سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس دس سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
منگل کو سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مقدمے کی سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا کا فیصلہ دیا ہے۔
سزا سنائے جانے کے وقت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز خصوصی عدالت میں زیر سماعت سائفر کیس میں رات گئے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف 25 گواہان کے بیانات قلمبند کر لیے گئے تھے۔ سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کیس میں تمام 25 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کر لی گئی۔
کمرۂ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب عدالت نے عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے روسٹرم پر بلایا تو ان سے کہا کہ اگر وہ عدالت کو کچھ بتانا چاہتے ہیں تو عدالت کو بتا دیں۔ جس پر عمران خان نے کہا کہ میں عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔
عدالت نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا سائفر آپ کے پاس ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا اور وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری میری نہیں ہے بلکہ وہاں پر ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری بھی ہوتے ہیں۔
صحافی رضوان قاضی کے مطابق جب عمران خان روسٹرم سے نیچے اترنے لگے جس کے بعد عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بھی روسٹرم پر بلا لیا اور دونوں کو روسٹرم پر ہی سزا سنا دی اور مزید جرح نہیں ہوئی۔
جیل حکام کے مطابق خصوصی عدالت کے جج مختصر حکم نامہ سنا کر اٹھ کر چلے گئے اور فریقین کی طرف سے حتمی دلائل بھی نہیں دیے گئے
سائفر کیس فیصلے پر عمران خان کا پیغام: ’آئینی تقاضوں اور قانونی ضابطوں کو روندتے ہوئے جھوٹے مقدمات کا ٹرائل مکمل کیا جا رہا ہے‘
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس دس سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر عمران خان کا پیغام جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اس فیصلے کو قانونی ضابطوں اور آئینی تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔
سائفر کیس پر عمران خان کا پیغام:
میرے پاکستانیو! آپ سب نے یقیناً اب تک میرے وکلا سے سن لیا ہوگا کہ کس طرح آئینی تقاضوں اور قانونی ضابطوں کو روندتے ہوئے سائفر سمیت دیگر جھوٹے کیسز کا ٹرائل مکمل کیا جارہا ہے۔
یاد رکھیں کہ سائفر وہ کیس ہے جس کو دو دفعہ اسلام آباد ہایئکورٹ کالعدم…
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) January 30, 2024

