جب مسلم لیگ ق اقتدار میں آئی (حصہ اول)
”یہ مارشل لاء نہیں، جمہوریت کی جانب پہنچنے کا دوسرا راستہ ہے“ یہ الفاظ جناب چیف اگزیکٹیو پرویز مشرف کے ( اب تک کے آخری و مجموعی طور پر چوتھے ) مارشل لاء کے نفاذ کے چند دن بعد قوم سے خطاب سے اقتباس ہیں۔ اس تقریر میں جناب نے جسم (ملک) بچانے کے لیے ایک عضؤ (آئین) کو قربان کرنے کی وجوہات قوم کے سامنے رکھیں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے عنان حکومت باقاعدہ طور پر سنبھال لیے، تاہم صدر مملکت رفیق تارڑ اپنے عہدے پر قائم رہے یہاں تک کہ جون 2001 ء میں انہیں ایک چند سطری چیف ایگزیکٹو آرڈر پر فارغ کر دیا گیا اور چیف ایگزیکٹو ہی کو صدر مملکت کی عدم موجودگی میں اس عہدے کے لیے موزوں ترین شخصیت قرار دیا گیا۔ نئے صدر مملکت کو عضؤ معطل کا سہارا ( آئینی تحفظ) دینے لیے اپریل 2002 ء میں صدارتی ریفرنڈم کروایا گیا جس نے سابقہ ضیائی ریفرنڈم کے ریکارڈ توڑ دیے اور یوں چیف ایگزیکٹو و چیف آف آرمی سٹاف جناب پرویز مشرف صدر مملکت منتخب ہو گئے۔
حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار کرنے کے لیے اکتوبر 2002 ء میں عام انتخابات کروائے گئے جس میں پہلی بار 18 برس سے زائد عمر والے افراد کو بالغ رائے دہی کی اجازت دی گئی۔ ان انتخابات کے لیے ایسے ضابطے ترتیب دیے گئے جس سے سابقہ حکمرانوں کو ہر صورت انتخابی عمل سے باہر رکھنا مقصود تھا، جیسا کہ ایک شخص کے دو مرتبہ سے زائد وزیراعظم /وزیر اعلیٰ بننے پر پابندی، سزا یافتہ افراد کے پارٹی عہدیدار بننے پر پابندی وغیرہ شامل تھے۔
جلاوطنی، سزا اور نئے قوانین کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی پارٹی انتخابات لڑنے کے لیے اہل نہ تھی اسی سبب پیپلز پارٹی کے مرکزی اور محترمہ کے قریب سمجھے جانے والے رہنما مخدوم امین فہیم نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے نام سے ایک نئی پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے صدر رہے جبکہ مسلم لیگ نواز کی باگ ڈور جاوید ہاشمی نے سنبھال لی۔ 2002 ء کے انتخابات میں نئے، پرکشش، پڑھے لکھے (تعلیمی قابلیت بی اے لازمی قرار دی گئی) چہروں کو ایوان میں لانے کا بندوبست کیا گیا، ان کاموں کے لیے بہرحال تجربہ کار و ماہر سیاست دان درکار تھے سو مسلم لیگ میں شگاف ڈال کر مسلم لیگ قائد اعظم بنائی گئی جس کی صدارت سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کو سونپی گئی، گجرات کے چوہدری بھی اس کاوش میں پیش پیش رہے۔ ملک کے مقبول رہنما جلاوطن و کرپشن کیسز کا سامنا کر رہے تھے۔
نوزائیدہ مسلم لیگ نے اسلامی جمہوری اتحاد کے انتخابی نشان سائیکل پر انتخاب لڑا۔ 196 امیدوار میدان میں اتارے جن میں سے 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ملک کی بڑی سیاسی قوت تو بن کر ابھری مگر کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین 63، متحدہ مجلس عمل 45، 28 آزاد امیدوار، مسلم لیگ نواز 15، قومی اتحاد 13، متحدہ قومی موومنٹ 13 اور دیگر پر چھوٹی جماعتیں کامیاب ہوئیں۔ حاصل کردہ ووٹوں میں پیپلز پارٹی نے تقریباً 74 لاکھ ووٹ حاصل کیے ، مسلم لیگ قائد اعظم 73 لاکھ، مسلم لیگ نواز 33 لاکھ سے زائد، متحدہ مجلس عمل تقریباً 33 لاکھ ووٹ حاصل کیے ، انتخابات کا مجموعی ٹرن آؤٹ 41 فیصد رہا۔
مسلم لیگ قائد اعظم جسے صدر مملکت کا بے انتہا تعاون حاصل تھا اور اس بنا پر اسے ”کنگز پارٹی“ پکارا جا رہا تھا کے صدر اور وزارت اعظمیٰ کے لیے موزوں ترین شخص میاں اظہر لاہور (آزاد امیدوار حافظ سلمان بٹ سے ) اور شیخوپورہ (جلیل شرقپوری نون لیگی سے قریبا دس ہزار ووٹوں سے ) کے دونوں انتخابی حلقوں سے شکست کھا گئے، ان کے بعد موزوں تر شخصیت الہٰی بخش سومرو بھی انتخابات میں شکست کھا گئے۔ میاں اظہر نے اپنی شکست کو میڈیا کے سامنے تو تسلیم کیا مگر پس پردہ کہتے رہے جہاں ”وہ“ اتنے ووٹ ڈلوا رہے تھے کچھ مجھے بھی ڈلوا دیتے۔
انتخابات میں کنگز پارٹی کے بڑوں کے ہار جانے اور واضح اکثریت حاصل نہ کر پانے کے سبب حکومت سازی و وزارت اعظمیٰ کی دوڑ کا کھیل دلچسپ ہو گیا، وزارت اعظمیٰ/ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد 172 ارکان کسی بھی واحد جماعت کے پاس نہ تھی تمام جماعتیں پردہ و پس پردہ جوڑ توڑ میں مصروف تھیں، مسلم لیگ قائد اعظم جہاں سابقہ حکمران جماعتوں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین و مسلم لیگ نواز سے بات چیت میں صدر مملکت کی تنگ دلی کے سبب ہچکچاہٹ کا شکار تھی وہاں ان کے اپنے اراکین کے درمیان وزارت اعظمیٰ کے لیے رسہ کشی جاری تھی، پارٹی کا ایک گروپ صدر میاں اظہر کی حمایت سے اپنا امیدوار لانے کے لیے کوشش کر رہا تھا تو دوسرا گروپ پارلیمانی لیڈر چوہدری شجاعت کی حمایت سے اپنے امیدوار کے لیے لابنگ کر رہا تھا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ چوہدری شجاعت کو میاں اظہر نے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ کا پارلیمانی لیڈر نامزد کیا جس کا ایک مقصد انہیں وزارت اعظمیٰ کا امیدوار بننے سے روکنا تھا۔ چوہدری شجاعت اور ان کے حامی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر ظفر اللہ خان جمالی کو وزیر اعظم دیکھ رہے تھے جس کی بظاہر توجیہہ یہ تھی کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیراعظم ہوسکتے ہیں درپردہ وہ ایک کمزور و محدود اختیارات والا وزیراعظم چاہتے تھے، ایسے ہی خیالات اسٹیبلشمنٹ کے بھی تھے۔
مگر میاں اظہر و ان کے حامی جن میں الہیٰ بخش سومرو، سید فخر امام، بیگم عابدہ حسین، فاروق لغاری نمایاں تھے جمالی کی مخالفت کر رہے تھے، میاں اظہر تو میر غوث بخش مہر، خورشید محمود قصوری، فیلڈ مارشل ایوب خان کے پوتے عمر ایوب کو یقین دلا رہے تھے کہ وہی پارٹی کا انتخاب ہوں گے ، اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کے لیے جگہ نہ بننے پر پر مایوسی کے عالم میں میاں اظہر نے بلوچستان سے آزاد حیثیت میں منتخب ہو کر مسلم لیگ میں شامل ہونے والی اور چیف ایگزیکٹو کی کابینہ کی سابقہ رکن زبیدہ جلال کو وزارت اعظمیٰ کا امیدوار بنانے کی کوشش کی جسے چوہدری شجاعت نے وہ کبھی ترجیح تھیں ہی نہیں کہہ کر رد کیا، حتی کہ پارٹی ترجمان عظیم چوہدری نے یہ تک کہہ دیا ”تاخیر سے آنے والے ہمیشہ پچھلی نشستوں پر بیٹھتے ہیں“ ۔
