گائنی فیمینزم: کیا اور کیوں؟


عورت کے ( خفیہ) معاملات میں دلچسپی کب شروع ہوئی، صحیح سے یاد نہیں، ہاں اتنا ضرور ہے کہ تجسس نے انتہائی چھوٹی عمر سے ہی برا حال کر رکھا تھا۔ ذہن میں لاوا سا پکتا رہتا اور سوالات کی بھرمار رہتی: کیوں؟ کہاں؟ کیسے؟ اور کب؟ ہر وقت نوک زبان پہ دھرے رہتے اور لوگ عاجز نظر آتے۔

بہت سی باتیں ایسی تھیں جو سمجھ سے باہر تھیں اور چھوٹی سی عقل کو حیران و پریشان کرتی تھیں۔ اگر سب کچھ خدا کی ترتیب ہے، اگر سب کچھ صدیوں سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے، اگر یہ سب زندگی کا حصہ ہے، اگر ہر بات کی سب کو خبر ہے اور کسی بھی کمی سے زندگی سوالیہ نشان بن جاتی ہے تو پھر ان سب باتوں کا ذکر سرگوشیوں اور اشاروں کنایوں میں کیوں؟

ہمیں زندگی یوں بسر کرنے کے پیچھے چھپی منافقت تب ہی سے چبھنے لگی۔

سکول میں لڑکیاں شرما شرما کر ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتیں، کن اکھیوں سے خود کو دیکھ دیکھ کر لجاتیں اور ہمیں سمجھ نہ آتا کہ بھئی کاہے کی شرم اور کس بات کی شرم؟ نہ یہ جسم ہم نے خود بنایا ہے اور نہ اس کے نشیب و فراز۔ ایسا تو نہیں ہوا نا کہ ہم لڑکیوں نے فرمائش کی ہو کہ اللہ میاں پلیز ہمارے سینے کا ابھار ایسا بنائیے گا، کمر میں خم رکھیے گا اور چال میں لٹک۔ جب ایسا کچھ بھی ہمارے ہاتھ میں نہیں اور ہماری روح بنا کسی چوائس یا انتخاب کے اس جسم میں ڈالی گئی ہے تو ہم اس بن خواہش لگی لاٹری جسم کے ساتھ اتنی شرمندہ اور ہچکچاہٹ زدہ زندگی کیوں گزاریں؟ اس کا ذکر چھپ چھپ کر کیوں کریں اور اس کے مسائل سے آنکھیں کیوں چرائیں اور کیوں بیماریوں کو سات پردوں میں چھپا کر رکھیں؟

یہ تھے وہ سوال جو کم عمری سے ہی ہمیں تنگ کرتے تھے اور شاید انہی سوالوں نے تب سے ہمارے ذہن میں گائنی فیمنزم کی نیو رکھی ہو گی۔

ہمیں بار بار احساس ہوتا کہ بنانے والے نے تو شاید فرق نہیں رکھا تھا مگر زمین والوں نے اپنی نظر کے زاویے بدل ڈالے۔ نہ جانے کیوں؟ وہ نظر جو لڑکی کو کسی اور طرح سے دیکھتی ہے اور لڑکے کو کسی اور طرح سے۔

ساتھ کھیلتے کودتے لڑکوں پہ نظر جاتی تو علم ہوتا کہ انہیں گویا کسی بات کی پروا ہی نہیں۔ بال جسم پہ نمودار ہو رہے ہیں، کچھ اعضا بڑے ہو رہے ہیں، جس بھی حلیے میں رہیں، جیسے مرضی اٹھیں بیٹھیں، لڑکوں کو کسی تنبیہی نگاہ کا سامنا نہیں۔ اور ادھر لڑکی کے سینے پہ ذرا سا ابھار نمودار ہوا نہیں کہ ادھر ادھر سے فہمائش ہونے لگتی،

دوپٹہ ٹھیک سے لو،
کپڑے تنگ کیوں ہیں؟
جھک کر چلو، سینہ اٹھا ہوا نہیں ہونا چاہیے۔
سینہ ڈھانپو، باپ بھائی گھر میں ہیں۔

یقین جانیے ہمیں اسی عمر میں چھاتی سے نفرت ہو گئی جو لڑکی کو انسان نہیں ایک ایسی مخلوق بنا دیتی ہے جو سوتے میں بھی چھاتیوں کو ڈھکنا اور ان کی حفاظت کرنا نہیں بھول سکتی۔ حفاظت؟

