پاکستان سے پولیو کا خاتمہ افغان مہاجرین کے مکمل انخلا کے بعد ہی ممکن ہے


پولیو مائیلائٹس، جسے عام طور پر پولیو کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک متعدی بیماری ہے جو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے (لیکن یہ کسی بھی عمر کے فرد کو متاثر کر سکتی ہے جسے ویکسین نہ لگائی گئی ہو) ۔ یہ بیماری پولیو وائرس نامی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پولیو کو عام طور پر ایک معذور بیماری کے طور پر جانا جاتا ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے، جس سے میزبان کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے کالم (وہ شخص جو وائرس سے متاثر ہوتا ہے ) پر حملہ کرنے والے وائرس کے نتیجے میں پٹھوں کے فالج (حرکت کرنے میں ناکامی) کا باعث بنتا ہے۔

تاریخی طور پر پولیو سے بچاؤ کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں تھی۔ 1937 اور 1997 کے درمیان، 400,000 سے زیادہ امریکیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پولیو کا شکار ہوئے۔ یہ وائرس اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے، جس سے جزوی یا مکمل فالج ہوتا ہے، اور اس کے نتیجے میں سانس لینے میں دشواری یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدنام زمانہ ”آئرن لنگ“ کو پولیو میں مبتلا ان لوگوں کے لیے زندگی بچانے والے علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جنہیں سانس لینے میں تکلیف ہوتی تھی۔

1950 کی دہائی میں پولیو کے کیسز اور اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بارے میں لوگ بہت زیادہ خوف زدہ ہو گئے تھے، اس خوف سے کہ ان کے بچوں کو بیماری لگ جائے گی بہت سے لوگوں نے تیراکی، سینما گھروں اور عوامی مقامات پر جانے سے مکمل طور پر گریز کیا تاکہ بیماری کا کوئی امکان نہ ہو۔ لوگ اجنبیوں سے رابطہ کرنے سے خوفزدہ تھے اور بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ غیر معمولی رابطہ۔ جیسے مصافحہ تک بھی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔

1950 کی دہائی میں پولیو ویکسینیشن کو عوام میں استعمال کرنے کی منظوری ملی۔ 1955 میں جونس سالک نامی شخص کی طرف سے تیار کردہ ویکسین شروع کی گئی۔ یہ شاید طبی تاریخ کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک تھی۔ جب اعلان عام ہوا تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے، بہت سے لوگ خوشی سے رو رہے تھے۔ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی ویکسین کی آمد پر اتنی خوشی نہیں منائی گئی جتنی پولیو کی ویکسین کی دریافت پر منائی گئی۔ حیران کن طور پر ، ویکسین کی دستیابی کے صرف دو برسوں کے اندر، امریکہ میں پولیو کے کیسز کی تعداد میں 85 سے 90 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔

زیادہ تر لوگ جو پولیو وائرس سے متاثر ہوتے ہیں ( 100 میں سے تقریباً 72 ) ان میں کوئی ظاہری علامات نہیں ہوتیں۔ پولیو وائرس کے انفیکشن والے چار افراد میں سے تقریباً ایک میں فلو جیسی علامات ممکن ہے۔ یہ ”فلو جیسی“ علامات، جنہیں غیر مفلوج پولیو بھی کہا جاتا ہے، عام فلو کی علامات کی طرح ہوتے ہیں اور عام طور پر دو سے پانچ دن تک رہتے ہیں۔ غیر مفلوج پولیو کی علامات کسی قسم کی مداخلت کے بغیر ختم ہو جاتی ہیں، پولیو وائرس سے متاثر ہونے والوں کی کل تعداد میں سے، ایک چھوٹی تعداد (ہلکے فلو جیسی علامات والے افراد سے ) سنگین علامات پیدا کرتی ہیں۔

جیسے کہ اعصابی نظام (دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے کالم) سے متعلق علامات، جنہیں سب سے زیادہ سنگین سمجھا جاتا ہے، غیر مفلوج پولیو جو بخار اور سر درد کی طرح ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ، زیادہ سنگین علامات ظاہر ہوتی ہیں جیسے، اضطراب، پٹھوں میں شدید درد، فلاکیڈ فالج (فلاپی اعضاء) پیرستھیزیا ٹانگوں میں جھنجھلاہٹ، ”پن اور سوئیاں“ کا احساس گردن توڑ بخار (دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو ڈھانپنے والی جھلیوں کا انفیکشن) ، جو پولیو کے شکار 25 میں سے ایک شخص میں ہوتا ہے۔

فالج (جسم کے حصوں کو حرکت دینے میں ناکامی) یا بازوؤں اور /یا ٹانگوں میں کمزوری، جو کہ پولیو میں مبتلا 200 میں سے ایک میں ہوتا ہے۔ سانس لینے کے لیے درکار عضلات کے فالج سے مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پوسٹ پولیو سنڈروم یعنی پولیو سے مکمل طور پر صحت یاب ہونے والے تمام افراد علامات سے پاک نہیں رہتے۔ کچھ بچے جوانی کے دوران کمزوری، پٹھوں میں درد، یا فالج کا شکار ہوتے ہیں اسے پوسٹ پولیو سنڈروم کہا جاتا ہے۔

پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں کئی طریقوں سے پھیلتی ہے۔ پولیو وائرس صرف انسانوں میں ہوتا ہے۔ ایک بار ہونے کے بعد ، متعدی وائرس متاثرہ شخص کی آنتوں اور گلے میں رہتا ہے۔ کچھ دنوں بعد ، یہ علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی، ایک شخص سے دوسرے شخص کے رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ جب کسی متاثرہ شخص کا پاخانہ (گندگی کے کھانے میں شامل ہونے کے سبب) کسی دوسرے شخص کو متعارف کرایا جاتا ہے تو بیماری پھیل جاتی ہے۔

یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب پینے کے پانی یا کھانے کی آلودگی ہوتی ہے، جسے ”فیکل۔ اورل ٹرانسمیشن“ کہا جاتا ہے۔ ٹرانسمیشن کا ایک اور عام طریقہ ڈراپلیٹ اسپریڈ کہلاتا ہے۔ اگرچہ یہ موڈ فیکل۔ اورل ٹرانسمیشن سے کم عام ہے، لیکن یہ چھینکنے یا کھانسی سے متاثرہ بوندوں کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ پولیو کا کوئی موثر علاج معلوم نہیں ہے، ماسوائے فالج کے علاج (کسی شخص کو آرام دہ رکھنا) اور پیچیدگیوں سے بچاؤ۔ یہی وجہ ہے کہ مکمل طور پر ویکسین لگوانا بہت ضروری ہے۔

پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی دو مختلف اقسام ہیں۔ پہلی کو زبانی پولیو وائرس ویکسین (OPV) کہا جاتا ہے، جو منہ سے لی جاتی ہے، اور دوسری غیر فعال پولیو وائرس ویکسین (IPV) ہے، جسے خون میں داخل کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں 2000 سے ویکسین کی صرف IPV شکل استعمال کی گئی ہے۔ تاہم، دنیا کے دیگر حصوں میں، OPV اب بھی استعمال ہوتا ہے۔ 100 میں سے 99 ایسے بچے جنہیں مکمل طور پر اورل پولیو ویکسین پلائی جائے گی، پولیو سے محفوظ رہیں گے۔

اب دنیا پولیو سے محفوظ ہو چکی ہے۔ لیکن پاکستان اور افغانستان وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو اب بھی موجود ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل پولیو سے بچاؤ کی ویکسین بچوں کو دی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود اس موذی مرض کا خاتمہ نہیں ہو رہا۔ اس کی ایک ہی بنیادی وجہ ہے۔ وہ یہ کہ پولیو ویکسین پاکستان میں موجود تمام بچوں کو تاحال نہیں دی گئی۔ اس کے بھی محرکات کئی ایک ہیں۔ سب سے بڑی وجہ جہالت ہے یعنی پولیو ویکسین کے بارے میں من گھڑت خدشے پھیلائے گئے جس کی وجہ سے آن پڑھ والدین اپنے بچوں کو پولیو کی ویکسین دینے سے انکاری ہیں۔

دوسری سب سے بڑی وجہ ہے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزین جو پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور سرحدی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں جن کی اصل اور صحیح تعداد ابھی تک پاکستان کے اداروں کے پاس نہیں ہے۔ یہ افغانستانی زیادہ تر ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں حفظان صحت کی سہولت میسر نہیں۔ اس وجہ سے ان علاقوں کا پانی آلودہ رہتا ہے۔ اس آلودہ پانی سے پولیو مزید پھیل رہا ہے۔ ان بستیوں تک جن میں یہ افغانستانی شہری آباد ہیں پولیو کی ویکسین مہم کامیابی کے ساتھ نہیں پہنچائی جاتی اور یہ افغانستانی شہری تعلیم یافتہ اور شعور نہ ہونے کی وجہ سے شعوری طور پر اپنے بچوں کو یہ قطرے نہیں لینے دیتے۔

پھر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر یہ خاندان بھی خود تک رسائی نہیں دیتے۔ جس کی وجہ سے یہ موذی بیماری اس ملک سے ختم نہیں ہو رہی۔ مختلف ادوار میں پاکستانیوں پر اس سلسلے میں سفری پابندیاں بھی لگائی گئیں اگر صورتحال یہی رہتی ہے تو مستقبل قریب میں بھی پاکستانیوں پر بیرون ملک سفر پر مزید سختی کی جائے گی۔ پولیو سے بچاؤ کے مہم پر پاکستان میں حملے روز کا معمول ہیں۔ ان حملوں میں اب تک دو سو سے زیادہ پولیو ویکسین ورکر اور پولیس کے جوان شہید ہوچکے ہیں۔

یعنی کچھ گروہ ایسے ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ کہ یہ پولیو ویکسین مہم کامیابی سے ہمکنار ہو۔ اس وقت افغان شہری اپنے ملک واپس جا رہے ہیں۔ اگر ان کے سب بچوں کو سرحدی گزرگاہوں میں یہ ویکسین پلائی جائے تو اس سے بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اس سال بھی پاکستان اور افغانستان دونوں کو سفری پابندیوں کے زمرے میں رکھا ہے۔ اگر تمام افغانستانی شہری اپنے ملک چلے جائیں تو یہ مرض پاکستان سے بھی دنیا کی طرح ختم ہو سکتا ہے۔

وہ علاقے جہاں افغانستانی شہری رہتے ہیں، یعنی کراچی، پشاور، کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، بنوں اور وزیر ستان کے پانی کے نمونوں میں اس وائرس کی موجودگی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ان علاقوں میں تمام بچوں کو ویکسین نہ دی جائے یا پھر ان لوگوں کو ان علاقوں سے نکال کر ان کو اپنے ملک نہ بھیجا جائے۔ پاکستان جہاں پچیس برس پہلے اس پروگرام کا آغاز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) ، عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) ، روٹری انٹرنیشنل اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور حکومت پاکستان کے تعاون سے ہوا تھا۔

ایک عمومی خیال یہ بھی ہے کہ اس میں بہت زیادہ فنڈنگ آتی ہے۔ جس کے لیے بھی اس مرض کو یہاں سے مکمل ختم کرنے میں مشکلات ہیں۔ اگر ایسا ہے تو حکومت کو سختی کے ساتھ ان لوگوں سے پیش آنا چاہیے جو ایسا کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ اس مرض کی موجودگی کی وجہ سے پاکستانی دنیا کے ائرپورٹوں پر مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو یہ مشکلات مزید بڑھ بھی سکتی ہیں۔ ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا چاہیے ورنہ ہم مزید تنہائی کا شکار ہوجائیں گے۔

پولیو کا خاتمہ اس وقت ہو سکتا ہے جب تین برس تک کوئی بھی پولیو کا کیس رپورٹ نہ ہو۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں میں رپورٹ ہونے والے کیسوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور جہاں سے یہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں وہاں کے گٹروں کے پانی کے نمونوں میں اس وائرس کا پایا جانا خطرے کی علامت ہے۔ افغان جنگ نے جہاں پاکستان کی معیشت تباہ کی ہے، پاکستان میں اسلحہ اور منشیات کلچر کو فروغ دیا ہے، امن و امان کی صورتحال خراب کی ہے، سمگلنگ کی وبا یہاں پھیلائی ہے وہاں پاکستان کے باسیوں کے لیے صحت کے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ اگر حکومت پاکستان اپنے حالیہ اقدامات کو دوام دے اور افغانستانی شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیج دے تو دیگر مسائل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اس ملک سے پولیو جیسے موذی مرض کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS