وہ حجام یاد آ گئے جن کی دکان کے ساتھ حمام بھی ہوتے تھے۔ لوگ حجامت کروانے کے بعد غسل بھی کرتے تھے۔

 میں نے ایران میں ملا دو پیازہ کا واقعہ سنا تھا آپ بھی سن لیں
ایک سہ پہر ملا دو پیازہ اپنی درویشانہ گدڑی پہنے حمام گئے۔
ملازم نے ان کی حالت دیکھی تو سمجھا بہت غریب ہیں چنانچہ انہیں
نہانے کے لیے پرانا تولیہ اور صابن کی آدھی ٹکیہ دی۔
ملا دو پیازہ نے بہت ہتک محسوس کی لیکن سوچا کہ اسے سبق سکھانا چاہیے

جاتے ہوئے انہوں نے جب ملازم کو سونے کا سکہ بخشش کے طور پر دیا تو ملازم کو ندامت ہوئی کہ اس نے ایک امیر زادے کو غریب زادہ سمجھا۔

اگلے ہفتے جب ملا دو پیازہ پھر اسی حمام میں گئے تو اسی ملازم نے انہیں نیا تولیہ اور خوشبودار صابن دی۔

ملا دو پیازہ نے بڑے اہتمام سے غسل کیا اور جاتے ہوئے ملازم کو سونے کا سکہ دینے کی بجائے لوہے کا سکہ بخشش کے طور پر دیا۔

ملازم نے کہا۔ کچھ سمجھ نہیں آیا۔ آپ نے ایسا کیوں کیا؟
ملا دو پیازہ نہ کہا
آج کی بخشش پچھلے ہفتے کی خدمت کی ہے اور پچھلی بخشش اس بار کی خدمت کی ہے۔
ملازم کو پتہ چل گیا کہ ملا دو پیازہ امیر زادے ہی نہیں دانش زادے بھی ہیں۔

حامد یزدانی صاحب!
آپ سے پرسوں ڈنر پر ملاقات ہو رہی ہے۔
آپ کا خط پڑھ کر آپ کی پرنور داڑھی دیکھنے کا اشتیاق بڑھ گیا ہے۔

میرا دوستانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ بھی میری طرح سفید ریش بن جائیں اور داڑھی کو رنگنے سے بے نیاز ہو جائیں۔

میں تو اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب میری داڑھی برف کی طرح سفید ہو جائے گی اور مجھے یقین ہو جائے گا کہ اندر سے نہ سہی باہر سے تو درویش دانا دکھنے لگوں گا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟
آپ کا ادبی ہمسفر
خالد سہیل
جنوری 2024

Facebook Comments HS