دستوئیفسکی کا ناول جرم و سزا
اس شاہکار ناول کے مصنف نامور روسی ادیب فیودور دستوئیفسکی ہیں۔ 1866 میں یہ ناول روس کے مشہور ادبی مجلے میں قسط ور شائع ہوا۔ 1867 میں یہ پہلی بار کتابی شکل میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد اس کا انگریزی ترجمہ کیا گیا۔ یہ ناول انسانی نفسیات اور اس کی احساسیت کو اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھ کر معاشرت پر اس کے گہرے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ سسپنس، اخلاقی مخمصوں اور نفسیاتی مسائل کی پردہ کشائی کرتی یہ کتاب شروع سے آخر تک دل چسپ ہے۔ دستوئیفسکی نے اس ناول کے ذریعے انسان سے سرزد ہونے والے جرم اور اس پر دیوانگی کی حد تک پچھتاوے کا احاطہ کیا ہے۔ یہ ناول دستوئیفسکی کے شاہکاروں میں سے ایک اہم اور با اثر کام ہے جو اسے عالمی ادب میں اہمیت دلائے ہوئے ہے۔
اس شہرہ آفاق ناول کا اردو ترجمہ ظ انصاری بھی کر چکے ہیں جب کہ ہم نے جس کتاب کا مطالعہ کر رکھا ہے اس کے مترجم تقی حیدر ہیں اور یہ ترجمہ انہوں نے 1984 میں روسی زبان سے برائے راست کیا تھا۔ کتاب مجلد ہے جو 544 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی طباعت بہترین ہے۔
جرم و سزا مفلوک الحال نوجوان رسکولنیکوف کی کہانی ہے جو پیٹرزبرگ میں زیر تعلیم ہے لیکن اسے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ادارے سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ وہ مفلس حال ہے اور نظریہ عدمیت کا بھی قائل ہے جس کی وجہ سے اس کی ذاتی و سماجی زندگی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنا ایک ذاتی نظریہ بھی خلق کرتا ہے جس کی روح سے سماج کے کچھ خاص افراد معاشرے کی بھلائی کے لیے قوانین سے ماورا ہیں اور وہ جرائم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
یہی نظریہ ایک بوڑھی عورت الیونا ایوا نوونا کو قتل کرنے کے اس کے منصوبے کی بنیاد بنتا ہے۔ ایوا نوونا لوگوں کا قیمتی سامان گروی رکھ کر انہیں قرض فراہم کرتی ہے۔ وہ اسے قتل کر کے اس کا سامان لوٹ لیتا ہے۔ اسی دوران ایوانوونا کی سوتیلی بہن لزویٹا بھی بدقسمتی سے وہاں پہنچ جاتی ہے اور اسے قتل کرتے ہوئے دیکھ لیتی ہے۔ وہ ثبوت مٹانے کی غرض سے اسے بھی مار ڈالتا ہے۔ قتل کے بعد وہ اندرونی انتشار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اس کا ضمیر ملامت کرنے لگتا ہے اور وہ پچھتاوے کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ جرم کا اقرار کرنے سے گریزاں ہے۔ اسی دوران اس کی زندگی میں ایک جسم فروش لڑکی سونیا داخل ہوتی ہے اور وہ یہ سب کچھ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کرتی ہے حالاں کہ وہ روحانی طور پر مسیحی مذہب پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ سونیا کے مضبوط مذہبی عقائد کی بدولت رسکولنکوف اپنے جرم پر ندامت محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کے متاثرکن دلائل کے سامنے اس کے خود ساختہ نظریات ڈھیر ہو جاتے ہیں اور وہ توبہ کرتے ہوئے اعتراف جرم کر لیتا ہے۔
یہ ناول انسانی نفسیات کی پیچیدگی پر تحریر کیا گیا ہے۔ دستوئیفسکی کرداروں کے ذہنوں مین ڈوبتا چلا جاتا ہے اور ان کے نفسیاتی مسائل کو منظر عام پر لاتا ہے۔ وہ اس کہانی کے ذریعے سماجی مسائل اور اخلاقی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ وہ رسکولنکوف کو مخصوص نظریہ پر من مانی کرنے میں سونیا کے ذریعے حائل ہو جاتا ہے۔ مصنف نے بڑی مہارت سے غلط اور درست کی کھوج کے راستے پر چلنے کی نشان دہی کرتے ہوئے اخلاقیات کی حد بندی کی ہے۔ مصنف نے اس کہانی کے ذریعے حد سے زیادہ تجاوز کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔
انسانی رویوں کی تبدیلی کے لیے دستوئیفسکی نے گفتگو کے عمل کو چنا ہے۔ وہ رسکولنکوف کی زندگی میں روحانی طور پر مضبوط سونیا کو داخل کرتا ہے جو اسے اعتراف جرم کے لیے راضی کرتی ہے اور اس طرح وہ تبدیلی کے عمل سے گزر کر پچھتاوے سے نجات حاصل کرتا ہے۔ وہ مذہبی اور فلسفیانہ گفتگو بھی بنتا ہے، خاص طور پر سونیا کی شخصیت کے ذریعے جو مسیحی خوبیوں کو مجسم کرتی ہے اور رسکولنکوف کو روحانی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
مصنف نے کہانی میں انیسویں صدی کے سینٹ پیٹرزبرگ کی سماجی تصویر پیش کی ہے، جس میں وہ شہری زندگی، غربت و فلاس اور اخلاقی زوال کی تلخ حقیقتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ناول کے مرکزی خیال کو بیان کرنے کے لیے مختلف علامتوں اور تمثیلی عناصر کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سینٹ پیٹرزبرگ شہر کو سماجی اور اخلاقی پسماندگی کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ وہ زندگی کے معنی اور مقصدیت کی تلاش کے ساتھ ساتھ رب کے ساتھ انسانی تعلق کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
دستوئیفسکی نے بہترین کردار نگاری کے ذریعے کہانی اور اس میں شامل دیگر موضوعات کو ماہرانہ انداز سے آگے بڑھایا ہے۔ ہر کردار ایک منفرد نقطہ نظر کا حامل ہے۔ وہ ناول میں ذاتی تعلقات اور اخلاقی الجھنوں کو دریافت کرتا ہے۔ ناول کا اختتام ممکنہ نجات اور روحانی تجدید پر ختم ہوتا ہے۔ یہ قارئین کو امید کا احساس دلاتا ہے اور اخلاقی قدروں کو بڑھانے کی طرف راغب کرتا ہے۔ مجموعی طور پر، دوستوفسکی کا یہ ناول بصیرت سے لبریز ہونے کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ مواد کی لازوال مطابقت کے ساتھ قارئین کو مسحور کیے ہوئے ہے۔


