امن اور مذہبی تنظیموں کا کردار
امن معاشرے کی ایسی کیفیت کا نام ہے جہاں روزمرہ کے معاملات معمول کے ساتھ بغیر کسی پرتشدد اختلافات کے چل رہے ہوں۔ یعنی ایسا معاشرہ جہاں زندگی کے معاملات پرسکون اور صحت مندانہ طریقے سے جاری و ساری ہوں۔
بین الاقوامی سطح پر امن کا مطلب ہے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی رضامندی اور بھائی چارے کے تعلقات قائم ہوں اور اختلافات اور جنگ کی صورتحال سے معاشرے کو محفوظ رکھ کر اس کی کامیابی اور ترقی کی باگ ڈور میں اہم ترین کردار ادا کیا جا سکے۔ اسلام ایک امن اور آشتی کا مذہب ہے جو بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور مل جل کر ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کے ساتھ چلنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اسلام ہی وہ دین ہے جو ایک زندگی کا مکمل ضابطہ حیات بھی ہے۔
اس لیے اس کے ماننے والے لوگ چاہے کسی بھی فرقے یا تنظیم سے تعلق رکھتے ہوں ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ معاشرے میں امن و امان کے عمل کو قائم رکھنے میں اپنا اہم اور کلیدی کردار ادا کریں کیونکہ اسلام امن و سلامتی رواداری اور مساوات کا مذہب ہے جس میں انسانیت کی فلاح و بہبود، کامیابی و کامرانی امن و سلامتی طمانیت و سکون کا راز چھپا ہوا ہے اس لیے ایسے
لوگ جو اسلام کے خلاف طرح طرح کے پروپیگنڈے کرتے ہیں اس کے تقدس کو پامال کرتے ہیں ہر طریقے سے اس کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے ہر دہشتگردانہ کارروائیوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے منافق لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
معاشرے میں امن کے قیام کے عمل میں مذہبی جماعتوں کا بھی ایک اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ مذہبی رہنماؤں اور ان کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ عالمی سطح پر اسلام کے موقف کو اجاگر کریں۔ اپنے ملک میں اور عالمی سطح پر تمام اسلامی ممالک کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایسے معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کریں جو نہ صرف پرامن اور متنوع ثقافتوں کا مجموعہ
ہو بلکہ وہ انتہا پسندی، جرائم اور تنازعات کے خلاف مزاحمت بھی کریں۔ پاکستان میں بھی مذہبی جماعتوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے پاکستان کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک اتنے سالوں میں مذہبی جماعتوں نے مختلف صورت حال میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کے اندر ہونے والے مسائل کے حل کے لیے مختلف محاذوں پر قابل قدر کامیابی حاصل کی ہے۔
جب بھی پاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت اور دہشت گردی کی زد میں آیا انہی جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں میں سے بہت سے لوگوں نے بھڑکتی آگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1973 کے آئینی نظام کی تشکیل کے عمل میں دینی و مذہبی جماعتوں نے اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ مذہبی معاملات کے علاوہ سیاسی میدان میں بھی دینی جماعتیں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں لیکن جب مذہبی جماعتیں
