اسلام میں خدا کا تصور: الغزالی کی آبی گھڑی


الغزالی کے مذہبی خیالات بظاہر بہت مبہم نظر آتے ہیں۔ وہ ایک طرف تو اشعریوں کے نظریات اپناتے ہیں جن کے مطابق خدا کائنات میں ہر چیز کو تخلیق اور کنٹرول کرتا ہے اور دوسری طرف وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات ایسے قوانین فطرت کے مطابق چل رہی ہے جو اٹل ہیں اور کبھی نہیں بدلتے۔ اشعری نظریات کے مطابق وجہ اور اس سے وابستہ اثر میں کوئی تعلق نہیں۔ جو کچھ اس کائنات میں ہوتا ہے، خدا کی براہ راست مداخلت اور مرضی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

مگر کائنات کا نظام بظاہر قوانین فطرت کی بنیاد پر چل رہا ہے، اور ہم کبھی بھی ان قوانین سے انحراف نہیں دیکھتے۔ مثال کے طور پر جب ہم کوئی چیز چھوڑتے ہیں تو وہ زمین کی طرف حرکت کرتی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ وہ چیز اوپر کی طرف حرکت کرے۔ مگر اشعری نظریہ کے مطابق، چیز زمین پر اس لیے نہیں گرتی کہ یہ قانون فطرت ہے۔ بلکہ یہ اس لیے گرتی ہے کیونکہ ایسا خدا چاہتا ہے۔

یہ ایک تضاد معلوم ہوتا ہے اور اس سے ابہام پیدا ہوتا ہے کہ الغزالی کا صحیح موقف کیا ہے۔ وہ کہاں کھڑے ہیں؟

مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک تمثیل جس کا ذکر الغزالی نے اپنی کتابوں میں کیا ہے ان کے موقف کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے خیالات اشعری اور فلسفیوں، دونوں سے متاثر تھے۔ وہ کائنات کی تخلیق کا موازنہ پانی کی گھڑی کی تخلیق اور چلانے سے کرتے ہیں۔ یہ مثال ان کی دو کتابوں میں پیش کی گئی ہے : المقصد الاسنا فشار اسماء اللہ الحسنہ (خدا کے خوبصورت ناموں کی وضاحت میں سب سے اعلیٰ مقصد) اور اربعین (چالیس میں سے ) ۔

الغزالی کے مطابق کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ خدا کی مرضی تین الہی اعمال کے ذریعے چلتی ہے :

سب سے پہلے، خدا نے اپنے حکیمانہ اصول سے کائنات کے لیے ایک ایسا ڈیزائن بنایا جس میں اسباب اثرات کا باعث ہوں گے اور یہ ڈیزائن ابد تک موجود رہے گا۔ الغزالی کے مطابق، اگرچہ خدا جو کچھ کرنا چاہتا ہے، کرنے کی مکمل طاقت رکھتا ہے، لیکن اس نے ایک ایسی کائنات کی منصوبہ بندی کی جسے فطرت کے بعض قوانین کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔

دوسرے مرحلے میں، خدا ”مطلق، بنیادی، مقررہ اور مستحکم“ اسباب قائم کرتا ہے جو نہ ختم ہونے والے ہیں اور نہ ہی وقت کے آخر تک تبدیل ہوں گے۔ یہ ”زمین، سات آسمان، ستارے، سیارے، اور ان کی دائمی حرکت“ ہیں جیسا کہ خدا نے حکم دیا ہے۔ الغزالی اس مرحلے کو مطلق دائمی اسباب کا مطلق قیام کہتے ہیں۔ اس طرح، اس دوسرے مرحلے میں، خدا تمام فلکی اجسام پر مشتمل کائنات کو تخلیق کرتا ہے جو بعض ایسے قوانین کے مطابق چلے گی جو ہمیشہ قائم رہیں گے۔

تیسرے مرحلے میں، جس کا نام قدر (پہلے سے طے شدہ) ہے، اس میں کائنات کا حقیقی چلنا شامل ہے۔ مندرجہ بالا اسباب کے بارے میں خدا کی ہدایت کائنات کے پہلے لمحے سے دوسرے لمحے تک ارتقاء کا باعث بنتی ہے۔ ارتقاء پہلے مرحلے میں وضع کردہ قوانین کے مطابق ہے۔ یہاں پر الغزالی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ایک مشین کی طرح جو کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی، کائنات کا ارتقاء اسباب اور اثر کے قوانین کے مطابق ہوتا ہے جو خدا کے بنائے ہوئے ہیں۔

الغزالی نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سب کچھ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ خدا کے حکم اور عزم کے باہر کوئی چیز کیوں موجود نہیں ہے۔

الغزالی نے پانی کی گھڑی کی مثال سے کائنات کی تخلیق اور چلانے میں خدا کے کردار کی وضاحت کی ہے۔ الغزالی کے الفاظ میں پانی کی گھڑی کی تعمیر کچھ اس طرح ہے :

”اس میں ایک سلنڈر کی شکل میں ایک آلہ ہے جس میں پانی کی معلوم مقدار موجود ہے۔ اور ایک اور کھوکھلا آلہ ہونا چاہیے جو سلنڈر کے اندر پانی کے اوپر تیرتا ہوا ہو۔ اس آلے میں ایک تار اس طرح لگا ہوا ہے کہ تار کا ایک سرا اس کھوکھلے آلے کے ساتھ بندھا ہوا ہے جبکہ اس کا دوسرا سرا کھوکھلے سلنڈر کے اوپر رکھے ہوئے ایک چھوٹے کنٹینر کے نیچے سے بندھا ہوا ہے۔ اس کنٹینر میں ایک گیند ہے اور اس کے نیچے ایک کھوکھلا دھات کا ڈبہ اس طرح رکھا گیا ہے کہ اگر گیند کنٹینر سے نیچے گرے تو دھات کے ڈبے میں جا گرے اور اس کی آواز سنائی دے۔

مزید برآں، سلنڈر کی شکل کے آلے کے نچلے حصے میں ایک خاص سائز کا ایک سوراخ بنایا گیا ہے تاکہ اس میں سے پانی آہستہ آہستہ بہتا رہے۔ جیسے جیسے پانی کی سطح کم ہوتی ہے، پانی کی سطح پر رکھا ہوا کھوکھلا آلہ نیچے کی طرف حرکت کرتا ہے، اس طرح اس کے ساتھ جڑی ہوئی تار کھنچنے لگتی ہے اور دہ کنٹینر جس میں گیند موجود ہے اس طور حرکت کرتا ہے کہ تقریباً جھک جاتا ہے۔ ایک بار جب یہ جھک جاتا ہے، گیند اس سے باہر نکلتی ہے اور دھاتی باکس میں گرتی ہے اور گھنٹی بجتی ہے۔ ہر گھنٹے کے آخر میں ایک گیند گرتی ہے۔“

اس تفصیل سے، یہ واضح ہے کہ پانی کی گھڑی کی تشکیل اس وقت مکمل ہوتی ہے جب تین شرائط پوری ہوتی ہیں :

پہلے مرحلے میں، گھڑی بنانے والا ڈیزائن تیار کرتا ہے جس میں تمام آلات اور ان کی خصوصیات کی شناخت شامل ہوتی ہے۔ مقصد ایک ایسا آلہ بنانا ہے جو مناسب وقت پر ٹن کی آواز دے گا۔ اس کا ڈیزائن ایسا ہے کہ، وجہ اور اثر کی ترتیب کے ذریعے، گھڑی مقررہ وقت پر گھنٹی کی آواز پیدا کرتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں گھڑی میں موجود تمام ضروری آلات کو اکٹھا کرنا ہے، اور انہیں ڈیزائن کے مطابق ان کی مخصوص جگہوں پر جوڑنا ہے۔ گھڑی اب آپریشن کے لیے تیار ہے۔

آخری مرحلے میں، گھڑی ساز سلنڈر کے نچلے حصے میں ایک سوراخ بنا کر پہلا سبب متعارف کراتا ہے جس سے پانی نیچے آتا ہے اور پانی کی گھڑی پلان کے مطابق چلنا شروع کر دیتی ہے۔

الغزالی کے مطابق یہ تمام حرکات ایک معلوم ترتیب کے مطابق ہیں اور ہر قدم کی وجہ پہلے قدم سے معلوم کی جا سکتی ہے جو کہ پانی کی حرکت ہے۔

الغزالی نے اس مثال کو کائنات کی تخلیق اور ارتقا کو واضح کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

جس طرح پانی کی گھڑی کے پرزوں کی حرکات کو ایک مخصوص ترتیب میں اگلی حرکت کا سبب بننے کے ساتھ منظم کیا جاتا ہے، اسی طرح کائنات میں ہونے والے واقعات بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر واقعہ اپنے وقت پر ہوتا ہے، نہ جلدی اور نہ دیر سے۔ یہ واقعات اس وقت رونما ہوتے ہیں جب ان کے ہونے کی وجہ موجود ہو۔

الغزالی کے مطابق آسمانی اجسام جیسے ستارے، سیارے، سورج، چاند، زمین، نیز سمندر، جنگلات اور ہر چیز آبی گھڑی کے حصوں کی مانند ہے۔ وہ وجہ جو کائنات کو شروع کرتی ہے اور کائنات کو ایک منصوبہ کے مطابق حرکت دیتی ہے وہ اس سوراخ کی مانند ہے جس میں سے پانی بہتا ہے۔ پانی کے بہنے کی رفتار سوراخ کے سائز پر منحصر ہے۔ اجسام فلکی کی حرکت کی بدولت زمین پر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جس طرح پانی کی حرکت پانی کی گھڑی کے دوسرے حصوں کی حرکت کو جنم دیتی ہے اور جس سے گھنٹی بجتی ہے۔ سورج کی حرکت دن رات اور مختلف موسموں کو جنم دیتی ہے۔ ان کے نتیجے میں، انسانوں کی مختلف سرگرمیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔

اس طرح، خدا کا ڈیزائن اور اس کی مرضی، کائنات میں ہونے والی ہر چیز کے لیے اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح گھڑی ساز کا ڈیزائن اور مرضی پانی کی گھڑی کے اندر ہونے والی چیزوں کے لیے ذمہ دار ہے۔

اس مثال سے الغزالی کا موقف واضح ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا پہلا سبب تو خدا ہے۔ تاہم، اس نے ایک ایسی کائنات بنائی جس میں سبب اور اثر کا سلسلہ اس کی براہ راست مسلسل شمولیت کے بغیر جاری رہتا ہے۔

جدید تشریح کے مطابق، الغزالی کا موقف کچھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ خدا کائنات کا خالق ہے، اور ہر شے پر قادر ہے۔ وہ جو کچھ بھی بنا نا چاہتا، بنا سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایک ایسی کائنات بنانے کا فیصلہ کیا جو ان قوانین کے مطابق چلائی جائے گی جو سبب اور اثر کے تعلق کے مطابق ہو گی۔ تاہم خدا اپنا ’ذہن‘ بدل سکتا ہے اور ایسے واقعات کی اجازت دے سکتا ہے، جو مشاہدہ کردہ قوانین فطرت کے مخالف ہوں اور جنہیں ہم معجزات قرار دیتے ہیں۔

خدا کی یہ تصویر اشعری کے اصولوں کے ساتھ ساتھ فلسفیوں اور عقلیت پسندوں کے اصولوں کے مطابق ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy