بھیڑ کی کھال میں چھپا ہوا بھیڑیا


انسان اپنی پیدائش کے وقت ایک بھیڑ کی مانند ہوتا ہے۔ نفع بخش، نرم دل، معصوم اور ہر طرح کی دل کی بیماریوں سے پاک یہ نونہال دنیا میں ایک قلب سلیم لے کر قدم رکھتا ہے۔ اس دل میں قدرت کی طرف سے نصب شدہ ایک ایسی چپ موجود ہوتی ہے کہ جس میں تمام بنیادی معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ یعنی یہ معصوم بچہ ایک طرف تو دھیمے لہجے کو سننے کی صلاحیت سے لیس ہو کر آتا ہے تو دوسری طرف بولنے کی صلاحیت سے محروم ہونا اس کی فطرت میں ہے جبکہ کچھ گھڑی اپنے آس پاس غور و فکر کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

سو اس سبب سے وہ بچہ اپنی عمر کے اوائل میں جتنا جلدی و زیادہ سیکھتا ہے اتنا شاید اپنی باقی ماندہ عمر میں نہیں سیکھ پاتا ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ اس دنیا کا خالق ہمیں بولنے کی طرف اپنی توجہ کو کم مرکوز کرنے کو کہتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ تفکر کے گھوڑے دوڑانے کی بات بہت زیادہ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر زبان درازی کی اہمیت زبان بریدہ ہونے سے بڑھ کر ہوتی تو اس خاموشی و صبر کے عوض ہیرے موتی ملنے کی بات کوئی کیوں کرتا ہوا نظر آتا۔

چلیں چھوڑیں اس بات کو آگے لے کر چلتے ہیں اگر دھیان دیں تو اس نونہال کا دل محبت کی طاقت سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ اس محبت میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ لئے ہوئے نہیں ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ جب یہ ننھا سا وجود بولنا اور چلنا سیکھ لیتا ہے تو اپنی زبان میں چاشنی اور چال میں آہستگی لے ہوئے ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف اس ننھے دل میں حسد، نفرت، کینہ اور ہوس جیسی کسی بھی قسم کی بیماریوں کا سرے سے کوئی وجود تک بھی نہیں ہوتا ہے۔ اپنی پیدائش کے وقت ایک بھیڑ جیسا دل لے کر دنیا میں آنے والے ننھے سے وجود کو کیا معلوم کے وہ بھیڑیوں کی دنیا میں قدم رکھنے جا رہا ہے۔

انسانی شکل میں ایک ایسی بھیڑ دنیا میں قدم رکھتی ہے کہ جس کی فطرت میں کندہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی کسی کا نقصان نہیں کرے گی جبکہ دوسری طرف وہ اپنا سب کچھ معاشرے کو دان کر دیتی ہے۔ یعنی اپنی اون، اپنا دودھ، اپنا گوشت، یہاں تک کے اپنی کھال تک بھی دوسروں کے لئے وقف کر دیتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اللہ کے ہاں قربانی صرف بھیڑ ہی کی قبول ہوتی ہے۔

قدرے باریک بینی سے غور کرنے پر یہ بھی معلوم ہو گا کہ اس بھیڑ کی پیدائش کے وقت اس معصوم سی بھیڑ کے ہمراہ ایک سویا ہوا بھیڑیا بھی موجود ہوتا ہے۔ اگر اس کو نیند سے بیدار کر دیا جائے تو کسی کو کچھ فائدہ پہنچانا تو کجا بس نقصان ہی نقصان پہنچانے والا ہو گا یہ بھیڑیا۔ ایک ایسا وحشی جانور کہ جس کے شر سے پھر کوئی بھی محفوظ نہ ہو گا۔