اپنے اپنے مفادات کے لیے احکام الہی کو بھول کر حق اور سچ کا ساتھ دینے کے بجائے ایسے لوگوں کا ساتھ دیں جو امن و امان کی صورتحال کو خراب کریں چاہے وہ ملکی سطح پر ہوں یا عالمی سطح پر وہ احکام الہی کے منکر ٹھہرتے ہیں۔ ملک کے اندر مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت اور دہشت گردی میں محراب و منبر کا غلط استعمال ہوا جس سے ایک طرف اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثر عام ہوا تو دوسری طرف نوجوان نسل کو اسلام سے متنفر کرنے کا باعث بنا، آئیے پاکستان میں بڑی مذہبی جماعتوں کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
جماعت اسلامی کی ایک فکری تاریخ ہے۔ یہ قائم ہی اقامت دین کے لئے ہوئی تھی، جس کا ایک پہلو سیاسی غلبہ ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس کا ایک فکری نظام تشکیل دیا۔ اس کے بعد اس کی تنظیم سازی کی۔ حکمت عملی کے باب میں بھی ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ یہ منصوص ہے یعنی سیرت پیغمبر سے ماخوذ ہے۔ مولانا مودودی نے سیاست کو ایک دینی فریضے کے طور پر متعارف کرایا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ جب جماعت اسلامی قائم ہوئی تو وہ جمعیت علمائے ہند اور مسلم لیگ دونوں سے الگ تھی اور دونوں کی ناقد بھی۔
یہ دونوں جماعتیں وطن کی آزادی کی تحریکیں تھیں۔ مسلم لیگ نے اپنا دائرہ کار مسلمانوں کے سیاسی و اقتصادی مفادات کو قرار دیا، جماعت اسلامی کا منشور بالکل واضح تھا، جماعت اسلامی نے ہر دور میں اپنی پالیسی کو قدرے تبدیل کیا۔ انہوں نے اسلام کے نفاذ کے لیے ہمیشہ پر امن جد و جہد کی۔ اور آج تک جاری و ساری ہے۔ انہوں نے کبھی پر تشدد پالیسی کو اپنے منشور کو حصہ نہیں بنایا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) اور س دونوں سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں، جمعیت علمائے اسلام ف ملک کی تقریباً سب سے بڑی مذہبی و سیاسی جماعت ہے۔ پاکستان میں اس کی سیاسی و مذہبی جد و جہد بالکل واضح ہے جمیعت علمائے اسلام کا منشور ایک اسلامی جمہوری حکومت کا قیام ان کی منزل ہے۔ 9 / 11 کے بعد جس طرح مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی جماعت کو تشدد یا بندوق کی طرف جانے سے روک کر پر امن طور پہ اپنی آواز پاکستان سے لے کر اقوام متحدہ تک پہنچائی وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپنے نوجوان کارکنوں کے ہاتھوں میں بندوق کی بجائے جماعت کا پرچم اور قلم پکڑایا۔ ہر دور میں افغانستان کی بدلتی صورت حال پہ انہوں نے تحمل، بردباری اور اعلیٰ ظرفی کے ساتھ خوب صورت کردار ادا کیا۔
تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی
تبلیغی جماعت کی ابتداء 1926 میں ہریانہ کے میوات سے ہوئی۔ میوات کے علاقے میں مسلمانوں کی بڑی تعداد رہتی تھی، جنہوں نے عہد وسطیٰ کے اخیر میں اسلام قبول کیا تھا۔ وہ نیم مسلم اور نیم ہندو تہذیب کے زیرسایہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس دوران اس علاقے میں شدھی تحریک شروع ہوئی، جس کا مقصد مسلمانوں کو ہندو بنانا تھا، جبکہ اسی دوران انگریز بھی مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششیں کرنے لگے۔ ان کوششوں سے بعض مسلمان ارتداد کا راستہ بھی اپنا چکے تھے۔
بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس رحمہ اللہ نے مسلمانوں کے ایمان کا خطرہ محسوس کیا اور مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور سے اپنا درس و تدریس کا کام چھوڑ کر مسلمانوں کی اصلاح کا کام شروع کیا۔ وہ میوات کے مسلمانوں کی اصلاح کے کام میں مصروف ہو گئے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس اصلاحی جماعت کے کام سے متاثر ہو کر سیدھے راستے پر چلنے والے افراد کی تعداد کا شمار آسان نہیں ہے، ان میں شوبز، سپورٹس، بزنس، سیاست سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کی ایک بڑی تعداد بھی ہے۔
تبلیغی جماعت کسی نئے نظریہ یا کسی نئے مقصد کی داعی نہیں، بلکہ صرف اپنی اور امت کی اصلاح کے لیے محنت اور قربانی کی دعوت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری تنظیموں اور انجمنوں کی طرح اس تحریک کا کوئی دستور یا منشور نہیں۔ کوئی دفتر یا رجسٹر نہیں اور نہ ہی کوئی ممبر یا عہدیدار ہے۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی جداگانہ نام تک نہ رکھا گیا۔ اس اصلاحی جماعت کے بانی مولانا الیاس رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ یہ نام ”تبلیغی جماعت“ ہم نے نہیں رکھا۔
ہم تو بس کام کرنا چاہتے تھے، اس کا کوئی خاص نام رکھنے کی ضرورت بھی نہ سمجھی تھی۔ لوگ کام کرنے والوں کو تبلیغی جماعت کہنے لگے، پھر یہ اتنا مشہور ہوا کہ ہم خود بھی کہنے لگے۔ یہ مکمل طور پر غیرسیاسی اور قانون کی پابند جماعت ہے۔ اس جماعت پر بارہا پابندی عاید کرنے کی کوشش بھی کی گئی، لیکن اس خیال کے حاملین کو ایسا کوئی موقع نہیں مل سکا۔ تبلیغی جماعت کے طریقہ کار اور ان کے نصاب میں ایسا کوئی پوائنٹ انہیں نظر نہیں آیا جسے بہانہ بنا کر ان پر پابندیاں عاید کرتے۔ اس جماعت کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ہے کہ اس نے حکومت سے ٹکرانے کی کوشش کی ہو اور نہ ہی کبھی اس جماعت پر دہشت گردی کی معاونت کرنے کا الزام لگایا گیا۔ یہ ایک مکمل پر امن تحریک ہے اور ہمیشہ تشدد کی مخالفت کرتی آئی ہے۔
کوئی ایسا کیس بھی ابھی تک سامنے نہیں آیا کہ اس جماعت نے کبھی قانون کی خلاف ورزی کی ہو یا کسی بھی مذہب یا مسلک کو اس طرز عمل سے کوئی ٹھیس پہنچی ہو۔ فرقہ واریت کو ختم کرنا ان کے منشور میں شامل ہے۔ یہ لوگ تمام مسالک کی مساجد میں جاتے ہیں۔ تمام فرقوں کے لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں اور تمام مسالک کے لوگوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ جب تک ہم مسلمان نبی علیہ السلام کے دیے گئے روشن اصولوں پر نہیں چلیں گے، اس وقت تک دنیا میں ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ تبلیغی جماعت فرقہ واریت کے خلاف اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔
دعوت اسلامی جو ایک عالمگیر منظم دینی اور غیر سیاسی تحریک ہے اس کے دعوت و تبلیغ کے کام کا عملی ڈھانچہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک طرف ہزاروں، لاکھوں مبلغین ہیں جو یہ عزم لئے ہوئے ہیں کہ ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ عالم اسلام کی بہت بڑی تحریک“ دعوت اسلامی ”اسلام کی انہی روشن تعلیمات کے مطابق معاشرے میں اچھائی کے فروغ اور افراد کی ذہنی و فکری تربیت کے ذریعے انہیں معاشرے کا بہترین فرد بنانے کے لئے دنیا بھر میں کام کر رہی ہے۔
دعوت اسلامی اب تک ایسے بے شمار افراد کو راہ راست پر لانے اور انہیں اچھا انسان بنانے کا کام کرچکی ہے جو پہلے معاشرے کے بدترین افراد سمجھے جاتے تھے مزید یہ کہ امن عامہ کو خراب کرنے والے ایسے عادی مجرم جو مختلف جیلوں میں سزائیں کاٹ رہے ہیں دعوت اسلامی جیلوں میں جا کر ایسے افراد کی بھی ذہن سازی کر رہی ہے تاکہ وہ آئندہ ایسے جرائم کا ارتکاب نہ کریں، نیک مسلمان اور اچھے انسان بنیں۔
عالمی امن عامہ اور دعوت اسلامی: اسلام کا ایک بہت ہی خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے مختلف قوموں اور رنگ و نسل کے لوگوں کو (یعنی مسلمان بھائی بھائی ہیں ) (پ 26، الحجرات: 10 ) کے رشتے میں جوڑ دیا ہے، یہ وہ رشتہ ہے جو تمام فاصلوں اور سرحدوں کے باوجود ایک دوسرے کے قریب کر دیتا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، یہ دوریاں مٹا کر لوگوں کو جوڑتا ہے، نفرتیں مٹا کر محبتیں بانٹتا ہے۔
قارئین کے لیے ایک عالمی مثال بھی اس میں شامل کرتے ہیں دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی والی سرزمین، مگر پاکستان، افغانستان، ایران، عراق، شام اور لیبیا جیسے مسلم ممالک کے مقابلے بالکل پرسکون۔ سیاسی ٹکراؤ نہ مذہبی جنگ۔ نفرت نہ تشدد، مسلکی منافرت نہ فرقہ وارانہ تناؤ۔ پر امن شہری رواداری کے علمبردار ہیں، دراصل انڈونیشیا میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی طرح ہی کثرت میں وحدت دیکھنے کو ملتا ہے۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ انڈونیشیا ایک جمہوریہ ملک ہے اور خود کو ایک مشترکہ قوم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
رواداری اور بقائے باہمی یہاں کو شہریوں میں بھری ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں کوششوں کے بعد بھی اسلامی بنیاد پرستی یہاں پنپ نہیں پا سکی ہے۔ بڑی ذمہ داری کے ساتھ تمام انڈونیشی جمہوری اقدار کی پیروی کرتے ہیں ایک دوسرے کے عقیدوں کا احترام کرتے ہیں۔ اس کا سہرا ملک کی نہیں بلکہ دنیا کی چند سب سے بڑی تنظیموں میں سے ایک نہدل العلماء یا نہضۃ العلماء کے سر جاتا ہے۔ جس نے ملک کے مسلمانوں کو ہر قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کے منفی اثرات سے ہمیشہ محفوظ رکھا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ سنی مسلمانوں کی یہ تنظیم 31 جنوری 1926 ء میں ایک جدت پسند تنظیم محمدیہ کے رد عمل میں قائم ہوئی۔
انڈونیشیا میں اس مذہبی مہم یا تحریک نے انڈونیشیا کے مسلمانوں کو مشرق وسطی کی سیاست اور القاعدہ و داعش کی دہشت گردی کے شکنجے سے محفوظ رکھا۔ اس سرزمین پر 700 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن ان کی مختلف زبانیں ملک کے ایک لہجے کی تقلید کرتی ہیں۔ جغرافیائی طور پر انڈونیشیا 17000 جزیروں پر مشتمل ملک ہے، آبادی تقریباً 26 کروڑ ہے۔ انڈونیشیا میں تقریباً 23 کروڑ مسلمان، 3 کروڑ عیسائی۔ صرف یہی نہیں، یہاں ہندوؤں اور بودھوں کی بھی بڑی آبادی ہے۔ لیکن ملک میں کوئی فرقہ وارانہ ٹکراؤ نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آج پوری دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں انڈونیشیا کی مثال سامنے رکھتے ہوئے امن عامہ میں کردار ادا کریں۔ دنیا میں تمام انسانوں کے رہنے کے لیے ضروری ہے کہ مذہب اسلام کے مذہبی رہنما امت کو یہ سمجھائیں۔ کہ معاشرے میں برابری کی بنیاد پر رہا جائے۔ کسی کو کسی پر حق جتانے یا زور زبردستی سے مذہب یا مسلک تبدیل کروانے کا حق حاصل نا ہو۔ تمام مذہبی قائدین صبر و تحمل اور برداشت کے ساتھ عہد کریں۔ کہ امن کو امن سے ہی قائم کیا جائے گا۔

