جبران خلیل جبران کے نام ایک خط


السلام علیکم
جبران خلیل جبران صاحب

امید کرتا ہوں آپ اس وقت بہشت میں سبز محل کے صحن میں محبت کے گیت گا رہے ہوں گے اور آپ کے آس پاس حوران خلد ہاتھوں میں کوثر و تسنیم سے لبریز جام لیے ایک دوسرے سے خوش گپیاں کرنے میں مصروف ہوں گی جبران صاحب گستاخی معاف کیجیے آپ کے تخیل میں خلل ڈال رہا ہوں۔ ایک ہفتہ پہلے کسی محبت شناس دوست کے ذریعے آپ کی کتاب بہ عنوان ”جبران خلیل جبران کے بے مثال افسانے“ مجھے ملی ہے اس کتاب کو طاہر منصور فاروقی نے ترتیب دے کر الحمد پبلی کیشنز رانا چیمبرز، سیکنڈ فلور، (چوک پرانی انارکلی) لاہور سے شایع کیا ہے۔

کتاب کی جلد پر آپ کے عہد شباب کی کچھ تصویری جھلکیاں ہے ان تصویروں کو دیکھ کر مجھے یوں گمان ہوا کہ آپ نے اپنے عہد شباب بقول میر تقی میر ”عہد جوانی رو رو کاٹی“ ہے، یہی وجہ ہے میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں کیونکہ مجھے کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ آپ اور میرے درمیان کئی چیزیں مشترک ہیں میں بھی عہد جوانی رو رو کاٹ رہا ہوں لیکن میں اپنی ذاتی رنجش کا اظہار آپ سے ہر گز نہیں کروں گا کیونکہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہے کہ کہیں حوران خلد میری زبوں حالی کی داستان سن کر قہقہے نہ لگائیں۔

جبران صاحب محبت کیا ہے؟ یہ سوال کافی عرصے سے میرے ذہن میں تھا آج آپ کے افسانوں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اس سوال کا جواب معلوم ہوا ہے آپ نے لکھا ہے کہ اگر غم کوئی بات کر سکتا تو اس کی بات خوشی کی بات سے زیادہ شیریں ہوتی! گزشتہ پچیس برس میں، میں نے بہت سے لوگوں سے محبت کی، ان بہت سی چیزوں کو چاہا، جس سے دنیا نفرت کرتی ہے اور ان بہت سی چیزوں سے نفرت کی جنہیں دنیا چاہتی ہے۔ لیکن وہ ہستی جسے بچپن میں چاہتا تھا اسی کو آج بھی چاہتا ہوں اور جسے آج چاہتا ہوں، اسی کو زندگی بھر چاہتا رہوں گا کیونکہ محبت ہی میری تمام خواہشوں کا مرکز ہے اسے کوئی مجھ سے نہیں چھین سکتا میں نے اکثر موت سے محبت کی ہے۔

چنانچہ اسے پیارے پیارے ناموں سے پکارا ہے۔ میں نے آزادی سے محبت کی ہے لیکن میں آزادی کے ساتھ ساتھ ان غلاموں سے بھی محبت کرتا تھا، مجھے ان سے ہمدردی تھی اس لیے کہ وہ اندھے ہیں خونخوار درندوں کے جبڑوں کو بوسہ دیتے ہیں اور نہیں دیکھتے۔ نجس سانپوں کا زہر چوستے ہیں اور نہیں محسوس کرتے، اپنے ہاتھوں سے اپنی قبریں کھودتے ہیں اور نہیں جانتے ”

جبران صاحب اس قحط الرجال میں ہم کس سے اپنی محبت کا اظہار کریں یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے نسل در نسل غلام ہے۔ یہاں اب محبت کے گیت گانے پر پابندی عائد ہے یہاں لوگ سیاسی کٹہرے میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے کے خلاف نفرت اگل رہے ہیں یہاں صرف ایک نجس سانپ نہیں یہاں ہر طرف اور ہرجا نجس سانپ منہ کھولے ہوئے ہیں آپ ہی بتائیں ہم کس کس نجس سانپ کے منہ پر بوسہ دیں۔ جبران صاحب عجیب بات ہے یہاں ہر شخص اپنی قبر کھود کر مرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔

آپ کی شریعت میں انسان تین قسم کے ہیں مگر آپ ان تینوں سے محبت کرتے تھے یہ میرے لیے واقعی حیران کن بات ہے آپ نے لکھا کہ

میں نے انسانوں کو بھی چاہا ہے۔ اور بہت چاہا ہے۔ انسان میری شریعت میں تین قسم کے ہیں ایک وہ جو زندگی پر لعنت بھیجتے ہیں دوسرے جو اسے نعمت سمجھتے ہیں اور تیسرے وہ ہیں جو اس پر غور کرتے ہیں۔ چنانچہ میں پہلی قسم کے انسانوں سے ان کی بدبختی کے پیش نظر، دوسری قسم کے انسانوں سے ان کی دریا دلی کے سبب اور تیسری قسم کے انسانوں سے ان کے ادراک و عرفان کی بنا پر محبت کرتا رہا ”

جبران صاحب انسان کی بے بسی تمام ادیبوں، شاعروں اور فلسفیوں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے اس ضمن میں آپ اور میری بے بسی ایک ہی ہے بلاشبہ میں بھی میں وہی انسان کا دل ہوں جو مادی زنجیروں میں اسیر اور خاکی انسان کے قوانین کا شہید ہے حسن کے سبزہ زار میں زندگی کے چشموں کے کنارے میں ان قوانین کے پنجرہ میں قید کر لیا گیا ہے، جو انسان نے جذبات کے لیے وضع کیے ہیں۔ انسانی محاسن کے پنگھوڑہ میں، محبت کے سامنے عالم کسمپرسی میں مر گیا۔

اس لئے کہ ان محاسن کے نتیجہ اور اس محبت کے حاصل سے محروم کر دیا گیا اور وہ اس طرح کہ جو کچھ میں نے چاہا عرف عام میں سمجھا گیا اور جو میری تمنا ہوئی انسانی فیصلوں کے مطابق ذلت قرار دی گئی میں بھی انسان کا دل ہوں جسے سماج کی رواجی ظلمتوں میں پھنسا کر کمزور کر دیا گیا، اوہام کی زنجیروں میں جکڑ کر لب گور پہنچایا گیا اور تمدنی گمراہیوں کی پستی میں دھکیل کر مار ڈالا گیا انسانیت کی زبان جکڑی ہوئی ہے اور آنکھیں پرنم، لیکن وہ ہے کہ پھر بھی ہنس رہی ہے!

میں اس خط کے ذریعے اپنے دل کی تمام بھڑاس نکال کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا تھا لیکن وقت کی کمی کے باعث آپ سے اجازت چاہتا ہوں مگر آخر میں یہ پیراگراف پڑھ کر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوا ہے اور مزید کچھ لکھنا بھی چاہوں تو یہ حقیر کیا لکھ سکتا ہے! بس اتنا عرض کرتا ہوں کہ بلاشبہ دل جب اپنے اسرار سے تنگ آ جاتا ہے پلکیں جب آنسوؤں کی حرارت سے زخمی ہوجاتی ہیں اور پسلیاں جب سینہ کے بھیدوں کی زیادتی سے پھٹنے لگتی ہیں، تو کلام اور شکوہ و شکایت کے سوا آدمی کے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہتا یہی وجہ ہے کہ غم کے مارے کو شکوہ و شکایت میں راحت ملتی ہے، عاشق کو اپنے محبوب کی شان میں شعر پڑھنے سے سکون حاصل ہوتا ہے اور مظلوم رحم طلبی میں لذت محسوس کرتا ہے

آپ کا غم گسار
اکمل گداز

Facebook Comments HS

2 thoughts on “جبران خلیل جبران کے نام ایک خط

  • 02/02/2024 at 8:09 صبح
    Permalink

    mashal

  • 02/02/2024 at 8:10 صبح
    Permalink

    mashallah akmal bhi

Comments are closed.