اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے


کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کتاب پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن میں اس کی تعریف میں یا اس پر تبصرہ لکھنے کے لیے ہزاروں جملے ترتیب وار سامنے کھڑے نظر آتے ہیں لیکن کوئی کوئی کتاب اپنے اندر اس قدر کاملیت لیے ہوتی ہے کہ آپ اس کی شان میں اگر کوئی قصیدہ بھی لکھ دیں تب بھی اس کا حق ادا نہیں کر پاتے۔ سر مستنصر حسین تارڑ کے لکھے ناول ”منطق الطیر، جدید“ کے بارے میں بھی کچھ لکھنے سے میرا قلم قاصر ہے۔ اس بات میں شک نہیں کہ میں سر تارڑ کے سفر ناموں کی سب سے بڑی مداح ہوں لیکن ”منطق الطیر، جدید“ بلاشبہ وہ ناول ہے جو بقول سر تارڑ اگر خود ان کا بھی پسندیدہ ہے تو وہ اس پسند میں حق بجانب ہیں۔ میرا قلم ابھی اتنا پختہ نہیں کہ میں سر کے کسی ناول پر مفصل تبصرہ کر سکوں لیکن پھر بھی اپنی سی ایک ادنیٰ کوشش ضرور کرنا چاہوں گی کہ یہ اس ناول کا حق ہے کہ اس پر بات کی جائے۔

منطق الطیر فرید الدین عطار کا لکھا ناول ہے جس میں انھوں نے تیس پرندوں کے ایک سفر کی کہانی لکھی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کو پڑھنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ سر تارڑ فرید الدین عطار کو اپنا مرشد مانتے ہیں کیونکہ سر تارڑ کے لکھا ہر ناول یا سفر نامہ اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک اس میں کسی پرندے کا ذکر نہ ہو اور یہ ذکر بس سرسری سا نہیں ہوتا بلکہ بیان کیا گیا پرندہ اپنی پوری جزئیات کے ساتھ اس سفرنامے یا ناول میں آپ پر آشکار ہو تا ہے اور یہ سر کے قلم کا کمال ہی ہے کہ وہ پرندے اس کہانی میں پوری طرح مدغم ہو جاتا ہے۔

منطق الطیر جدید کی کہانی بھی گیارہ پرندوں کے سفر کی ایک روداد ہے جسے اس قدر دلچسپ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو بھی اسی سفر میں پاتا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار موسیٰ حسین ایک پینٹر ہے جو جہلم سے بیس کلو میٹر فاصلے پر موجود ٹلہ جو گیاں کا رخ کرتا ہے۔ حالانکہ عمر اور بیماری نے موسیٰ پر اپنا کاری وار کر دیا ہے لیکن وہ پھر بھی وہاں جانا چاہتا ہے کیونکہ اس کے اندر کا مصور ہر نئے منظر کو اپنی آنکھ کے لینس میں مقید کرنا چاہتا ہے۔

اس کے وہاں جانے کی ایک اور وجہ یہ بھی خیال کی جا سکتی ہے کہ اتنے دولت اور شہرت کے باوجود موسیٰ خود کو خالی خالی محسوس کرتا ہے کیونکہ وہ لاولد ہے۔ اس کی بیوی صفوراً جو خود بھی ایک مصور ہے ان دونوں کی زندگی کے کینوس میں اولاد نام کے رنگ بھرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ یوں دونوں بظاہر خانگی لیکن در اصل ایک ناگوار رشتے میں استوار ہیں۔ موسیٰ حسین کی ایک ماڈل اسے مشورہ دیتی ہے کہ وہ ٹلہ جوگیاں میں واقع پورن بھگت کے کنویں پر جائے اور اولاد کی منت مانگے کیونکہ اس کنویں کے لیے یہ مشہور ہے کہ وہاں ہزاروں کی تعداد میں بے اولاد جوڑے جاتے ہیں اور باریاب ہوتے ہیں۔

موسیٰ اس بات کا ذکر صفوراً سے کرتا ہے تو وہ اس کے توہمات پر اس کا مذاق اڑاتی ہے اور ساتھ جانے سے انکاری ہوتی ہے تب موسیٰ اکیلا ہی ٹلہ جوگیاں کی جانب سفر کرتا ہے۔ اس سفر کی روداد اس قدر خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے کہ موسیٰ کے پاؤں میں آنے والا ایک ایک پتھر قاری کو خود بھی چبھتا محسوس ہوتا ہے۔ اس سفر میں موسیٰ کے ہم سفر جو پرندے ہیں وہ محض اس کے تخیل کی کرشمہ سازی ہیں لیکن ناول کی بنت ان پرندوں کو قاری کے سامنے ایک مجسم شکل میں لے آتی ہے۔

ایک پرندہ حضرت موسیٰ سے منسوب ہے جو طور کا پرندہ ہے۔ ایک حضرت عیسیٰ سے منسوب ہے جسے ابن مریم کا پرندہ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ پھر ایک وہ پرندہ بھی تھا جو گوتم بدھ کی پسلیوں سے بر آمد ہوا اور صفحہ قرطاس پر اڑان بھر گیا۔ سب سے خوبصورت بیان غار حرا کے پرندے کا تھا کہ اس پرندے کو آنحضرت ﷺ کے کاندھے پر بیٹھنے کا شرف حاصل تھا۔ پھر ایک پرندہ جو بلخ کے کھنڈرات سے بلند ہوا اور پرواز بھر گیا کہ جس نے رومی اور شمس کی محبت دیکھی تھی۔ ایک پرندہ وہ بھی تھا جو خاتون عجم قرۃالعین طاہرہ کے پیراہن میں بیٹھا تھا اور ان ہی کی طرح انتہائی صابر تھا۔ ایک پرندہ منصور حلاج کا بھی تھا جو ان کے بریدہ بدن سے نکلا تھا۔ یعنی کل سات پرندے اپنے وقت کی پیمائش سے نکلے اور اپنے اپنے سچ کی تلاش میں ٹلہ جوگیاں کی جانب عازم سفر ہوئے۔

اس سفر میں موسیٰ کو ان پرندوں کے علاوہ کچھ اور انسان بھی نظر آئے جو اسی کی طرح ٹلہ جوگیاں کے راہی تھے۔ لیکن ان کا بیان بھی اس قدر خوبصورت تھا کہ لگا ہم بھی ساتھ ساتھ ان سے مخاطب ہیں۔ جیسے کہ اونچی پونی ٹیل والی وہ لڑکی جو زندگی سے مشابہ تھا یا وہ گڈریا جس سے موسیٰ حسین نے حضرت عیسیٰ سمجھ کر باتیں کیں۔ جیسے جیسے موسیٰ ٹلہ کی اونچائی تک پہنچتا رہا ویسے ویسے ناول بھی منظر نگاری اور مکالمہ سازی کی انتہاؤں پر پایا گیا۔

آگے بڑھتے ہوئے آٹھواں پرندہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا جسے پہلے پہل اس طرح خوش آمدید نہ کہا گیا جیسے ان ساتوں نے ایک دوسرے کو کہا تھا کیونکہ اس پرندے کا تعلق بندرابن سے تھا وہ پرندہ کرشن کی مرلی کی تان سے نکلا تھا۔ شاید یہ عقیدے کی دوری تھی جو ان پرندوں اور کرشن کے پرندوں کے بیچ حائل ہو گئی تھی لیکن جب کرشن کے پرندے نے بھی اسی سچ کا ذکر کیا جس کی تلاش میں وہ ساتوں نکلے تھے تو یوں وہ بھی اب ان میں سے ایک ہو گیا۔ اسے بھی اپنا مان لیا گیا کہ سچ صرف قاف اور ٹلہ جوگیاں میں ہی نہیں بلکہ بندرابن میں بھی پنپ سکتا ہے۔

ابھی ان پرندوں کی عالمانہ گفتگو سے سیرابی نہیں ہوئی تھی کہ ان ساتوں کے ساتھ مزید تین پرندے بھی جڑ گئے لیکن ان کی خاصیت یہ تھی کہ وہ ان کی آٹھوں کی طرح عشق حقیقی کے بجائے عشق مجازی کے علمبردار تھے شاید اسی لیے وہ خود کو ان میں سے سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان تین میں سے ایک پرندہ صاحباں کا تھا جو آج بھی مرزا کے عشق میں گرفتار ہے، ایک سوہنی کا تھا جو ہر رات کچے گھڑے کو اپنی محبت کے سہارے مہینوال کے پاس جانے کے لیے استعمال کرتی ہے اور ایک ہیر تھی جس کا رانجھاں اپنے کان چھدوا کر اس کی جدائی میں درویشی اختیار کر گیا ہے۔

یہ تین پرندے جانتے تھے کہ عشق حقیقی والے پرندے انھیں درخور اعتناء نہیں سمجھیں گے اس لیے وہ صرف موسیٰ سے مل کر اپنی اڑان بھر گئے۔ جب ان ساتوں پرندوں کو پتہ چلا کہ وہ تینوں ان سے ملے بغیر ہی پرواز کر چکے ہیں تو وہ ساتوں موسیٰ سے خوب لڑے کہ اس نے انھیں کیوں جانے دیا کیونکہ وہ آپس میں گفت و شنید کر کے اس بات کا اندازہ لگا چکے تھے کہ عشق حقیقی ہو یا عشق مجازی دونوں کی ڈور عشق سے بندھی ہے اور عشق تو دوسروں کی خوشی میں خوش ہوتا ہے وہ خود کو سب سے جدا نہیں کرتا بلکہ پانی کی طرح ہر ایک میں مدغم ہو جاتا ہے۔

جب ان ساتوں کو اس بات کا احساس ہوا تو انھوں نے ان تین پرندوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنا چاہا اور پھر قسمت کی خوبی یہ کہ وہ تین پرندے جب ان ساتوں کے ساتھ مل گئے تو ہر جانب روشنی ہی روشنی تھی کیونکہ عشق کو ایک منزل مل گئی تھی۔ ان دس پرندوں کو جس سچ کی تلاش تھی وہ اب ان سے محض ہاتھ بھر کی دوری پر تھا۔ ٹلہ جوگیاں پر اس وقت پرندوں کا آپرا کھیلا جا رہا تھا جس کا تماشائی موسیٰ کے ساتھ ساتھ اس ناول کا ہر قاری تھا۔

یہ گیارہ پرندے ٹلہ جوگیاں کے تالاب میں اپنی اپنی شکل دیکھ کر خود کو پہچان نہیں پا رہے تھے کہ ایک دوسرے کو اپنا کر، ایک دوسرے کے رنگ میں رنگ کر وہ کچھ اور نکھر گئے تھے اور تب ان گیارہ پرندوں میں ایک بارہواں پرندہ بھی نمودار ہوا اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ موسیٰ حسین تھا۔ جس نے نامساعد حالات کے باوجود ٹلہ جوگیاں کا سفر کیا اور اپنے من کی مراد پانے کے ساتھ ساتھ اپنے اصل سے بھی واقف ہو گیا۔ اس نے اپنی ذات کا نروان پا لیا اور یوں ایک پہاڑی کی چڑھائی نے اسے اس کی زندگی کی سب سے بڑی اونچائی تک پہنچا دیا۔

یہ بلاشبہ سر تارڑ کا کمال ہی ہے کہ اس ناول سے قاری کی توجہ ایک لحظے کے لیے بھی ہٹنا محال ہے۔ جہاں منظر نگاری اپنی پوری جزئیات سے آپ کو جکڑے رکھتی ہے وہیں مکالمے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اسی ناول میں عشق کے کچھ ایسے کرداروں سے بھی واقفیت ملی جن کو ایک عام قاری کبھی جان ہی نہ پاتا۔ بلاشبہ یہ ناول سر تارڑ کا ایک شاہکار ہے جسے نصابی کتب میں شمار کیا جانا چاہیے۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے قاری مختلف کیفیات کا شکار ہوتا ہے لیکن میری ایک کیفیت جو شروع سے آخر تک رہی وہ یہ تھی کہ کیا پتہ کبھی میں بھی ان بارہ پرندوں میں ایک مزید کا شمار ہو جاؤں۔ کوئی ایسی چوٹی میری بھی منتظر ہو جہاں مجھے بھی اپنا مقصد حیات مل جائے۔ سر تارڑ آپ نے ان بارہ پرندوں کا ایسا بیان پیش کیا ہے کہ میں خود کو تیرہواں پرندہ بنتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ شاید کبھی میں بھی موسیٰ حسین کی طرح اس جھنڈ بے مثال کا حصہ بن سکوں اور یہ کہہ سکوں کہ

”اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے“


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments