ناقابل برداشت ایرانی اقدام کا پس منظر


پاکستانی ششدر رہ گئے جب انہوں نے سنا کہ ایران کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر پاکستان کے اندر فوجی کارروائی کردی گئی ہے۔ پاکستان کو اس تازہ صورتحال کے بعد مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ عام انتخابات کا بھی دور دورہ ہے اور اس میں بہت ضروری ہے کہ پورے ملک بشمول بلوچستان میں انتخابی عمل شفاف ہو تاکہ کسی کو بلوچ جذبات سے کھیلنے کا موقع میسر نہ ہو۔ بر سبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ اس وقت تربت سے بہت متنازعہ خبریں آ رہی ہے کہ وہاں پر ایک ایسے شخص کی طاقت ور حلقہ مدد کر رہا ہے جس کی شہریت تک پر خیال ہے کہ وہ افغانی ہے۔ وہاں نیشنل پارٹی جیتے یا کوئی اور اس کو جیتنے دیا جائے۔

یہ بات واضح ہے کہ ایران کی جانب سے بلوچستان کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیاں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں مگر پاکستان نے ہمیشہ ضبط کی حکمت عملی اختیار کیے رکھی تا کہ پاکستان کے اپنے اس برادر ملک سے تعلقات میں تلخی کم از کم عوامی سطح پر محسوس نہ ہو اور اس کی حدت بڑا نقصان نہ کردے مگر ایران کی جانب سے حالیہ انتہائی نا قابل برداشت اقدام کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا تھا اس کے بعد پاکستان کے لئے ایک راستے کے علاوہ باقی تمام راستے خود ایران نے ہی بند کر دیے اور ایرانی وزیر خارجہ کو انہی حالات میں پاکستان کا دورہ کرنا پڑا۔ جس دورے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ تلخی میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور رو نما ہوگی۔ مگر صورت حال اس حد تک چلی ہی کیوں گئی؟ اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

آزادی کے بعد ایران وہ پہلا ملک تھا کہ جس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور پاکستان ایران کے اس قدم کو نہیں بھولا یہاں تک کہ ایرانی انقلاب کو سب سے بڑا مسئلہ تسلیم کا ہی تھا اور پاکستان نے ایرانی انقلاب کو سب سے پہلے تسلیم کر کے دوستی کا حق ادا کر دیا۔ حالاں کہ اس وقت ساری دنیا ایرانی انقلاب کو تسلیم کرنے میں سرد مہری دکھا رہی تھی یاد رہے کہ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء کی حکومت تھی کہ جن کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس خطے میں امریکی مفادات کے تحت حکمت عملی تشکیل دے رہے تھے مگر انہوں نے اس مسئلہ پر امریکی دباؤ کو کسی قابل نہیں سمجھا تھا وہ ایران کے حوالے سے اور مسائل پر امریکی دباؤ کا مقابلہ کرتے رہے تھے اور ایرانیوں کو یہ سب یاد رکھنا چاہیے۔

ابھی کچھ عرصہ قبل بھی ایک لڑی کی مانند ایسے اقدامات وقوع پذیر ہو رہے تھے کہ جن کی بدولت یہ تصور بہت تیزی سے تقویت پا رہا تھا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں گرم جوشی کا جو فقدان محسوس ہو رہا تھا اس برف کو پگھلایا جا رہا ہے۔ پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کچھ عرصہ قبل ایران کا سرکاری دورہ کیا تھا اور اس دورے کے حوالے سے بہت اچھا تاثر قائم ہوا تھا کہ نا صرف پاکستانی آرمی چیف کی ایران کی سیاسی قیادت سے گفتگو ہوئی ہے بلکہ ایران کی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ان کا مثبت انداز میں تبادلہ خیال ہوا ہے اور دونوں ممالک میں دوری کے تاثر کو رفع کیا گیا اور اس مثبت تاثر کو مزید تقویت وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ایک معاشی منصوبہ کے مشترکہ افتتاح سے حاصل ہوئی۔

بین الاقوامی سیاست میں بھی غیر معمولی مثبت اقدامات دیکھنے کو مل رہے تھے۔ عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کو ایران سعودی عرب تناؤ سے بہت نقصان پہنچا ہے۔ ان دونوں ممالک کی پراکسیز کے باہمی تصادم نے ہمیں لہو لہو کر دیا مگر ابھی جب چین کی ثالثی سے ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات بحال ہوئے تو اس پر پاکستان میں بہت خوشی دیکھی گئی کیوں کہ اس سے یہ امکان پیدا ہو گیا کہ پاکستان میں ان کی باہمی کشمکش بھی فوری طور پر ختم نہ صحیح مگر کم ضرور ہو جائے گی۔

مگر اس سب کے پہلو پہلو ایسے واقعات بھی پے در پے رونما ہو رہے تھے کہ جن کا تدارک بہتر تعلقات کے لئے از حد ضروری ہے۔ ایک خبر جو با خبر حلقوں میں بہت گرم رہی وہ یہ تھی کہ یونان میں کچھ پاکستانی گرفتار ہوئے۔ ان پر الزام یہ تھا کہ وہ وہاں بیٹھ کر ایران کے ایما پر اسرائیل کے حوالے سے سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ حکومت یونان نے اس معاملہ پر پاکستان سے باقاعدہ احتجاج کیا۔ اسرائیل کے حوالے سے عوامی جذبات ایک طرف مگر یہ کسی صورت قابل برداشت نہیں ہو سکتا کہ پاکستانی دنیا کے کسی بھی گوشے میں بیٹھ کر کسی اور ملک کے لئے کام کرے۔
اس کے بڑے سنجیدہ نقصانات کا سامنا پاکستان کو عالمی سطح پر دیکھنے پڑ سکتے ہیں۔

پھر یہ بھی خبر گردش کرنے لگی کہ غزہ جنگ کے لئے پاکستان سے ”بھرتی“ کی جا رہی ہے اور اس کو پاکستان نے بہت سختی سے روکا ہے کیوں کہ پاکستان کسی صورت نہیں چاہتا ہے کہ اس کے متعلق یہ تصور دنیا میں قائم ہو کہ اس کے شہریوں کو کوئی بھی ”بھرتی“ کر کے کہیں بھی لڑنے لڑانے کے لئے بھیج سکتا ہے۔

خیال ہے کہ ان دونوں معاملات پر پاکستان کی جانب سے سخت حکمت عملی نے بھی ایرانی اسٹیبلشمنٹ کو اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام کرنے پر راغب کر دیا پاکستان اس کے بعد بھی انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظار کرتا رہا کہ ایران کوئی ایسا بیان جاری کردے کہ جس میں معذرت کا عنصر نمایاں ہو اور پاکستان بات کو آیا گیا کر دے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ پاکستان کسی کارروائی سے اس لئے بھی بچنا چاہتا تھا کہ وہ بغور جائزہ لے رہا ہے کہ انڈیا گزشتہ کچھ سالوں سے اپنی مشرق وسطیٰ کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لا رہا ہے وہ یو اے ای اور سعودی عرب سے قربت بڑھانے کی بہت کوشش کر رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس نے یمنی حوثیوں کی بحیرہ احمر میں حالیہ کارروائیوں کی آڑ میں اپنے دس بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں۔

پاکستان اپنے لئے کوئی نیا درد سر مول نہیں لینا چاہتا۔ اب اس صورت حال کا تدارک کیسے ہو جو ایران نے پیدا کر دیا ہے تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستان ایران سے اپنے تمام معاملات بشمول بی ایل اے، بی ایل ایف وغیرہ پر لگی لپٹی بغیر بات کرے اور اگر ایران کو بھی جیش العدل وغیرہ کے حوالے سے کوئی شکایات ہیں تو ان کو رفع کرے۔

Facebook Comments HS