ایک ثانیے میں پورا جسم مفلوج مگر عابد انوار میاں ہارا نہیں، گھبرایا نہیں
عزم، ہمت اور رب پہ بھروسا کی منفرد داستان
عابد اپنا ٹرک وسیع پارکنگ یارڈ میں اپنی مخصوص پارکنگ سپاٹ پر کھڑا کر اپنی کار کی طرف بڑھ رہا تھا کہ یاد آیا کہ ابھی جو اس نے اپنے دوست کے دفتر میں جانا ہے اس سے متعلقہ کاغذات تو ٹرک سے لئے ہی نہیں۔ وہ مڑا اور بجائے ڈرائیور سائڈ کے پیسنجر سائڈ کے پائیدان پہ کھڑا ہو دروازہ کھول فائل نکالی اور واپس اترنے لگا۔ کتنے پائیدان اترنے ہیں، غلطی لگی، وہ لڑکھڑایا، توازن بگڑا اور پشت کے بل جو گرا تو گردن کا ایک مخصوص مہرا ساتھ والی سپاٹ میں کھڑے ٹرک کے پائیدان کے کنارے سے جا ٹکرایا۔
بس اسے وہاں نیچے گرنا یاد ہے۔ چند لمحوں بعد اوسان کچھ بحال ہوئے تو اٹھنے کی کوشش کی۔ جسم بے حس تھا اور ہلنے سے قاصر۔ ہاتھ ہلانے کی کوشش کی۔ بے کار۔ گردن مڑنے سے جواب دے چکی تھی مگر اوسان پورے بحال ہو چکے تھے۔ اپنی حالت پہ غور کرتے اسے احساس ہو گیا کہ اس کا پورا جسم ساکن اور بے حس و حرکت ہو چکا۔ شاید چوٹ وجہ ہے، ابھی ٹھیک ہو جائے گا، کی امید جلد دم توڑ چکی تھی۔ اب وہ بلند آواز سے چیختے مدد مدد پکار رہا تھا۔ تب اسے یاد آیا کہ یہاں تو بعض اوقات گھنٹوں کوئی نہیں آتا، یا آتا بھی ہے تو فاصلہ اتنا زیادہ ہو سکتا ہے کہ آواز نہ پہنچے۔ دماغ اور ذہن اب پورا کام کر رہا تھا۔ ایسا نہ ہو انرجی ختم ہو جائے۔ یہ سوچتے پکارنا بند کر دیا اور محض خدائے برتر سے ”اک تیرا سہارا“ کی دعا فریاد ہی باقی تھی۔
یہ سوچ کہ شاید کوئی ادھر سے گزر جائے یا چاپ سنائی دے تو وہ پکار لے۔
عابد کے دوست نے گھڑی دیکھی عابد نے پہنچنے میں دیر لگا دی تھی۔ وہ تو کبھی چند منٹ بھی لیٹ نہ ہوا تھا۔ کوئی پون گھنٹہ قبل عابد کا فون آیا تھا کہ ٹرک یارڈ کے قریب پہنچ چکا ہے اور ٹرک کھڑا کر پندرہ بیس منٹ میں پہنچ رہا ہے۔ ابھی دفتر بند نہ کرنا۔ اب وہ عابد کو فون کر رہا تھا۔ اور ہر دو منٹ بعد دوبارہ فون ملا رہا تھا۔ فون کی گھنٹی عابد کو بتا رہی تھی کہ اس کا موبائل ہاتھ کی انگلیوں کے شاید بالکل پاس ہی گرا پڑا ہے۔
مگر وہ پکڑنے سے لاچار تھا۔ فریاد تیز ہو چکی تھی۔ ادھر ”خیریت ہو سہی“ کا الارم اس کے دوست کے ذہن میں گونج رہا تھا۔ اس نے دفتر بند کیا اور ٹرک یارڈ کو چل دیا۔ ٹرک کھڑا تھا، کار پارک میں کار موجود تھی مگر عابد؟ دوبارہ ٹرک کے پاس آیا۔ آہٹ سنتے ہی عابد کی مدد کی پکار آئی اور اب وہ نائین ون ون ( 911، یہاں ایمرجنسی نمبر ) سے رابطہ کر مدد کی درخواست کر رہا تھا۔ چند منٹ بعد ایمبولینس، پولیس کاریں کھڑی تھیں۔ پیرا میڈکس اپنے کام میں جت چکے تھے اور ہسپتال میں رابطہ کرتے صورت حال بتا رہے تھے۔ گمبھیرتا کا احساس ہوتے ہی ایمبولینس اسے لے سائرن بجاتی سو کلو میٹر سے زیادہ دور ہیملٹن کے ایسے امراض کے مخصوص ہسپتال کی طرف فراٹے بھرتی جا رہی تھی اور اس کا دوست اس کے گھر والوں کو مطلع کر پیچھے روانہ ہو چکا تھا۔
ہر طرح کی چھان بین اور بھر پور کوشش کی ناکامی کے بعد ڈاکٹر عابد کی بیوی کو بتا رہے تھے کہ گردن کا مخصوص مہرہ پائیدان کے کنارہ سے ٹکرا پورا جسم مفلوج کر چکا ہے، اگر یہ ڈیڑھ انچ فاصلے والے مہرے پہ ٹکراتا تو عابد خدانخواستہ دماغ اور چہرے سمیت مکمل مفلوج ہو سکتا تھا۔ اور محض ایک بے جان سا مگر زندہ لوتھڑا ہو سکتا تھا۔ ( یہ سنتے میرے ذہن میں فلم ”منا بھائی ایم بی بی ایس“ کا ”سبجیکٹ“ کہلاتا مریض گھومنے لگا ) بہر حال اب عابد مکمل ہوش و حواس کے ساتھ اپنے مستقبل کا پورا ممکنہ ادراک کرتا صورت حال کا مردانگی سے مقابلہ کرنے کا عزم کر چکا تھا اور خود گھر والوں کو تسلی دے رہا تھا۔
ابتدائی معمولی جسمانی چوٹوں کا علاج کرتے چند روز بعد دوسرے ہسپتال میں پیچیدہ آپریشن کیا گیا اور مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر اسے اب طویل المدت معذوروں کی بحالی مرکز ( لانگ ٹرم ری ہیبیلیٹیشن سنٹر ) ٹورنٹو منتقل کیا جا چکا تھا۔
کاروباری تعلق گہری دوستی میں بدلتے میاں آٹوز بس سٹینڈ فیصل آباد کے میاں انوارالحق اور باری سنز کے میاں غلام باری ( بعد میں آئر لینڈ کی گارمنٹس چین باری سنز ) کے، اپنے سامنے پلے بڑھے بچوں میں سے کئی کے ساتھ میرا تعلق اب بھی قائم ہے۔ نوے کی دہائی کے اواخر میں عابد کی شادی کینیڈا ہوئی، نئی صدی کے پہلے سال ہمیں بھی مقدر نے کینیڈا لا بٹھایا۔ عابد کو پتہ لگا تو پھر میل ملاقات شروع تھی اور اکثر سال میں ایک آدھ بار ملاقات اور تین چار بار فون پر لمبی گپ شپ ہوتی۔
گزشتہ جولائی کے اواخر میں آئر لینڈ کے میاں غلام باری کے بیٹے نعیم باری کا فون آیا۔ ”چاچا جی۔ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ عابد کا کوئی شدید ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ میں کئی فون کر چکا جواب نہیں مل رہا۔ پتہ کریں“ یہی کہہ سکا کہ چند ماہ قبل لمبی بات ہوئی تھی۔ پتہ کرتا ہوں۔ کئی دن لگاتار فون کرتے پیغام چھوڑتے گزر گئے۔ جواب نہ آیا اگست میں ایک روز فون کی گھنٹی بجی۔ عابد کا فون تھا۔ وہی کھنکتی شگفتہ اور صحت مند آواز۔
ایسے جیسے مکمل صحت مند خوش باش بندہ بول رہا ہو۔ میں خوش ہو کے کہہ رہا تھا، شکر ہے تمہاری یہ بھرپور صحت مند لگتی شگفتہ آواز سنی۔ میں نے تو تمھارے شدید حادثہ کی خبر سنی تھی۔ اس کا بھر پور قہقہہ سنائی دیا اور پھر اگلا ایک گھنٹہ وہ اپنی اوائل جون کی ایک شام کی آپ بیتی سنا رہا تھا۔ میرے آنسو نہ تھم رہے تھے اور وہ بار بار دہرا تھا۔ چاچا جی خدائی تقدیر ہے۔ میں معذور ہوں مایوس نہیں میری ہمت جوان ہے، میرا عزم اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے دن بدن بڑھ رہا ہے۔ میرا یقین خدا تعالیٰ پہ پختہ ہے کہ میری سنے گا اور میں صحت کی طرف لوٹوں گا۔ میرے معالج ناقابل یقین حد تک میرے جسم کی حرکت بحال کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ آپ غمگین نہ ہوں میں راضی برضا اور اسی سے فریادی ہوں۔
تئیس ستمبر کی شام ہم باپ بیٹا ایک خوب صورت سر سبز پارک لگتے علاقے میں واقع بحالی مرکز میں داخل ہوتے کمرہ نمبر ایک میں داخل ہو رہے تھے۔ وہیل چیئر پہ بازو، ٹانگیں، پاؤں خصوصی بنے شکنجوں پہ ٹکائے گئے تھے۔ کمر کے نچلے حصے اور بازو کندھے سیفٹی بیلٹس کے ذریعہ کرسی سے بندھے لڑھکنے سے محفوظ کیے گئے تھے۔ گلے ملتے میری حالت غیر اور گلا آواز نکالنے سے قاصر تھا۔ مگر عابد شگفتہ لہجے میں مجھے تسلی دیتے کہہ رہا تھا کہ میرا آنا تو اس کا حوصلہ مزید بلند کر گیا۔
اس کے منہ کے سامنے سپیکر تھا دائیں بائیں دو سکرینیں تھیں سامنے میز پہ اس کا موبائل پڑا تھا۔ اسی اثناء میں نرس آ چکی تھی۔ عابد نے اسے سپیکر اور ویڈیو سکرینیں بند کرنے کی درخواست کہ سب کچھ کنٹرول میں ہر وقت سامنے تھا۔ اور کنٹرول روم کی سکرین مریض کی حرکت دکھاتی اور مدد کی ضرورت محسوس ہوتے متعلقہ عملہ چند ثانیوں پہنچ سکتا ہے۔ یا سپیکر سے بلایا جا سکتا ہے۔ ہمیں ذرا ہٹ کرسیوں پہ کچھ دیر بیٹھ انتظار کرنے کی درخواست کرتے، نرس نے وہیل چیئر میز کے سامنے جسم کے بالکل قریب کی۔
اب عابد کا کھانا میز پر تھا۔ کچھ نرم غذا سوپ انڈے وغیرہ۔ نرس ایک مادر مہربان کی طرح عابد کے منہ میں ڈالتی۔ دہانہ صاف کرتی اپنے کام میں مگن تھی اور ہم کمرے کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک بڑا کمرہ جس میں چار بستر تھے اور ہر ایک ہٹائے جا سکنے والے پردے کے ذریعہ پرائیویسی محفوظ کر رہا تھا۔ ہر طرف بے شمار مشینیں تھیں۔ مگر سب سے زیادہ میری توجہ چھت پر لگی ایک مضبوط پٹری نے کھینچی جس کے ساتھ ایک بڑے سے ڈبے میں نکلتا مضبوط زنجیر کے ساتھ کنڈا لٹک رہا تھا۔
نرس کھانا کھلا جا چکی تھی اور ہم گپ شپ کر رہے تھے۔ وہ اپنے ساتھ بیتی واردات کی جزئیات دوہرا رہا تھا۔ ساتھ ہی حالات حاضرہ، بچپن کے قصے بھائی بہنوں عزیزوں کی کہانیاں۔ گپ شپ ایسے ہو رہی تھی جیسے ایک مکمل صحت مند شخص بے فکر ہو دوستوں میں بیٹھا ہو۔ میرے لئے اس کی ہمت، حوصلہ اور خدا پہ پورے توکل کے ساتھ یقین کہ ذات باری اس کے لئے معجزانہ راہ نکالے گی۔ اور وہ اپنی قوت ارادی اور خدا کے فضل سے اس ابتلا کو شکست دے گا، ایک ناقابل یقین خوش گوار حیرت کا باعث تھا۔
وہیل چیئر کو اس کے جسم اور حالت کے مطابق ڈھالا گیا تھا اور ایک طرف روزانہ ورزش فزیو تھراپی، مالش وغیرہ اس کے اعضاء کو حرکت کے قابل لانے کی سر توڑ کوشش تھی تو دوسری طرف تحقیقی تجربے کیے جا رہے تھے کہ کسی طرح ایسا میکانزم وہیل چیئر پہ فٹ کیا جا سکے کہ مریض خود اسے چلا گھما پھرا سکے اور معذور ہوتے بھی خود باہر آ جا سکے۔ معاشرے کا فعال رکن بن سکے۔ گردن دائیں بائیں اوپر نیچے کرتے سامنے لگے سینسر وہیل چیئر کو چلا سکیں۔
یہ کوشش گردن کے کم از کم مطلوبہ حرکت کے قابل نہ ہونے کی وجہ نا قابل عمل ٹھہری تو منہ کی پھونک پہ کام شروع ہوا۔ اس وقت تک اس میں بھی کامیابی نہ ہوئی تھی۔ اگلا قدم آنکھ اور اس کی پتلیوں سے سکرین متحرک کرنے کا تصور تھا۔ کنڈے کے متعلق پوچھا۔ یہ ڈبہ کرین کے سرے کی طرح پٹری پر چلتا کمرے کے چاروں مریضوں کے بستر کے نزدیک پہنچتا۔ جب رفع حاجت کا وقت ہو یا اور ضرورت۔ مریض کے جسم، کمر، رانوں اور کندھے کے نیچے بیلٹوں گزار کے اس کنڈے کو نیچے لا، کنڈے کے ذریعہ اوپر اٹھایا جاتا۔ اور خصوصی جال نما جھولے میں بٹھا نیچے کموڈ رکھ اس پہ بٹھانا سہل ہوتا ہے اور مریض سہولت سے فارغ ہوتا ہے۔
عابد بتا رہا تھا کہ تقریباً روزانہ معذوروں کی مخصوص وین اسے کمیونیٹی سنٹر لے جاتی ہے جہاں کچھ وقت گزر جاتا ہے۔ یا معائنہ اور علاج کے لئے مختلف ہسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے۔ ہفتہ وار چھٹیوں کی سہ پہر کے علاوہ شاید ہی کوئی وقت ہو جب وہ زیادہ دیر تک فارغ ملاقاتیوں کو وقت دے سکتا ہے۔ بیوی اپنے جاب سے فارغ ہوتے روز آتی ہے بڑی بیٹی یونیورسٹی سے فارغ حال ہی میں کام پہ لگ چکی ہے دوسری بیٹی زیر تعلیم ہے۔ گھر والے اس صورت حال سے سمجھوتہ کر چکے ہیں۔
اور ہمسایوں نے بغیر کہے بھاری کاموں کی ڈیوٹی سنبھال لی ہے۔ لان کا گھاس کاٹنا، کیاریوں کی دیکھ بھال کے علاوہ ہر قسم کی مدد کے لئے ہردم حاضر۔ وہ رطب اللسان تھا اور شکر گزار کہ وہ کینیڈا میں ہے۔ اسلامی فلاحی ریاست کے تصور پہ پوری طرح عامل ملک۔ جہاں مریض کی ہر طرح خدمت اور دیکھ بھال بغیر کسی معاوضہ لالچ بلکہ شکریہ تک کی خواہش نہ ہوتے چوبیس گھنٹہ مہیا تھی۔ اس کا اندازہ تھا کہ صرف اس پہ محکمہ صحت ہزاروں ڈالر روزانہ خرچ کر رہا ہے۔
ہم واپسی کے لئے کار میں بیٹھ چکے تھے۔ میرا خیال اسی کی طرف تھا۔ اور مجھے یہاں دوسرے عوارض کے علاوہ اپنے دل ناداں کی نادانیوں اور اس کے علاج اور علاج کرتے مختلف مذاہب، مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں، مددگاروں نرسوں اور ہر شعبہ کے عملہ میں سے آج تک کسی ایک سے بھی کام چوری، کم خدمت، کسی بھی کسی قسم کے مذہبی، نسلی، ملکی تعصب کی ایک جھلکی نظر نہ آئی تھی۔ ”اگر ہم پاکستان میں ہوتے؟“ یہ سوچتے ہی میں کانپ اٹھا تھا۔
مجھے فیصل آباد کا ایک مجاہدانہ ہسپتال یاد آ رہا تھا۔ جہاں تیتیس برس قبل اچانک دل کا دوسرا دورہ ہوا تو گھر کے قریب ہونے کی وجہ سے پہنچا تو ایک بہت متشرع داڑھی اور اونچی شلوار پہنے ڈاکٹر نے مجھے دیکھنے تک سے انکار کر دیا تھا، کہ وہ جمعۂ المبارک کی نماز کے لئے نکل رہے ہیں اور میرے ایمرجنسی بتانے پر ”مجھے کیا پتہ کہ آپ مریض ہیں یا مارفین کا ٹیکہ لگوانے کا بہانہ کر رہے ہیں“ کہتے ہوئے باہر بھاگ گئے تھے۔
اور مجھے اپنے کارڈیالوجسٹ کو فون تک کرنے کی اجازت نہ دی تھی۔ مجھے گورنمنٹ کالج کے نزدیک روشنی کے مینار ہسپتال یاد آیا جہاں ڈاکٹر حبیب گابا نے مجھے بھجوایا اور وہاں ای سی جی کے لئے ( اس وقت رائج ) تاروں کے کنکشن بجائے لوشن کے منہ کی تھوک سے لگائے گئے تھے اور مانیٹر تو لگا تھا اس وقت شاید تین چارسو روزانہ اس کی فیس تھی مگر اسے مانیٹر کرنے والا کوئی نہ تھا۔ مجھے پیپلز کالونی کا نہر کنارے شاہی نام والا ہسپتال یاد آیا جہاں مجھے ستانوے میں اچانک ہارٹ اٹیک ہوتے داخل ہونا پڑا اور ان کے پاس بہت نیچے جاتے بلڈ پریشر کو لیول پہ لانے کا کوئی ذریعہ تھا نہ ہی آکسیجن۔
نتیجتاً انتہائی شدید دورہ پڑ گیا۔ ڈاکٹر گابا کے فوراً پہنچنے اور خدا کے فضل اور عزیزوں دوستوں کی دعاؤں سے ہوش آ گیا اور مجھے بیٹا فوراً ایمبولینس ( جی ہاں اتنی صاف اور اعلیٰ جیسے ابھی بچڑ خانے سے گوشت ڈھو کے آئی ہو ) الائیڈ ہسپتال کے انتہائی صاف ستھرے آئی سی یو میں صرف پینتیس بلڈ پریشر کی حالت میں پہنچایا گیا ڈاکٹر عامر شوکت اور اس کے جاں فشاں ساتھیوں ( جو اکثر صرف سٹوڈنٹ ڈیوٹی ڈاکٹر تھے ) نے نصف گھنٹے میں خطرے کی حد سے باہر کر لیا۔
وہ بتا رہے تھے کہ جو ٹیسٹ شاہی ہسپتال میں کیے گئے تھے ان میں سے اسی فیصد غیر ضروری تھے اور کئی کا رزلٹ وہ لکھا تھا جو زندہ انسان کا ممکن ہی نہیں تھا۔ آج بھی اس ڈاکٹر اور اس کے ساتھیوں کے لئے دعا نکلتی ہے۔ پتہ نہیں کہاں ہوں گے۔ میاں محمد ہسپتال اور ڈی ایچ کیو اور الائیڈ ہسپتال کا تجربہ میرا ان اعلیٰ پرائیویٹ ہسپتالوں سے بدرجہا بہت بہتر تھا۔ جہاں بہت پہلے اور بعد میں دو تین مرتبہ جانا ہوا۔
عابد سے اس کے بعد دو تین مرتبہ فون پہ بات ہوئی۔ الحمدللہ انتہائی ہشاش بشاش، خوشگوار لہجہ میں بچپن سے لے جوانی تک کی یادیں۔ دوستوں تعلق والوں کے تذکرے۔ بھائی بہن اور خاندان کی باتیں پاکستان کے سیاسی حالات پہ بحث اور اپنی عادت کے مطابق فلسفیانہ گفتگو۔ اور عزم کہ انشاءاللہ خدا تعالیٰ کوئی معجزہ دکھا اسے صحت کی طرف لے جائے گا۔ گھنٹہ گھنٹہ بھر گپ شپ۔
نومبر کے تیسرے ہفتہ بیگم عابد کو ملاقات کی خواہش کا پیغام بھیجا تو جواب آیا بحالی مرکز میں بہت نئے اور شدید فوری ضرورت والے مریض آ جانے کی وجہ سے اسے گھر بھیجا رہا ہے اور پچیس نومبر کی اس کے گھر کے باہر خوش آمدید کہتے فوٹو مجھے مل گئی۔ اور مجھے ملاقات کے لئے اس کے گھر میں ایڈ جسٹ ہو جانے تک انتظار کرنے کا کہا گیا۔ چند روز بعد پھر بات کرائی گئی۔ اپنے گھر اپنے بچوں کے پاس آنے کی خوشی اور راحت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
وہ بتا رہا تھا ایک نرس دن کو ایک رات کو اس کی دیکھ بھال کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ معذوروں کے لئے مخصوص گاڑی تقریباً روزانہ اسے سیر یا ورزش کے لئے کمیونیٹی سنٹر یا معائنہ کے لئے ہسپتال لے جاتی ہے۔ فزیو تھراپی اور ہاتھوں پیروں وغیرہ کے لئے متعلقہ ورزشیں کرنے والے باقاعدہ گھر آتے ہیں۔ پیرا میڈیکس ایمبولینسوں کا مرکز اتفاق سے اس کے نزدیک ہی ہے۔ فون کرنے چند منٹ بعد ان کی گاڑی پہنچ جاتی۔ بیگم اور بچے اپنی ڈیوٹی اور ملازمت پڑھائی وغیرہ اپنے معمول کے مطابق کر رہے ہیں۔ اور پھر وہی لمبی گپ شب اور ہمت نہ ہارنے اور امید اور خدا کے خصوصی فضل کی توقع۔
اسے چند دن کے لئے پھر بلڈ پریشر اور بلیڈر انفیکشن کے علاج کے لئے ہسپتال جانا پڑا اور پھر کھانسی زکام نزلہ۔ قومی نشاں ہمارا، ہمارے گھر پہ قابض ہو گیا اور ملاقات ملتوی ہوتی رہی اب پھر چند روز بعد کا وقت مقرر ہوا ہے۔ اس کی پاٹ دار امید اور ہمیں بھی تسلی دیتی اپنا ہمت نہ ہارنے کا عزم دہراتی آواز چند روز پہلے پھر سنائی دی اور گپ شپ رہی۔ اور اسی وقت میں نے اس سے اس کی داستان ”ہم سب میں، اصلی نام کے ساتھ شائع کروا سکنے کی بھی اجازت لی۔
یہ حوصلہ، یہ عزم اس صورت حال میں کوئی آسان یا عام بات نہیں۔ اور اس تحریر کے ہر قاری کی دلی دعاؤں کی متقاضی ہے۔ اس کی صحت کاملہ و عاجلہ کے لئے دعا کی درخواست ہر قاری سے دوبارہ ہے


