ریاستی مشینری اور الیکشن


الیکشن کمیشن کی جانبداری اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے باوجود، 8 فروری 2024 کے الیکشن میں تحریک انصاف آزاد امیدواروں کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

9 مئی کو عسکری تنصیبات پر مبینہ حملوں کے الزام میں تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے کے لیے ریاستی مشینری حرکت میں ہے، 8 فروری 2024 کو عام انتخابات بھی ہونا ہیں، ہر بار کی طرح اس بار بھی الیکشن کی شفافیت پر پہلے سے سوال اٹھ رہے ہیں، پاکستان میں ہمیشہ سے ہی الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے رہیں،

چشم فلک نے دیکھا کہ کیسے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت پابند سلاسل کیا گیا اور وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، سیاسی سرگرمیوں پر غیر علانیہ پابندی اور ٹی وی چینل پر کوریج پر بھی پابندی ہے، اڈیالہ جیل میں قید بانی چیئرمین عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود کو الیکشن سے چند روز قبل سائفر کیس میں 10 10 سال قید بامشقت سنا دی گئی ہے،

ریاست اپنی تمام تر توانائیاں تحریک انصاف کو انتخابی عمل سے دور رکھنے پر صرف کر رہی ہے وہیں تحریک کی ”بچی کچی“ لیڈر شپ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہے، الیکشن کمیشن کی جانبداری الیکشن کو متنازع بنا رہی ہے تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان واپس لینے کا مطلب اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر کوششوں کے باوجود تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی نا ہونا ہے، سپریم کورٹ اس سارے عمل میں ویسے ہی خاموش تماشائی دکھائی دیتی ہے،

پاکستان میں ہر الیکشن دھاندلی کے الزامات کی زد میں رہا ہے، 1977 میں پی این اے کی دھاندلی کے خلاف تحریک کے نتیجے میں بھٹو حکومت کا خاتمہ ہو یا 2014 کے الیکشن عمران خان کا ”35 پنکچر“ کا نعرہ، یا 2018 پی ڈی ایم کا ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ، موجودہ الیکشن میں بھی دھاندلی کے سارے ریکارڈ ٹوٹتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں ایک سیاسی جماعت سے اس کا انتخابی نشان واپس لے کر اس کے امیدواروں کو آزاد امیدوار ڈکلیئر کر دیا ہے وہیں اس کی الیکشن کمپین چلانے اور سیاسی سرگرمیاں پر بھی پابندی ہے، اس صورتحال میں تحریک انصاف انٹرنیٹ کی سیاست کا سہارا لے رہی ہے آئے روز ٹویٹر فیس بک ٹک ٹاک پر جلسے، امیدواروں کے انتخابی نشانات کی تشہیر انٹرنیٹ پر کرنے لگی ہے، نوجوان ووٹرز کی تحریک انصاف کی حمایت بھی اپوزیشن کو پریشان کئیے ہوئے ہے وہیں دوسری طرف پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کر رہی ہے،

ایسے میں 8 فروری 2024 کے الیکشن اہمیت اختیار کر گئے ہیں، تحریک انصاف کے الیکشن جیتنے کی صورت میں ریاست قبول کرے گی؟ تحریک انصاف کے الیکشن نا جیتنے کی صورت میں تحریک انصاف اسے قبول نہیں کرے گی اور دھاندلی کے خلاف تحریک چلا سکتی ہے، اس الیکشن کے نتیجے بننے والی حکومت کو عوامی حمایت حاصل نا ہوئی تو حالات کی سنگین ہونے کا خطرہ ہیں، اس سارے عمل سے الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھیں گے اور خاکم بدہن ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا، سیاسی عدم استحکام سے پاکستانی معیشت پہلے ہی ڈیفالٹ کے کنارے کھڑی ہے غریب طبقہ جائے تو جائے کہاں؟

سیاست میں گھری ہوئے اسٹیبلشمنٹ اور مقبول سیاسی جماعت کے درمیان تنازعات میں غریب طبقہ کے مسائل اہمیت کھو رہے ہیں، مہنگائی نے غریب طبقہ کی کمر توڑ دی ہے۔

نگران حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے،
ریاست کو عوام کے مفاد میں کام کرنا چاہیے جس ریاست کا خواب اقبال نے دیکھا، یہ وہ ریاست تو نہیں۔
اسی لیے تو فیضؔ نے کہا تھا
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
تھا جس کا انتظار یہ وہ سحر تو نہیں

Facebook Comments HS