ایسے میں میاں اظہر نے پارٹی صدارت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان بھی کیا (جسے اس وقت قبول نہ کیا گیا) جبکہ وہ مارچ 2002 ء سے دو مرتبہ پارٹی صدر منتخب ہوئے تھے۔ عام انتخابات کے بعد ایوان بالا کے انتخاب بھی شیڈول تھے سیاسی جماعتیں حکومت سازی کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی تگ و دو میں مشغول تھیں صدر مشرف کی کابینہ کے بیشتر افراد بشمول وزیر داخلہ معین حیدر، وزیر خزانہ شوکت عزیز جنہوں نے عام انتخابات میں حصہ نہ لیا تھا اور وہ افراد جو اسمبلی انتخابات میں شکست کھا چکے تھے سینیٹر بننے کے خواہشمند تھے۔ ایسے میں 29 نومبر 2002 ء کو صدر مملکت نے ضابطہ برائے حکم عام انتخابات 2002 ء لاگو کر دیا جس کے تحت عام انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والے افراد سینیٹ انتخابات کے لیے نا اہل قرار پائے اس قانون سے براہ راست میاں اظہر اور ان کا حامی گروپ (جو عام انتخابات میں اپنی نشستیں ہار گئے تھے ) متاثر ہوئے۔
میاں اظہر کی پارلیمانی سیاست کے مستقبل پر سیاہ بادلوں کی گھٹا چھا گئی جو پھر چھٹی نہیں۔ مسلم لیگ قائد اعظم کی تمام سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ظہور الہٰی روڈ گلبرگ، لاہور چوہدری شجاعت کا گھر تھا، واقفان ماضی بیان کرتے ہیں ظہور الہٰی روڈ اور اطراف کی سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں رہتی تھیں اور ملاقات کے لیے آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا اس قدر گہما گہمی ہوتی تھی گویا کوئی تہوار ہو۔
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر امین فہیم دبئی میں مقیم سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو سے ہدایات لے رہے تھے تو کبھی آصف علی زرداری جو اس وقت نیب کی جیل میں تھے ان سے ملاقاتیں کر رہے تھے، امین فہیم نے قومی حکومت کی تشکیل کا شوشہ چھوڑا جسے کچھ جماعتوں نے پسند کچھ نے ناپسند کیا۔ مسلم لیگ ق کے جنرل سیکریٹری اور وزارت اعظمیٰ کے ممکنہ امیدوار ظفر اللہ جمالی نے اسے خوش کن مگر بغیر حزب اختلاف حکومت کو ناقابل عمل قرار دیا، جب ان سے ان کی 1994 ء کی وزیر اعظم، چار نائب وزرائے اعظم، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ کے اعلیٰ سیاسی دفاتر کو صوبوں میں تقسیم کر کے متناسب نمائندگی کی تجویز کے اب لاگو ہونے کا سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا وہ فیصلہ بیسویں صدی کا تھا اب ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں۔
نوزائیدہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین میں اختلافات کی خبریں پھیلیں تو محترمہ بینظیر بھٹو جوان دنوں پارٹی سے ٹیلیفونک خطاب کیا کرتی تھیں پارٹی کو صدر امین فہیم کی قیادت میں متحد رہنے کی ہدایت کی بعد ازاں انہیں پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا گیا۔ جہاں تمام سیاسی جماعتیں وزیر اعظم کے منصب کے لیے کسی کو امیدوار بنانے میں حیل و حجت سے کام لے رہی تھیں متحدہ مجلس عمل نے مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے و امیر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمٰن کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کو پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا۔
صدر کے ترجمان میجر جنرل راشد قریشی کا کہنا تھا صدر مملکت ”نیوٹرل“ رہنے کے لیے پرعزم ہیں، یہ فیصلہ انہوں نے سیاست دانوں پر چھوڑ دیا ہے کہ کس نے اور کیسے حکومت بنانی ہے۔ حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر تھے اتحاد برائے بحالی جمہوریت کی جماعتیں کبھی آپس میں کبھی دیگر جماعتوں کے ساتھ گفتگو کر رہی تھیں، مسلم لیگ ق و پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین علیحدہ علیحدہ متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت سازی میں شراکت پر آمادہ کر رہی تھی تو متحدہ مجلس عمل بھی انہی جماعتوں سے معاملات طے کرنے کا لیے پرعزم تھی، اسی دو ان پیر سوہاوہ کے ریستوران میں صدر مشرف و امین فہیم کی ایک اتفاقی ملاقات بھی ہوئی جس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ حسن اتفاق تو دیکھیے کچھ صحافی بھی وہاں موجود تھے۔
22 آزاد امیدواروں میں سے 18 نے مسلم لیگ قائد اعظم، 2 نے متحدہ مجلس عمل، 1 نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی جبکہ راولپنڈی سے دو نشستوں پر کامیاب ہونے والے شیخ رشید احمد نے اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔ اس طرح مسلم لیگ قائد اعظم کی نشستیں بڑھ کر 96، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین 64، متحدہ مجلس عمل 47 ہو گئیں۔ عام انتخابات کے تقریباً تین ہفتوں بعد عدالتی حکم امتناع کے خارج کیے جانے کے بعد مخصوص نشستوں کے نتائج جاری کیے گئے۔
خواتین کے لیے مختص 60 نشستوں میں سے 22 مسلم لیگ قائداعظم، 15 پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین، 12 متحدہ مجلس عمل، مسلم لیگ نواز، متحدہ قومی موومنٹ و قومی اتحاد 3، 3 جبکہ مسلم لیگ جونیجو و فنکشنل 1، 1 نشست پر کامیاب قرار دی گئیں۔ اس میں بھی کچھ دلچسپ کام ہوا سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی بیٹی فائزہ جونیجو مسلم لیگ ق سندھ کوٹے سے رکن منتخب ہوئیں (مسلم لیگ جونیجو تین نشستیں جیت پائی بشمول ایک خاتون کی مخصوص نشست) ، مسلم لیگ نواز کے صدر و نو منتخب رکن جاوید ہاشمی کی صاحبزادی میمونہ جاوید ہاشمی پنجاب کوٹے سے، متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد جو ان کے پارلیمانی لیڈر بھی تھے ان کی صاحبزادی سمیعہ راحیل قاضی پنجاب کوٹے سے، مسلم لیگ نواز کی تہمینہ دولتانہ جنرل الیکشن ہار کر بھی مخصوص نشست پر فاتح قرار پائیں۔
صدر مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز جن پر انتخابی نتائج کو مسلم لیگ قائداعظم کے حق میں کرنے کا الزام تھا کی صاحبزادی دو نیا عزیز مسلم لیگ پنجاب کوٹے سے، سمیرا ملک نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کی پوتی خوشاب کی جنرل نشست کے ساتھ ساتھ مخصوص نشست پر بھی کامیاب قرار پائیں ان کی بہن عائلہ ملک قومی اتحاد کی مخصوص نشست پر کامیاب ٹھہریں۔ گوہر ایوب کی زوجہ و نو منتخب رکن عمر ایوب کی والدہ زیب گوہر ایوب بھی مسلم لیگ کے صوبہ سرحد کوٹے سے مخصوص نشست پر کامیاب ٹھہریں۔ اقلیتی 10 نشستیں اس طرح تقسیم ہوئیں، مسلم لیگ 4، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین، متحدہ مجلس عمل 2، 2، مسلم لیگ نواز اور ایم کیو ایم 1، 1۔
اس طرح 10 اکتوبر 2002 ء کے عام انتخابات کے بعد یکم نومبر 2002 ء کو پارلیمان کی تشکیل مکمل ہوئی اور جس مین پارٹی پوزیشن کچھ یوں تھی
مسلم لیگ 122، پیپلز 81، متحدہ مجلس عمل 61، ، مسلم لیگ نواز 19، متحدہ قومی موومنٹ 18، قومی اتحاد 17 باقی دیگر جماعتیں۔

