احساس مظلومیت اور اس کا علاج
مظلومیت کا احساس انسان کو کبھی خوش نہیں رہنے دیتا ہے۔ اس احساس کی دو وجوہات ہوتی ہیں، یا تو واقعی ظلم ہوا ہو یا پھر انسان غیر ضروری خواہشات اور امیدیں رکھے اور مایوسی کی صورت میں ہر وقت خود کو مظلوم سمجھنے لگے۔ احساس مظلومیت ایک ایسی کیفیت ہے جس کی شدت بعض دفعہ ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کر دیتی ہے۔ آپ کے آس پاس کوئی اپنا اس حالت میں نظر آئے تو ابتداء میں ہی سنبھالنے کی کوشش کریں کیونکہ اس میں بگاڑ بہت سارے مسائل کو جنم دیتا ہے اور پھر ماہر نفسیات کی مدد کے بغیر بہتری نا ممکن ہو جاتی ہے۔
ظلم کی تکلیف ختم نہ ہونے کے اسباب میں سے پہلا زیادتی کرنے والے کو غلطی کا احساس نہ ہونا
اور دوسرا سبب بدلہ اور انتقام کی آگ ہے۔ اس صورت حال سے مقابلہ کرنے کے لئے یہ سوچنا چاہیے کہ ہر کسی کا اپنا اپنا ظرف ہوتا ہے، برے کے ساتھ برا نہ کرنا اعلی ظرفی ہے۔ کسی بھی ظلم اور زیادتی کا مثبت رخ ضرور دیکھنا چاہیے۔ مشکلات ہمیں بہت کچھ بہت جلد سکھا جاتی ہیں جنہیں نارمل طریقے سے سیکھنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ جس کے اندر غم رچ بس جائے اس کو باقی لوگوں کی خوشی یا تو نظر نہیں آتی یا پھر تکلیف دیتی ہے۔
باہر کی دنیا کو انجوائے کرنے کے لئے اپنے اندر کی دنیا کو غم سے نکالنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ کسی زیادتی کے احساس کو ختم کرنے کے لئے اللہ کی مدد اور اس کی مصلحت پر یقین ہونا ضروری ہے یعنی کہ تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دیے جائیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے۔
بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
دین اسلام سے قربت مسائل کا بہترین حل ہے اور قرآن کے مطابق ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
سختی اور مشکلات زندگی کا لازمی حصہ ہیں، ان کو خود پر طاری کر لینا پریشانیاں بڑھا دیتا ہے۔
لانگ واک ٹو فریڈم نیلسن منڈیلا کی سوانح عمری ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں پہلے جیل جاتے ہیں اور پھر صدر بنتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے ستائیس سال کی قید سے آزاد ہونے کے بعد ایک خوبصورت بات کی تھی کہ انہوں نے سب کو معاف کر دیا۔ منڈیلا کے مطابق بدلہ کسی معاملے کا حل نہیں ہے، دراصل معافی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے جو مظلومیت کے احساس سے نکالتا ہے۔
ہم اکثر تعلیم کے ساتھ لفظ تربیت بھی لکھا ہوا دیکھتے ہیں لیکن بہت سارے افراد اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ تربیت کا عمل بھی ضروری ہے۔ میں پہلے بھی تعلیمی نظام میں خرابیوں کا مختصر ذکر اپنے مضامین میں کرتا رہا ہوں۔ یہ تعلیمی نظام کی خرابی ہی ہے جس نے بہت سے نفسیاتی مسائل کو معاشرے میں جنم دیا ہے۔ بچپن میں تعلیم کے ساتھ ملنے والی اچھی تربیت بڑھاپے تک کے نفسیاتی معاملات کو قابو میں رکھتی ہے۔
جب کسی شخص پر ظلم نہ ہوا ہو اور پھر بھی وہ خود کو مظلوم سمجھے، اس نفسیاتی کیفیت میں وہ ناصرف دوسروں پر ظلم کرنے لگتا ہے بلکہ ندامت کی بجائے خود پر ترس کھا کر روتا بھی ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف مظلومیت کا احساس رکھنے والے کے لیے مشکل کا باعث ہوتا ہے بلکہ ارد گرد کے باقی افراد بھی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ نفسیاتی صحت کی ایسی خرابی ہے جس کا آغاز اکثر بچپن سے ہو چکا ہوتا ہے لیکن پتا دیر سے چلتا ہے یا پھر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو مستقبل میں ایک باقاعدہ مرض بن جاتا ہے۔
دوسروں سے خود کا مقابلہ کرنا، دوسرے کے مال یا خوشیوں پر نظر رکھنا، غیبت کر کے غصہ نکالنا، ہر مرضی کی چیز دوسروں سے چھین لینے کی خواہش، نہ ملے یا کم ملے تو نفرت اور حسد میں مبتلا رہنا، کڑھتے رہنا، یہ سب وہ نفسیاتی معاملات ہیں جن کا جلد از جلد علاج ضروری ہوتا ہے ورنہ انسان ایک ایسی دلدل میں دھنستا جاتا ہے جہاں غلط کر کے بھی بے گناہی اور بے بسی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ہے۔
مال اور اعمال کو دیکھنے کی ترتیب صحیح کر لی جائے تو خود ترسی سے بچا جا سکتا ہے۔ اعمال میں خود سے بہتر کو دیکھیں اور مال میں خود سے کمتر کو دیکھیں تو شکر گزاری پیدا ہو گی۔ ہم اس معاملے کو غلط ترتیب سے دیکھتے ہیں اس لئے پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔
تعلیم، تربیت اور ہدایت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ جب ہدایت کا راستہ مل جائے تو حسد، کینہ اور نفرت کی پہچان ہو جاتی ہے، گناہ اور ثواب میں فرق نظر آنے لگتا ہے، سچ اور جھوٹ عیاں ہو جاتے ہیں اور پھر برائیوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس لئے ہر گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرے میں تعلیم کے ساتھ تربیت کا انتظام بہت ضروری ہے۔ اگر کسی کی نفسیاتی صحت بگڑتی نظر آئے تو علاج میں دیر نہ کریں۔


