ایک گمنام متنازع شخصیت۔ روپندر سنگھ گاندھی


روپندر گاندھی 2 اکتوبر 1789 کو بھارت کی ریاست پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے شہر کھنا کے ایک گاؤں رسولڑا میں پیدا ہوا اس کے والد کا نام سردار ہردیو سنگھ اوجلا تھا جو کہ کانگرس میں کے ایک اہم رکن تھے۔ دو اکتوبر کو مہاتما موہن داس کرم چند گاندھی کے جنم دن کے حوالے سے روپندر سنگھ کے نام کے ساتھ بھی گاندھی رکھا گیا جو کہ بعد میں روپندر سنگھ گاندھی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے اپنے گاؤں سے ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور ساتھ ساتھ فٹ بال میں خاصی دلچسپی رکھنے کی وجہ سے فٹ بال ٹیم کا ایک اچھا کھلاڑی ثابت ہوا اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ میں اعلی تعلیم کے لیے آیا۔

یونیورسٹی جانے کے بعد اس نے اپنے دوستوں کی مدد اور کئی طلباء کے ساتھ دینے کی غرض سے کئی لڑائیاں لڑی جس کی وجہ سے اس کے کئی دشمن سامنے آنا شروع ہو گئے۔ 22 سال کی عمر میں اسے متفقہ طور پر گاؤں (رسولڑا) کا سرپنچ (نمبردار) تسلیم کر دیا گیا۔ سر پنچ بننے کے ساتھ ساتھ وہ گاؤں کے عام لوگوں میں ہر دل عزیز تھا گاؤں کے لوگ اسے ایک مسیحا کے روپ میں دیکھتے تھے، اچھی شخصیت ہونے کے باوجود اس پر کئی قسم کے پولیس کیس درج تھے جن میں سر فہرست قتل، ارادہ قتل، اور ناجائز اسلحہ رکھنے کی کیسز شامل تھے۔ سر پنچ بننے کے ساتھ اسے سیاست میں بھی دلچسپی تھی اور کئی سرگرم سیاسی ارکان سے وابستگیاں بھی تھی جس کی وجہ سے کئی لوگ اس کے دشمن تھے اسی طرح یکم ستمبر کو اسے اس کے گاؤں سے اغواء کر لیا گیا۔ اس کے چار روز بعد پانچ ستمبر 2003 میں اس کی لاش ایک درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی ملی۔ پوسٹ مارٹم کے ذریعے پتہ چلا کہ اس پر بری طرح سے تشدد کیا گیا تھا اس کے بازو اور ٹانگیں ٹوٹے ہوئے تھے اور سینے میں دو گولیاں بھی لگی ہوئی تھی۔

ایک طرف گینگسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ روپندر سنگھ کافی اچھے کاموں کی وجہ سے بھی لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائے ہوئے تھا۔ اس نے کئی لوگوں کی بہنوں اور بیٹیوں کی شادیاں کرنے میں ان کی مدد، کافی غریب لوگوں کی صحت کی بنیادی سہولیات پورے کرنے اور دوسرے کئی رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اور کئی بار نیشنل فٹ بال میں فاتح قرار پایا۔ آج گاؤں کے لوگ مسیحا کی طرح یاد کرتے ہیں اور اس کی یاد میں کئی فٹ بال اور کرکٹ کی ٹورنامنٹ منعقد کروائے جاتے ہیں۔

اس کے قتل کے بعد اس کا بھائی میں مہندر سنگھ جو اس وقت کینیڈا میں مقیم تھا اس بدلہ لینے کے لیے پنجاب واپس آیا اور آ کر گاندھی سٹوڈنٹ گروپ کو جوائن کیا۔

روپندر سنگھ گاندھی کے بعد اس کا گروپ ایک یونین کی شکل میں سامنے آیا۔ اس کا نام گاندھی سٹوڈنٹ یونین تھا آج اس میں تقریباً 3 لاکھ سے زائد طلبہ جڑے ہوئے ہیں جن کا تعلق چندی گڑھ اور پنجاب کی دوسری یونیورسٹیز اور کالجز سے ہے۔

اس کے گاؤں والوں اور بھائی مہندر کے مطابق روپندر بالکل بے گناہ تھا اس نے جتنی بھی لڑائی لڑی وہ گاؤں اور عام لوگوں کی بھلائی کے لیے تھیں ان میں اس کا کوئی ذاتی سروکار شامل نہیں تھا۔ مگر پولیس ریکارڈ اس کو ایک گینگسٹر بناتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ شخصیت آج تک متنازع ہے۔

روپندر سنگھ گاندھی پر بھارت میں دو فلم بھی بنائی جا چکی ہیں جن کا نام روپندر گاندھی اور گاندھی ٹو ہے۔ یہ دونوں فلمیں ان کے بھائی مہندر گاندھی کی اجازت سے بنائی گئی تھیں۔ ان میں گاندھی دوم کی مکمل کہانی بیان کی گئی پے۔

Facebook Comments HS