مِس ایجوکیشن


تعلیم کو جب اقتصاد یا پھر یوں کہیے کہ روپیہ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو اس کا اصل مقصد اور اس کی تقدیس بیچ میں سے ہی کسی سمت کوچ کر جاتی ہے۔ حالات حاضرہ میں تعلیم کو نہ صرف انتہائی طور پر اقتصاد کے ساتھ جوڑا گیا ہے بلکہ اس کے ہر مقصد کا تعین تک اس کے سپرد کیا گیا ہے کہ اقتصاد ہی اب وہ واحد تعین کنندہ ہے کہ یہ ”کون کیا پڑھے گا“ اور ”کون کہاں تک پڑھے گا“ کا تعین کرنے میں اتھارٹی کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ موجودہ پاکستانی معاشرے میں اگر کوئی والد غریب ہے تو اس کا بچہ یا بچی چاہے کتنے ہی ارسطو اور افلاطون کے قبیل سے کیوں نہ ہوں، وہ آئن سٹائن کے جیسے دماغ کے مالک ہی کیوں نہ ہوں، تحریر میں چاہے ابوالکلام کے فرزند یا پھر تقریر میں بشری بی بی کے خاوند جیسا کرزما کیوں نہ رکھتے ہوں، تخلیق میں وہ تھامس ایڈیسن کے ہم پلہ یا پھر تحقیق میں ڈاکٹر جین گوڈال ہی کے صفوں میں کیوں نہ شمار کیے جانے کے قابل ہوں لیکن اگر قائد اعظمی نقش نگاری سے مزین نوٹ اس والد کے کپڑوں میں واضح طور پر دکھ نہیں رہے ہوں تو کم از کم میری نظر میں یہ والد سمیت اپنے بچوں کے تعلیمی ڈگر میں ”ہیچ“ سے بھی کمتر والی مقام پہ موجود ہوتا ہے۔

وسیع تناظر میں اگر ہم تعلیم اور پیسوں کو باربط بننے کی تاریخ میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور بطور سائل سوال کرتے ہیں کہ آیا ماضی میں بھی ان کا انحصار ایک دوسرے پر تھا یا پھر ان دو میں ہر ایک کا راستہ اپنا تھا اور یہ اپنے اپنے راستوں میں ایک دوسرے کو ’کراس‘ نہیں کرتے تھے تو جواب تاریخی اوراق سے مل جاتا ہے کہ ماضی کے پہلے پہر یعنی بعید کے حصے میں تعلیم اور اقتصاد دو انتہائی الگ الگ چیزیں تھیں اور ان کا آپس میں کوئی بھی تعلق (موجودہ رائج تصورات کی اصطلاح میں ) نہ تھا مگر جیسے جیسے ہمارے قدم ماضی سے حال کی جانب بڑھتے ہیں ویسے ویسے ان میں سے ایک کا انحصار دوسرے پہ بڑھتا چلا جاتا ہے، حتی کہ یہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔

ماضی کے دوسرے پہر یا پھر حال میں اگر ہم جائزہ لیتے ہی تو یہ پاتے ہیں کہ درحقیقت یہ لازم و ملزوم کا تصور اب ایک تصور ہی نہیں بلکہ اب ایک اصطلاح بن گیا ہے، وہ اصطلاح جسے باسیل برنسٹائن ”مس ایجوکیشن“ کے نام سے یاد کرتے ہیں، وہی مس ایجوکیشن جس کے بارے میں جو ہن ڈیوے بعد میں کہتا ہے کہ یہ اقتصاد زدہ تعلیم کی وہ بھیانک حقیقت ہے جو بچے کی تجسس، تخلیقیت، اور تنقیدی صلاحیت کا قلع قمع کرنے میں ثانی نہیں رکھتا۔

اگر ہم حقیقت کی عینک پہن کر دیکھتے ہیں تو حالات کو بالکل اسی کے مطابق پاتے ہیں، برسبیل تذکرہ آپ نے بہت کمزور مگر سرمایہ دار لڑکوں لڑکیوں کو ”اعلی تعلیم“ کے حصول میں لگے دیکھا ہو گا، ساتھ ہی آپ نے انتہائی ذہین و فطین مگر غربت زدہ طلباء کو ”ادنی تعلیم“ تک کے حصول کے لئے ترستے ہوئے دیکھا ہو گا۔ یہ اور کچھ نہیں سوائے ”مس ایجوکیشن“ کے کہ جو آہستہ آہستہ اپنی رگیں مضبوط کرتا کرتا عفریت کی صورت اختیار کر گیا اور ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔

موجودہ صورتحال کہ جس میں ہر شخص اور ہر شے ”کشمکش“ میں ہے اس عفریت کو زیر کرنا اور اسے قابو میں لانا شاید ہی ممکن رہا ہو، چاہے ہم آپ یا پھر جو کوئی بھی جتنی بھی مثبت فکر کا حامل کیوں نہ ہو کسی نہ کسی نہج پہ اس کا شکار نہ صرف ہوتا ہے بلکہ بذات خود شکار بن ہی جاتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو اپنے آس پاس نظر دوڑائیں یا پھر اپنے آپ کے ماضی و حال پہ ہی نظر دوڑا کر بتائیں کہ کیا آپ کبھی شکار بنے ہیں یا نہیں؟ اگر تو جواب ہاں میں ہے تو پھر ٹھیک ہے کہ آپ ایک صریح حقیقت کا اقرار کر رہے ہیں لیکن اگر جواب نفی میں ہے تو بھی آنکھیں کھول کر دیکھئے اور بتائیں کہ کیا آپ کے ’نفی‘ کو اثبات کا جواب مہیا کرنے میں اقتصاد کا تعلق تھا یا نہیں؟

(مضمون میں جتنی بار بھی اقتصاد کے لفظ کا تکرار ہوا ہے، برائے مہربانی اسے ہر جگہ پہ رائج الوقت کرنسی ہی پڑھا اور سمجھا جائے ) ۔

Facebook Comments HS