مگر کس سے؟
ان سے جو اپنے بھی ہوں؟ باپ، چاچے، ماموں، بھائی۔ باقیوں کا تو ذکر ہی کیا۔

آخر یہ سب جن سے اتنی احتیاط لازم نظر آتی ہے اسے وہ عورت کے جسم کا ایک حصہ کیوں نہیں سمجھ پاتے جسے نسل انسانی کی نمو کا کچھ ضروری کام کرنا ہوتا ہے ورنہ چھاتی تو مرد کے جسم میں بھی موجود ہے۔ بجا کہ ان میں کچھ عنصر ہیجان انگیزی بھی پیدا کر سکتا ہے اور یہ عنصر بھی غیر اختیاری ہے۔

مانا کہ عورت کا جسم مرد کے جسم سے مختلف ہے مگر عورت محض جسم تو نہیں۔ اس میں بھی ایک روح ہوتی ہے جیسی کسی بھی اور انسان کی، سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اسے بھی زندگی گزارنے کا وہی حق ہے جیسا کہ دوسرے انسانوں کو۔ اپنے مکان یعنی کہ جسم کا خیال و اختیار رکھنا اور اس کے متعلق بات کرنا اس کا حق بھی ہے اور ذمے داری بھی کیوں کہ اس جسم سے نسل انسانی کی توسیع کی توقع بھی کی جاتی ہے۔

اور اگر آپ کو اس مکان کی مضبوطیوں اور کمزوریوں ہی کا علم نہ ہو تو؟

بس ان ہی سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش ہم اب تک کر رہے ہیں۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ عورت کو اس کے جسم کی شرمندگی کے احساس سے نکال کر اسے سمجھنے، جاننے اور یقین و اعتبار کی منزل تک لے جانے کی کوشش کریں۔

مجھے یقین سا ہے کہ عورت کے ساتھ زندگی بتانے والا مرد بھی اگر سمجھنے، جاننے اور اعتبار و یقین کی یہ تگ و دو جان لے تو عورت کی زندگی یقیناً سہل ہو سکتی ہے۔ عورت جو زندگی میں بار بار موت کو قریب سے دیکھتی ہے، موت ہر حمل اور زچگی میں اسے چھو کر گزرتی ہے، ماہواری کا طوفان اگر نہ رکے تو تب بھی موت دہلیز پر آ کھڑی ہوتی ہے۔ خلوت کی اوٹ میں بھی موت پیچھا نہیں چھوڑتی اور موت کی جیت تب یقینی ہو جاتی ہے جب مرد و زن یہ جانتے ہی نہ ہوں کہ کیا ہوا اور کب کیا کیا جا سکتا ہے؟

گائنی فیمنزم اسی سوچ اور کوشش کو بیان کرنے کی اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح ایجاد کرنے کی جرات ہماری ہے لیکن اس پر اجارہ داری کا دعویٰ نہیں۔ کوئی بھی اس میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے، اسے آگے بڑھا سکتا ہے، اس کے نئے پہلو اجاگر کر سکتا ہے

فیمنزم عورت کو اپنا حق جتانا سکھاتا ہے، تاکہ وہ زندگی میں سر اٹھا کر چلے۔ لیکن اگر وہ اپنے جسم کی بھول بھلیوں اور کٹھنائیوں سے واقف ہی نہ ہو، ان کا سامنا کرنا ہی نہ جانے تو کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی؟

عورت کی زندگی، خوشی، اطمینان، حقوق اور فرائض ان مسائل کے حل سے وابستہ ہیں جو گائنی فیمنزم کا موضوع ہیں۔

بچپن میں سوچی گئی بہت سی باتوں کا جواب ہمیں گائناکالوجسٹ بن کر ملا اور ان لاکھوں عورتوں کے ذریعے جنہیں ہم نے پچھلے بتیس برس میں دینا کے مختلف حصوں میں دیکھا اور ملے۔

آخری بات، یہ سب ہم کسی یا اعزاز یا لالچ میں نہیں کر رہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمارے پاس جو تھوڑا سا علم ہے اور تھوڑی سی مختلف سوچ ہے، اس کے مطابق ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔ اس طرح شاید دنیا میں عورتوں کے حصے میں آنے والی تکلیفیں کچھ کم ہو سکیں۔

Facebook Comments HS