اکثر ہوتا یہ ہے کہ اس بچے کی پرورش کرنے والے اس کے والدین، اس کے عزیز و اقارب اور معاشرہ اس کے اندر چسپاں بلٹن چپ کو چھیڑ کر اس میں محفوظ معلومات میں بگاڑ پیدا کر دیتے ہیں جس کے سبب اس بھیڑ کے ساتھ سویا ہوا بھیڑیا گہری نیند سے بیدار ہو جاتا ہے۔ معاشرہ اپنے تئیں خیر کے جذبے سے سرشار ہو کر اس بھیڑیے کو متواتر غذا فراہم کرتا ہے کہ اس کے سبب وہ بھیڑیا طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کے ایک دن وہ بے لگام ہو کر اس وجود سے باہر آن دھمکتا ہے۔

وہ بھیڑیا طاقت کے نشے سے سرشار کسی مست ہاتھی کی طرح نہ صرف اپنا نقصان کرتا ہے بلکہ اپنے آس پاس بھی متواتر وحشت کا سامان فراہم کرتا رہتا ہے۔ آدم کے بیٹے کی اٹھان کے ساتھ ساتھ وہ بھیڑیا اتنا وحشی ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر کی بھیڑ کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ سخت دل بھیڑیا اپنی اندر کی بھیڑ کے خاتمے پر ہی کب اکتفا کرتا ہے بلکہ وہ اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے آس پاس کی بھیڑوں پر بھی بری نگاہ دوڑاتا ہے۔

یہ وہ فطرت سلیمہ نہیں ہے کہ جس پر رب کریم نے انسان کی تخلیق فرمائی تھی اور آدم کی اولاد کو حکم دیا تھا کہ اس کے بنائے ہوئے کو تبدیل ہرگز مت کرنا مگر ذریت آدم اب خدا کی بھی کہاں سنتی ہے کہ ہم نے اس کے کار ہائے تخلیق میں مداخلت کرنا اپنا فرض عین سمجھا ہوا ہے۔ سو اس چھیڑ چھاڑ ہی کے ثمرات ہیں کہ اس وحشی بھیڑیے کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اگر اس کو اپنے راستے میں کوئی بھی بھیڑ نظر آ جائے تو اس کو سنگ دلی سے چیر پھاڑ دیتا ہے۔ یہاں تک کے اس دنیا میں بھیڑوں کے جھنڈ میں موجود کوئی بھی بھیڑ اس بھیڑیے کے شر سے محفوظ نہیں رہتی ہے۔

جبکہ ہونا تو یہ چاہے تھا کہ ہمیں اس نونہال کے اندر کی بھیڑ کی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے اندر کے اس بھیڑیے کو مسلمان کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ ایک ایسا مسلمان جس کے ہاتھ اور زبان سے ہر ذی نفس محفوظ ہو۔ ایک ایسا انسان جس سے لوگ زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔ جان لیں کے اپنے اندر کے اس بھیڑیے کو مارنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کو واپس اپنی اس اصل حالت میں مسلمان کر کے میٹھی نیند سلا دینا ہے تاکہ بوقت ضرورت وہ بیدار ہو کر ان معصوم بھیڑوں کے ساتھ کھڑا ہو سکے۔

اس وقت جب کبھی کہیں بھیڑیوں کے جتھے ان بھیڑوں پر حملہ آور ہوں۔ یاد رکھیں کہ یہ مسلمان بھیڑیا نہ صرف ان بھیڑیوں کے خلاف لڑنے والا ہو گا بلکہ ان معصوم بھیڑوں کا بہترین رفیق کار بھی ثابت ہو گا۔ یہ بھی جان لیں کے اللہ کے حضور قربانی صرف بھیڑ کی ہی کی قبول ہوتی ہے بھیڑیے کی نہیں کیونکہ بھیڑ ہی جس کے سینے میں بے عیب دل موجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہابیل ایک بھیڑ تھا اور قابیل ایک وحشی بھیڑیا کہ جس کو اس کے دل میں پنپنے والے روگ نے کہیں کا بھی نہ چھوڑا تھا۔

Facebook Comments HS