چلہ (چیلاہ) کی تیاری


دنیا میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بہت ساری تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں سے ایک بڑی تبدیلی موسمی تبدیلی ہے، ان موسمی تبدیلیوں میں سے ایک برفیلے علاقوں میں برف کا نہ پڑنا بھی ہے۔ موسم کی اس تبدیلی کا اثر پہاڑی خطوں کی ثقافت پر بھی پڑا ہے۔ چترال میں پرانے زمانے میں تقریباً چار مہینے سردی پڑتی تھی۔ ایسی سردی کہ جس کی وجہ سے معاشرتی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ سردیوں کے موسم کو دنوں کے حساب سے تقسیم کیا جاتا تھا۔ علاقے کے لوگ ان سردیوں کو گزارنے کے لیے خصوصی تیاری کرتے تھے۔ سردیوں کے لیے یہ تیاری ثقافت کا حصہ خیال کیا جاتا تھا۔ لیکن اب موسم بدل جانے کی وجہ سے وہ تمام سرگرمیاں علاقے سے معدوم ہو گئی ہیں جو پہلے ضروری تصور کی جاتی تھیں۔ موسم میں ایسی تبدیلی آئی ہے کہ جنوری میں بھی چترال میں ابھی تک زمین برف سے خالی ہے اور لوگ ٹھنڈ کی شدت سے بے پروا گھوم پھر رہے ہیں اور معمولات زندگی سرانجام دے رہے ہیں۔

زمانۂ قدیم سے چترال میں سردی کے مہینوں کو ان کی شدت کی وجہ سے دنوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں لوٹ چیلاہ (بڑا چلہ) اور چیق چیلاہ (چھوٹا چلہ ) مشہور ہیں۔ لوٹ چیلاہ چالیس دن اور څیق چیلاہ بیس دن کے دورانیے پر محیط ہے۔ چترال میں لوٹ چیلاہ کے یہ چالیس دن زیادہ شدت کے ہوتے تھے۔ جو ٹھونگ شال (چترالی کیلنڈر کا آخری مہینہ) ( دسمبر) کی 20 تاریخ سے شروع ہو کر پھیتنگ (جنوری) کے آخر تک یعنی 40 دن کا عرصہ ہے۔

فارسی میں چلہ چالیس دن کو کہتے ہے، کھوار میں بھی یہ لفظ فارسی سے مستعار لیا گیا ہے ۔ کھو کمیونٹی میں ان سرد دنوں کے متعلق کئی محاورے اور کہاوتیں مشہور ہیں جن سے چترال میں ان دنوں کی سخت سردی کے متعلق اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ علاقے میں سخت سردی کی وجہ سے برف بہت زیادہ پڑتی تھی، نہروں میں پانی جم جاتا تھا۔ اس وجہ سے چترال میں تقریباً زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی تھی۔ چیلاہ اوتیک (چلہ کا شروع ہونا) علاقے میں پریشانی اور خوف کی علامت اور چیلاہ چھیک ( چلہ کا خاتمہ) خوشی کے طور پر لیا جاتا تھا۔ چیلاہ کے دن چترال کے بالائی علاقوں کے باسیوں کے اوپر بہت بھاری تھے۔ یہیں وجہ تھی کہ چیلاہ کے آغاز سے پہلے سردیوں کے ان مہینوں کو گزارنے کے لیے بہت ساری تیاریاں کرنا پڑتی تھیں۔ جن میں سے بہت خاص تیاریاں ذیل ہیں۔

پیݰون : سردیوں کے چار ( 15 دسمبر سے لے کر 15 مارچ تک ) مہینوں میں پن چکی میں غلہ پیسنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا۔ اس وجہ سے سردیوں کی آمد سے پہلے غلہ پیس کر ذخیرہ کیا جاتا تھا تاکہ سردیوں میں پریشانی کا سامنا کرنا نہ پڑے۔ اس طرح پن چکی میں غلہ پیسنے کا یہ عمل کئی دنوں تک جاری رہتا، ایک ساتھ بہت سارا غلہ پیسنے کے عمل کو پیݰون کا نام دیا جاتا تھا۔

دوخنہ یا لشٹی: قدیم زمانے میں مارکیٹ میں چیزیں دستیاب نہیں ہوتی تھیں۔ اس وجہ سے ہر چیز کو ضرورت کے تحت سٹور کر کے رکھ لیا جاتا تھا۔ اس لیے گوشت کی ضرورت کو پوری کرنے کے لیے گھر میں جانور پالتے تھے، ان جانوروں کو خوب کھلا پلا کر فربہ کیا جاتا تھا۔ جب سردیاں شروع ہوتی تھیں، تو یہ جانور ذبح کر کے گوشت کو اسٹور کیا جاتا تھا اور سردیوں میں گوش کی ضرورت پوری کی جاتی تھی۔ گوشت کی دستیابی سے ایک طرح سے سردیوں کی شدت کو بھی کم کرنے کی کوشش ہوتی۔ سردیوں میں ذبح کرنے کے لیے پالے ہوئے جانور کو دو خنہ یا لشٹی کا جانور اور اس عمل کو دو خنہ یا لشٹی کا نام دیا جاتا تھا۔ اس طرح سے سردیوں کے ان دنوں میں ہمسایوں، رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت بھی کی جاتی یوں سردیوں کے سخت دن علاقے کے لوگ مل کے ہنسی خوشی گزارتے۔

دارانو : لکڑی کا ذخیرہ یا سٹاک، جلانے کی لکڑی کا سٹال سردیوں کے اس طویل دورانیے کو گزارنے کے لیے بہت ضروری تھا۔ کیونکہ سردیوں میں پورا علاقہ برف کی چادر اوڑھ لیتا تھا۔ اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے۔ باہر سے کسی بھی طریقے سے جلانے کی لکڑی کا بندوبست ان حالات میں کرنا تقریباً ناممکن ہوجاتا۔ اس لیے سردیوں کے دن شروع ہونے سے پہلے ہی جلانے کی لکڑی کا سٹال جمع کرنا لازمی تھا۔ پھل دار درختوں کو مارچ، اپریل اور غیر پھل دار درختوں کو جون، جولائی کے مہینوں میں کاٹ کر دھوپ میں سکھانے واسطے چھوڑ دیے جاتے۔

جب یہ لکڑیاں سوکھ جاتیں تو ان کو کاٹ کر سلیقے سے گھر کے اندر ایک کونے میں یا الگ کمرے میں سٹاک کیے جاتے۔ سردیوں میں جلانے کے لیے ان لکڑیوں کو ترجیح دی جاتی جن کی تپش دیر تک باقی رہتی اور جن کے جلنے کا عمل بھی دوسری لکڑیوں کی نسبت بہتر ہوتا، تاکہ گھر اور کمرے دیر تک گرم رہیں۔ اس طرح سے لکڑیوں کے اس سٹال کو کھانا پکانے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے استعمال میں لایا جاتا۔

پھراشال :چارے کا ذخیرہ :سردیوں میں پورا علاقہ برف سے ڈھک جانے کی وجہ سے انسانوں کی طرح حیوانات بھی چاردیواری کے اندر قید ہو کر رہ جاتے۔ اس وجہ سے حیوانوں کے لیے چارے کا انتظام بھی سردیوں کے موسم شروع ہونے سے پہلے کیا جاتا۔ مختلف قسم کے چارے سکھا کے رکھے جاتے، گھاس پھوس ذخیرہ کیا جاتا۔ اسے عموماً گھروں کی چھتوں پر سلیقے سے ایستادہ کیا جاتا، اسے پھراشال کہتے یا ایک احاطہ جسے لوار کا نام دیا جاتا تھا ان میں ذخیرہ کیا جاتا، ورنہ سردیوں کے موسم میں حیوانات کو سنبھالنا مشکل ہوتا۔ سردیوں کی شدت اتنی ہوتی تھی کہ حیوانات کو پانی بھی باڑے ہی میں پلائے جاتے تھے۔

سردیوں کے لیے خوراک: سردیوں کے لیے ان خوراک کا بندوبست کیا جاتا جو اپنی فطرت میں گرم ہوتیں۔ یہ خوراک خاص اہتمام کے ساتھ پکا کے کھائی جاتیں۔ روایتی گرم خوراک کے ذریعے سردی کی سخت شدت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی۔ ان روایتی گرم خوراکوں میں شوشپ، دالاپھوشتیک، کیٹوری، چمبور، ژوڑ خاص تھے، جو سردیوں میں بدن کو گرم رکھتے اور سردی کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے تھے۔

امسال جنوری کے مہینے میں وہ علاقے جہاں اس موسم میں گھروں سے نکلنا مشکل ہوتا تھا وہاں پھول کی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں اور پھل دار درختوں میں شگوفے کھل آئے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں گلوبل وارمنگ کا اثر کتنا بڑھ گیا ہے ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments