پیارے دیس کا سیاسی منظر نامہ
الیکشن کی آمد آمد ہے جس کی وجہ سے ملک کے سیاسی باغ میں ہل چل جاری ہے۔ ماضی کی طرح سیاسی پرندے اڑان بھرنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اور بدلتی ہواؤں کے رخ کو ناپ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اس سارے سیاسی کرتب میں ماضی سے ہٹ کر کچھ انوکھا نہیں یہ سیاسی پرندے ہمیشہ خزاں زدہ درخت کو چھوڑ کر اس درخت کی شاخوں کی زینت بننا پسند کرتے میں جس پر مالی و بہار مہربان ہوتے ہیں۔ انہی خانہ بدوشوں کی وجہ سے ملک کا ریاستی نظام مفلوج ہے کیونکہ یہ طبقہ ذاتی مفاد سے آگے دیکھنے سے قاصر ہے۔
ان میں سے اکثریت اپنے علاقے کے وڈیرے، جاگیردار، بڑے سرمایہ دار اور معروف مذہبی شخصیات ہیں جو کبھی اس جماعت کو تو کبھی اس جماعت تو کبھی آزاد الیکشن لڑ کر نسل در نسل پارلیمنٹ پر قابض ہیں اصل ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی ملکی اشرافیہ صرف آپسی مفادات کی تکمیل پر ہی یکجا ہوتی ہے جبکہ پسے ہوئے طبقے کے مسائل سے ان کا تعلق محض تقاریر کی حد تک ہوتا ہے۔ چونکہ انہوں نے غربت اپنی بڑی گاڑیوں کی کھڑکی سے ہی دیکھی ہوتی ہے تو یہ لوگ غریب عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے درد دل رکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
ان دیوہیکل سیاستدانوں کے سامنے عام شہری سیاسی معرکہ مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ مزید یہ کہ خواتین کی مخصوص نشستیں اور سینٹ الیکشن کی نامزدگیاں بھی انہی گنتی کے خاندانوں کی جھولی میں گرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں سفید پوش ممبران کی تعداد آتے میں نمک کے برابر ہے اگر یہ سلسلہ جوں کا توں جاری رہا تو مستقبل بعید میں بھی عام شہریوں کا الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچنا تقریباً نا ممکن ہی رہے گا۔ اگر اس دیس کو سیاسی نظام اور سیاسی خاندان انگریزوں سے وراثت میں ملے ہیں تو اسی گورے سے کچھ مثبت سیاسی ترتیب سیکھ لینے میں کیا قباحت ہے۔
برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف لارڈز میں ملکی اشرافیہ، چرچ کے پادریوں اور شاہی خاندان کے افراد کی نشستیں مخصوص ہیں اور باقی ممبران سیاسی دنگل جیت کر پارلیمنٹ کا حصہ بنتے ہیں۔ اس طرح عام شہریوں کو اپنی آواز پارلیمنٹ میں پہنچا نے کے لئے ملکی اشرافیہ کے قد کو نہیں پھلانگنا پڑتا۔ اسی طرز پر اگر پاکستانی اشرافیہ کی چند نشستیں مخصوص کر دی جائیں۔ اور ان کے خاندانوں اور اقرباء پر جنرل سیٹوں پر الیکشن لڑنے پر پابندی لگادی جائے تو سفید پوشوں کا پارلیمنٹ میں پہنچنے کا راستہ قدرے آسان ہو سکتا۔
جس سے عوام کے مسائل کے حل کو پہیے لگ جائیں گے۔ مزید یہ کہ سیاسی خانہ بدوشوں کے پر کتر دینے چاہئیں کیونکہ ایسے پرندوں کا قبلہ صرف ان کا ذاتی مفاد ہوتا ہے نہ کہ سیاسی نظریہ، ان کے ہر الیکشن میں سیاسی خانہ بدوشی اختیار کرنے پر پابندی لگنی چاہیے۔ آنے والے سیاسی معرکوں میں سیاسی مہاجر پرندوں کی اڑان کو قابو کرنے اور الیکشن اصلاحات کو لانے میں باغ کے مالی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔


