عاشق ویسل (Aşık Veysel)


عاشق ویسل Aşık Veysel ترکیہ کے معروف لوک شاعر اور لوک گلوکار تھے۔ وہ بچپن میں ہی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے تھے لیکن قدرت نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا جسے عاشق ویسل نے بروئے کار لا کر دنیا میں اپنا نام اور مقام بنایا۔ ترک لوک شاعری اور گلوکاری میں ان کا نام اور کام بہت اہمیت کا حامل ہے۔

عاشق ویسل 25 اکتوبر 1894 کو ترکیہ کے شہر سیواس کے علاقے سیوری الان میں پیدا ہوئے اور 78 سال کی عمر میں 21 مارچ 1973 کو وصال پا گئے۔

عاشق ویسل کا اصل نام ویسل شاطر اولو تھا اور تخلص اور ادبی نام عاشق ویسل۔ نابینا ہونے کے باوجود خدا نے انہیں شعر کہنے کے ساتھ ساتھ خوش کن آواز بھی دی تھی جسے عاشق ویسل نے اپنی صلاحیت اور محنت سے مزید بہتر کیا۔ انہوں نے بچپن ہی سے شعر کہنا شروع کر دیے تھے۔ خوبصورت اور مسحور کن آواز نے انہیں منفرد بنا دیا۔ ان کے اشعار میں سوزو گداز، امن و آشتی، پیار و محبت اور عشق کے جذبات نمایاں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اتحاد و یگانگت، احساس ہمدردی اور حب الوطنی بھی ان کے کلام میں حد درجہ موجود ہے۔ ان کے مشہور کلام میں ”سیاہ مٹی“ ، ”دوست مجھے یاد کریں گے“ ، ”خوبصورتی بے قیمت ہے“ ، ”میں ایک طویل اور باریک راستے میں ہوں“ وغیرہ آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔

عشقیہ اور رومانوی شاعری میں ان کا رتبہ خاصہ بلند ہے۔ ان کے اشعار و کلام کی زبان انتہائی سادہ اور روزمرہ بولی جانے والی زبان ہے۔

وہ نہ صرف خود شعر کہتے تھے بلکہ اسے گاتے بھی تھے اور خوبصورت آواز بھی رکھتے تھے۔ ان کی آواز و اشعار میں سوز و گداز کے ساتھ ساتھ اخلاقی اسباق اور دنیا کی بے ثباتی بھی موجود ہے۔ وہ طنبور کا ساز بجانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کے ہاتھ میں اکثر طنبور ہوتا تھا۔ وہ اکثر گاتے اور گنگناتے دکھائی دیتے تھے۔ ان کے کلام کو ترکیہ کے مشہور گلو کاروں اور صدا کاروں نے گایا اور پڑھا ہے۔ ان میں ترکان، بارش مانچو، گلدین کارا بجیک، ابراہیم تتلے سیس، سیلدا باجان، حالوک اور حمیرہ شامل ہیں۔

عاشق ویسل کے والد احمد کاراجا ایک کسان جبکہ ان کی والدہ گلزار بی بی ایک گھریلو خاتون تھیں۔ عاشق ویسل کی دو بہنیں تھیں۔ روایت کے مطابق چیچک کی وبا کی وجہ سے وہ بچپن ہی سے بینائی سے محروم ہو گئے تھے۔ اس وقت ان کی عمر سات سال تھی جب وہ اس بیماری کا شکار ہوئے۔ یوں اس مرض کی وجہ سے دونوں آنکھوں سے بینائی کی نعمت کھو بیٹھے۔ عاشق ویسل کے باپ نے انہیں کھیلنے کے لیے ایک چھوٹا سا گٹار لے کر دیا تاکہ وہ وقت گزاری کر سکیں۔

عاشق ویسل نے اس گٹار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ شروع شروع میں وہ اس گٹار کے ذریعے دوسروں کا کلام پڑھتے اور گاتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ خود بھی شعر کہنا شروع ہو گئے اور اپنا کلام خود گانے لگے۔ ان کی شہرت ارد گرد پھیلتی گئی اور وہ اپنے دور کے نامور شعراء اور گلوکار جانے جانے لگے۔ اب وہ مشاعروں میں بھی اپنا کلام پڑھنے لگے تھے اور ترکیہ میں جانے پہچانے جانے لگے تھے۔ لوگ انہیں اپنی محفلوں میں بلاتے اور ان کا کلام شوق سے سنتے۔

وہ ترکیہ کے قریہ قریہ، گاؤں گاؤں اور شہر شہر گھومنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے آلات موسیقی پر اتنی مہارت حاصل کر لی کہ وہ اس کی تعلیم بھی دینے لگے۔

عاشق ویسل کا کلام ان کے بچپن کے استاد اور دوست بحری شاطر اولو نے جمع کیا اور اسے کتابی شکل دے کر محفوظ کر دیا۔ ان کی شاعری پر مشتمل درج زیل کتابیں ہیں ؛

نمبر 1 : کہاوتیں 1944
نمبر 2 : میرے ساز کی صدائیں 1950
نمبر 3 : دوست مجھے یاد کریں گے 1970

1973 میں انہیں کینسر کا مرض لاحق ہوا جس سے ان کی وفات ہوئی۔ حکومت ترکیہ نے ان کی قبر پر خوبصورت مزار تعمیر کیا۔ ان کے نام سے میوزیم قائم کیا۔

عاشق ویسل کلچر فاؤنڈیشن اور عاشق ویسل ٹیکنیکل سکول کے علاوہ ان کے نام سے موسوم دیگر تنظیمیں بھی قائم ہیں جو ان کی یاد میں قائم ہوئی ہیں اور ان کے افکار و خیالات کی فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔

1984 میں ان کے تمام کلام کو یکجا کر کے ”مجموعہ اشعار“ کے نام سے شائع کیا گیا۔ ان کے اشعار اور کتب کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

2023 کے سال کو ان کی 50 ویں برسی کی مناسبت سے ”عاشق ویسل کا سال“ قرار دیا گیا۔
نمونہ کلام
ویسل ادھر ادھر، دائیں بائیں مت جا
اللہ سے اتحاد اور اتفاق مانگ
تنہائی سے بلائیں اور تکلیفیں نازل ہوتی ہیں
ہمارا راستہ انسانیت ہے
اللہ سے انسانیت مانگ
۔ ۔
میں ایک طویل اور باریک راستے میں ہوں
میں دن رات چلتا ہی جا رہا ہوں
مجھے نہیں معلوم کہ میں کس حال میں ہوں
میں دن رات چلتا ہی جا رہا ہوں
میں پیدائش کے وقت سے اب تک چلتا ہی جا رہا ہوں
دن رات، رات دن
اگرچہ مصافت اور منزل ایک منٹ کی دوری پر ہے
پر میں چلتا ہی جا رہا ہوں
رات دن، دن رات
مجھے نہیں معلوم کہ میں کس حال میں ہوں
چلتا ہی جا رہا ہوں۔

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti