تحصیل خانپور: این اے 170 اور پی پی 258 کا سیاسی منظر نامہ
چند روز بعد آٹھ فروری کو متوقع الیکشن کے تناظر میں ایک ایسی نئی اور انوکھی تاریخ رقم ہو رہی ہے کہ نہ تو اس سے پہلے اس کا کوئی نمونہ ملتا ہے اور نہ ہی آئندہ اس کی کوئی مثال دیکھنے میں آئے گی۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے بانی عمران خان سمیت پارٹی بڑے رہنما جیلوں میں ہیں۔ پارٹی کے ٹکٹ پہ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ الیکشن کی شفافیت اک تلخ سوال بنی ہوئی ہے۔
کسی کو شامیانہ بھی لگانے کی اجازت نہیں اور کہیں نوبت منہ میں نوالے ڈال کر دینے تک پہنچی ہوئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ریاست شہریوں کے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے لیکن بٹوارے کے بعد سے اب تک اس دھرتی کی آبیاری کرنے والے لاکھوں محنت کش منوں مٹی تلے سو چکے ہیں اور نسلیں ان کی جوان ہو چکی ہیں لیکن ریاست کی شفقت اور محبت ان کو نصیب نہ ہو سکی۔ ماضی کو چھوڑئیے حال کے مناظر اتنے مکروہ ہیں کہ اچھی بھلی طبیعت بھی ناس ہوجاتی ہے۔
روشنی ذرا بھی جہاں سے پھوٹتی ہے وہیں سے دھواں اٹھنے لگتا ہے اور منظر جو دلکش لگتا ہے پل میں جل کے راکھ ہو جاتا ہے۔ ملک کی بڑی اکثریت نوجوانوں پہ مشتمل ہے وہ ہی نوجوان کہ جن کو روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ نام کو الیکشن ہیں لیکن ملکی تاریخ کے متنازع ترین الیکشن قرار دیے جا رہے ہیں۔ بات صرف لاہور کی حد تک نہیں اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک صورت حال جو سیاسی اکھاڑے کی اب تک دکھائی دے رہی ہے مقبول ترین اس میں پی ٹی آئی ہی دکھائی دے رہی ہے۔
نعرہ تو مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے یہ لگایا کہ مقابلہ ان ہی دونوں جماعتوں کے درمیان ہے لیکن زمینی حقائق جس جماعت کی زیادہ مقبولیت کی نشان دہی کر رہے ہیں وہ تحریک انصاف ہی ہے۔ پنجاب بھر میں مقابلہ جس کا بھی ہو گا وہ تحریک انصاف کے ساتھ ہی ہو گا۔ وہ چاہے نون لیگ ہو یا پھر پاکستان پیپلز پارٹی۔ زیادہ تر مقابلہ البتہ تحریک انصاف کے ساتھ نون لیگ ہی کے درمیان متوقع ہے۔ یہ ہی صورت حال حلقہ NA 170 اور PP۔
258 تحصیل خانپور کی ہے۔ NA۔ 170 سے مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پہ سابقہ ایم این اے شیخ فیاض ہیں اور صوبائی سیٹ پہ ان کے ساتھ نون لیگ کے چوہدری ارشد ہیں۔ بڑی سیٹ پہ تحریک انصاف کے میاں غوث اور چھوٹی سیٹ پہ اعجاز شفیع ہیں اور جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بڑی سیٹ پہ ملک کی نامور مذہبی اور سیاسی شخصیت حامد سعید کاظمی اور چھوٹی سیٹ پہ میاں شہزاد انور نامزد امیدوار ہیں۔ جیسے ہی الیکشن مہم شروع ہوئی تو شہر میں حامد سعید کاظمی کی انٹری بھی شاندار انداز میں ہوئی اور ماحول بھی ان کے حق میں خوب بنتا دکھائی دیا۔
لیکن بہت جلد ہی اتنا کہ ابھی ٹھیک سے دیکھ بھی نہ پائے تھے کہ منظر بدل کر رہ گیا۔ جیسے جیسے الیکشن کا دن قریب تر ہوتا ہے ویسے ہی سیاسی افق کے رنگ بھی قوس قزح کے رنگوں کی طرح بدلنے لگتے ہیں۔ فی الحال شہر خانپور میں عام تاثر یہ ہی ہے کہ مقابلے کا جو میدان تحریک انصاف اور نون لیگ کے درمیان لگ چکا ہے الیکشن کے آخری دن تک اس میں تبدیلی کا امکان اب باقی نہیں۔ 2013 کے الیکشن میں خانپور سے NA 170 پہ شیخ فیاض اور PP 258 پہ اعجاز شفیع دونوں ہی مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پہ کامیاب ہوئے تھے۔
2018 کے الیکشن میں شیخ فیاض دوبارہ پھر مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اس وقت ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے میاں غوث تھے۔ جبکہPP۔ 258 سے اعجاز شفیع بطور آزاد امیدوار میدان میں اترے لیکن کامیاب نہ ہو سکے تب ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے سیٹھ ماجد اور نون لیگ کے چوہدری ارشد تھے۔ اب اس بار 2024 فروری کے الیکشن میں سیٹھ ماجد کی جگہ پی ٹی آئی کے امیدوار اعجاز شفیع اور بڑی سیٹ پہ ان کے ساتھ میاں غوث ایک بار پھر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پہ میدان میں اترے ہیں۔
یہ بجا کہ 2018 کے الیکشن میں بطور آزاد امیدوار اعجاز شفیع شکست سے دوچار ضرور ہوئے لیکن اس وقت ان کو جو ووٹ ملے وہ لگ بھگ پچیس ہزار تھے جو ان کے ذاتی ووٹ تھے۔ اب کی بار تحریک انصاف کا ووٹ بھی ان کو ملنا ہے اور یوں ان کے مد مقابل نون لیگ کے چوہدری ارشد کے مقابلے میں اعجاز شفیع کی سیاسی برتری نمایاں لگ رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف میاں غوث کے مد مقابل نون لیگ کے شیخ فیاض بھی مضبوط پوزیشن پہ کھڑے ہیں۔ شیخ فیاض پہلے بھی اس حلقے سے دو بار کامیاب ہو چکے ہیں اور اس بار بھی ان کی مضبوط سیاسی پوزیشن کی وجوہات کم نہیں۔
2013 کی کامیابی سے لے کر تا حال پچھلے دس سال کی سیاسی خدمات ان کی اس قدر زیادہ ہیں کہ ان سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں۔ وہ پنجاب کی ایک معروف کامیاب کاروباری شخصیت بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ ایک کامیاب سیاست دان بھی ضرور ثابت ہوئے ہیں روٹھوں کو منانا بھی خوب جانتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی سیاسی کامیابی کے سامنے میاں والی قریشیاں کی مشہور و معروف سیاسی بصیرت بھی ماند پڑتی دکھائی دی۔ ضلع بھر میں سیاست کا جو ستارہ شیخ فیاض کا چمکا وہ کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔
شہر خانپور اور اس کے نواحی علاقوں میں مسئلہ سوئی گیس کی فراہمی کا ہو یا سڑکوں اور میگا سیوریج کی تعمیر کا یا تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی اور کیڈٹ کالج کی بنیاد کا ہو۔ کارپٹ سڑکوں کا ہو یا گلی کوچوں کی تعمیرات اور مرمت کا ، واٹر فلٹریشن پلانٹ اور ایسے کئی رفاہی اور ترقیاتی کام ہیں جو انھوں نے شہر خانپور، کے علاوہ فیروزہ، چولستان، اور دیگر نواحی علاقوں اور چکوک میں کروائے ہیں جن کی تفصیل کے لئے ایک الگ اور مکمل کالم ہی میں ممکن ہے۔
بلا شبہ ان سیاسی خدمات کی بنا پہ ان کی شخصیت کا ایک جاندار اثر و رسوخ قائم ہو چکا ہے کہ جو فریق مخالف کی شکست کا باعث بن سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ کہ ان کے سیاسی حریف میاں غوث کو اب تک کسی الیکشن میں کوئی کامیابی بھی نہیں مل سکی یہ ہی وجہ ہے کہ انھیں اپنی سیاسی ساکھ کو اتنا مضبوط بنانے کا موقع نہ مل سکا جس کی اب انھیں ضرورت بھی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اعجاز شفیع کے ذاتی ووٹ بینک کے ساتھ پی پی ٹی آئی کے ووٹ کا فائدہ میاں غوث کو لازمی ہو گا۔
میاں غوث کی ایک خوش بختی یہ بھی ہے کہ PP۔ 258 سے پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار اعجاز شفیع اور میاں غوث دونوں کو انتخابی نشان حقہ ہی الاٹ ہوا ہے۔ دونوں کا انتخابی نشان ایک ہی ہے اور یوں پی ٹی آئی کے ووٹر کے لئے دو الگ الگ نشانات کو یاد رکھنے کی الجھن کی بجائے ایک ہی نشان پہ دو بار مہر لگانا زیادہ آسان ہو گا۔ بلا شبہ یہ میاں غوث کی سیاسی خوش بختی کا ایسا زبردست پہلو ہے جس سے شیخ فیاض کی اچھی بھلی تیرتی ہوئی ناؤ بھنور کی زد میں آ سکتی ہے۔
دوسری طرف شہر خانپور کے لئے اعجاز شفیع کی وہ سیاسی خدمات ہیں جن کو بھلانا ممکن نہیں۔ اہالیان شہر کے لئے سب سے خوبصورت تحفہ جس کا اعزاز اعجاز شفیع کو حاصل ہے وہ شہر خانپور کا وسیع و عریض سٹی پارک ہے۔ گونگے اور بہرے بچوں کے لئے سکول، بلدیہ کا خوبصورت سپورٹس کمپلیکس، سرکاری سکولوں اور گرلز کالج کی اپ گریڈیشن، یہ اور اسی طرح شہر کے گردونواح کے دیہاتی علاقوں اور چکوک کے لئے اعجاز شفیع کی سیاسی خدمات اتنی نمایاں ہیں کہ جو ان کے ذاتی ووٹ بینک میں اضافے کا باعث سمجھی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ خاص بات جو اعجاز شفیع سے بالخصوص منسوب ہے جو ان کی و جہ شہرت بھی ہے۔ یہ کہ انھیں اپنی زبان اور وعدے کی پاسداری کا پکا بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں یہ منفی رائے قائم کر ناکہ الیکشن میں کامیابی کے بعد وہ تحریک انصاف سے الگ ہو کر اپنی چارپائی نون لیگ یا کسی اور جماعت کے ڈیرے پر ڈال لیں گے انتہائی دشوار بھی ہے اور محال بھی۔ حلقے میں ان کی سیاسی خدمات بھی قابل قدر ہیں اور دوسری طرف ملک کی بڑی جماعت تحریک انصاف کا ووٹ بھی ان کو حاصل ہے جس سے ان کی کامیابی کا امکان واضح ہے۔
شہر کی ملک برادری کے مشہور و معروف سربراہ ملک عبدالرحمن کی حمایت پہلے بھی نون لیگ کے شیخ فیاض کے ساتھ رہی اور دل اب بھی ایک کا بدستور دوسرے کے سینے میں دھڑکتا ہے۔ ملک برادری کے علاوہ شہر کی سبھی اردو سپیکنگ برادریوں میں مغل، راجپوت اور قریشی برادری کا کل ووٹ بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ لیکن اس بار ان برادریوں کی حمایت تحریک انصاف کے ساتھ بھی نمایاں دیکھی جا رہی ہے۔ علاقے میں کارکردگی کی بنیاد پہ ذاتی ووٹ بینک شیخ فیاض اور اعجاز شفیع ہی کا زیادہ ہے اور پھر اپنی اپنی پارٹیوں کا ووٹ بھی ان کو حاصل ہو گا۔ یوں NA۔ 170 سے نون لیگ کے شیخ فیاض اور دوسری طرف PP۔ 258 پہ تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز شفیع کی بظاہر سیاسی برتری اس وقت تک نمایاں ہے۔ البتہ کوئی معجزہ وقوع پذیر ہو جائے تو منظر بدل بھی سکتا ہے۔


