2024 کی ’انتخابی فلم‘ ناکام کیوں ہو رہی ہے؟


انتخابات 2024 میں 2018 کی ’انتخابی فلم‘ دکھائی جا رہی ہے۔ فلم کا ڈائریکٹر اور پروڈیوسر تو پرانا ہے لیکن اداکار تبدیل ہو گئے ہیں۔ یہ ’نئے‘ اداکار چونکہ پہلے بھی اس کردار میں منظر عام پر آتے رہے ہیں، اس لیے لوگ حیران و پریشان ہیں کہ اگر انہی پرانے آزمودہ و ناکام اداکاروں کو لانا تھا تو کم از کم کہانی ہی تبدیل کر دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخابی فلم کے فلاپ ہونے کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔

کہانی فرسودہ اور جانی پہچانی ہونے کی وجہ سے ساری پروڈکشن نئی ہونے کے باوجود عوام کے لیے کوئی دلکشی پیدا نہیں ہو سکی۔ دراصل اس فلم کا ہر منظر، ہر ڈائیلاگ اور ساری ترتیب پرانی ہے۔ کسی منظر کو آگے پیچھے کر کے فلم میں کوئی سسپنس پیدا کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ البتہ تشدد آمیز زور زبردستی کے مناظر میں اضافہ کر کے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا ہے جس سے لوگوں میں جوش و ولولہ کی بجائے مایوسی و پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ خوف اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی ہے اور ملک کے بارے میں بھی درجنوں سوال سر اٹھاتے ہیں۔ عوام کی اکثریت ان سوالوں کے مناسب جواب تلاش کرنا چاہتی ہے۔ بلکہ وہ اس ساری افسوسناک صورت حال کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن انہیں لگتا ہے کہ پرانے ہتھکنڈوں سے کوئی نیا نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ جیسے 2018 میں نواز شریف اور مریم نواز کو انتخاب سے پہلے جیل میں بند کر کے اور متعدد مقدمات میں انہیں نا اہل قرار دے کر، انتخابی معرکے سے باہر کیا گیا تھا۔ بعینہ اب عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے علاوہ عمران خان کی گھریلو پردے دار اہلیہ بشریٰ بی بی کو طویل سزا دے کر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے متعدد دیگر لیڈر بھی مسلسل قید میں ہیں۔ اگر کوئی عدالت انہیں رہا کرنے کا حکم صادر بھی کردے تو بھی پولیس کے پاس متعلقہ شخص کی گرفتاری کا نیا حکم نامہ ہوتا ہے اور وہ جیل کے باہر اس کی رہائی کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ تاکہ یا تو اسے واپس جیل بھیج دیا جائے یا کسی ’خفیہ‘ مقام پر منتقل کر کے چند روز میں کسی نئی عدالت سے ریمانڈ لینے کا اہتمام کیا جائے۔

کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ملک میں قانون کا احترام نہیں ہو رہا۔ ہر قانون پر اس کے سیاق و سباق کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے۔ اسی سے یہ گمان ہوتا ہے کہ اگرچہ محاورتاً قانون اندھا ہوتا ہے لیکن پاکستان کا قانون حسب ضرورت دیکھنے کی صلاحیت سے مالامال ہے۔ جیسے چند دن پہلے تک بلوچستان کی کچھ خواتین اور بچے اسلام آباد میں کیمپ لگا کر دن رات شور مچاتے رہے تھے کہ ان کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے، ان کے مردوں کو غیر قانونی طور سے لاپتہ کرنے کا طریقہ ختم کیا جائے۔ لیکن نگران وزیر اعظم یہ کہہ کر کندھے اچکاتے ہوئے ایک طرف ہو گئے کہ وہ تو عبوری طور سے اقتدار میں ہیں، اس لیے ان سے اس بارے میں سوال نہ کیا جائے۔ البتہ اس سوال جواب میں انہوں نے مظاہرین کی ہمدردی میں غیر معمولی سرگرمی دکھانے والوں کو کھری کھری سنا دی تھیں۔ انہیں اگر احتجاج کرنے والوں کا دکھ اتنا ہی ستاتا ہے تو وہ کھل کر سامنے آئیں اور علیحدگی پسندوں کے کیمپ میں شامل ہوجائیں۔ تاکہ حکومت و ریاست کو بھی معلوم ہو کہ یہ لوگ کسی طرف کھڑے ہیں۔

ریاست اس معاملہ میں ہمیشہ کی طرح خاموش ہے۔ ایران نے جب پاکستانی علاقے میں اپنے ’مجرموں‘ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے میزائل داغے تو ایک ہی دن بعد پاکستان نے ایرانی علاقے میں اپنے ’دشمنوں‘ پر جوابی حملہ کر کے ایران کو متنبہ کر دیا کہ وہ اپنی خود مختاری کے سوال پر خاموش نہیں رہے گا۔ لیکن لگے ہاتھوں ان لوگوں کے ساتھ بھی حساب برابر کر لیا جو اس کی نظر میں دہشت گرد ہیں اور اپنے حقوق کی جد و جہد کرتے ہوئے صرف مظاہرہ ہی نہیں کرتے بلکہ ہتھیار اٹھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ ریاست اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی اس لڑائی میں کوئی سیاست دان مداخلت کرنے پر آمادہ نہیں ہے حالانکہ ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں اور درجنوں پارٹیاں عوام کی بہبود کا دعویٰ کرتے ہوئے ووٹ مانگنے کے لیے میدان میں اتری ہوئی ہیں۔ اسی تنازع میں چند دن پہلے مچھ جیل پر حملے کا گھناؤنا وقوعہ بھی پیش آیا۔ دہشت گردوں کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے کچھ لوگ بھی مارے گئے لیکن کسی قومی سیاست دان یا مقامی رہنما کو اس معاملہ میں ایسی کوئی سنگینی دکھائی نہیں دی جس سے ملکی سالمیت اور عوام کے تحفظ کو خطرہ دکھائی دے رہا ہو۔ اس بارے میں نہ کوئی بیان جاری ہوا اور نہ یہ بتایا گیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ بلوچستان میں پائی جانے والی شدید بے چینی کا کیسے تدارک کریں گے۔

اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ انتخابی فلم کو سختی سے اسکرپٹ کے مطابق چلانے کا ارادہ کیا گیا ہے جو پہلے سے تیار شدہ ہے اور جسے عام طور سے فول پروف سمجھا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ’فول پروف‘ کہانی میں صرف کردار بدل دینے سے کیسے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا اور پرانے تجربہ کار سیاست دان کیوں کر عمران خان جیسے ’نوآزمودہ اور جذباتی‘ لیڈر کے مقابلے میں ہاتھوں پر سرسوں جمانے کا عملی مظاہرہ کریں گے۔ عمومی حکمت کا تقاضا تو یہی ہے کہ کہانی پرانی ہو تو اس میں کردار نئے ہوں اور اداکار پرانے رکھے جائیں تو کہانی میں کوئی نیا موڑ ڈالا جائے۔ البتہ ملک میں چلنے والی انتخابی فلم دیکھتے ہوئے شدید بوریت کا احساس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ٹی وی اینکر سے لے کر جج کا کردار ادا کرنے والا اداکار تک، پرانے ڈائیلاگ حتی کہ فرسودہ بڑکوں سے ہی کام چلا رہے ہیں۔ ڈائریکٹر کی اس کوتاہی نے تماش بینوں کی دلچسپی کو کم کیا ہے اور عام طور سے کہا جا رہا ہے کہ جس کھیل کا انجام پہلے سے ہی معلوم ہے، اسے دیکھنے میں وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟

حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ نہ صرف انجام پہلے سے معلوم ہے بلکہ یہ بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ ’ہیرو‘ قرار دیے گئے کرداروں کی ساری پریشانیاں اور دشواریاں کسی غیر مرئی اور ان دیکھی قوت سے حل ہو رہی ہیں۔ اس بار جو شخص ’ولن‘ قرار پایا ہے، اس کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا جا رہا ہے جو اس سے پہلے ولن سمجھے جانے والے کرداروں کے ساتھ برتا جاتا تھا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ خوشی خوشی ’ہیرو‘ کا کردار نبھانے والے اگرچہ ماضی قریب میں اندوہناک انجام کا سامنا کرتے آئے ہیں لیکن وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں کہ کہانی کار ہیرو کو کسی وقت بھی ولن بنا سکتا ہے۔ بلکہ جس دیکھے بھالے اسکرپٹ پر عمل ہو رہا ہے، اس کے مطابق تو ہیرو کی کامیابی کی مدت دو سے تین سال ہی ہوتی ہے۔ البتہ کسی خصوصی صورت حال میں اس میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے۔ لیکن بہر صورت ہیرو کو زیرو بنا کر باور کروانا ضروری ہوتا ہے کہ اس کی ’اوقات‘ کیا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ اس بور کہانی اور فرسودہ ناٹک سے عوام کی بیزاری کیا رنگ لا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اس پہلو سے کہانی پرکھنے اور منظر ترتیب دینے پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ جیسے سیدھا سوچنے اور دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ لیفٹ رائٹ کی طرح ہمیشہ ہر قدم درست سمت ہی پڑتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی دھمک دیکھنے والے پر دھاک بٹھاتی رہتی ہے۔ ڈائریکٹر و پروڈیوسر کے اس مزاج کو تو سمجھا جا سکتا ہے کیوں کہ انہیں ایسی ہی دو جمع دو، چار والی تفہیم کی تربیت حاصل ہے۔ لیکن وہ جن کرداروں کو چن کر ایک بار پھر دو جمع دو، چار کا نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں، انہیں طویل تجربے اور سرد و گرم چکھنے کی بدولت بخوبی اندازہ ہے کہ سیاست اور انتخابی کھیل میں ہمیشہ طے شدہ کلیہ کامیاب نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ریاضی کا کوئی اصول نہیں ہے بلکہ انسانوں کے جذبات، ضرورتوں اور سوچ کا معاملہ ہے۔ اسی لیے زیادہ حیرت ان کرداروں پر ہی ہونی چاہیے جو موقع ملتے ہی ڈائریکٹر کی ہر اس خواہش کو واہ سبحان اللہ کہہ کر قبول کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ یقین سے جانتے ہیں کہ پانسہ الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔

تو یہ کردار کیا کریں؟ انہیں کم از کم کہانی کی کجی کے بارے میں بتانا چاہیے اور کہانی کار کو اس بات پر قائل کرنا چاہیے کہ ہر بار کسی سابق وزیر اعظم کی خواہشوں کی لاش پر نیا وزیر اعظم بنانے سے عوام اس کہانی کی یکسانیت سے اوب جائیں گے اور غصے میں کچھ بھی کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ کردار اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ آج اگر ایک سابق وزیر اعظم کو بے آبرو کیا جا رہا ہے تو آنے والے کل میں ان کے مقدر میں بھی یہی رسوائی لکھی جائے گی۔ ناکام اور فرسودہ کہانی اور زور زبردستی کے ناجائز ہتھکنڈوں کے سبب یہ کھیل پہلے ہی اپنی اہمیت و افادیت کھوتا جا رہا ہے۔ جس کہانی کا ہیرو بے بس ہو اور عوام کی چیخ و پکار پر کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے، اسے تو لوگ ولن سے بھی کم اہمیت دیں گے۔ کہانی میں کم از کم اتنی تبدیلی اب اداکاروں اور دیکھنے والوں کے یکساں مفاد میں ہے کہ سابق وزیر اعظم کو ایک ہی طریقے سے ایک ہی انجام سے دوچار کرنے کا سیکوئنس ہی تبدیل کر دیا جائے۔

سب اشارے یہ تعین کر رہے ہیں کہ نواز شریف 8 فروری کو ریلیز ہونے والی ’انتخابی فلم‘ کے ہیرو ہیں۔ وہ پہلے بھی ایسی فلموں میں ہیرو کے علاوہ ولن بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں اس اہانت اور بے بسی کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے جو ہیرو کی مسند سے پاتال میں پھینکے جانے سے محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے جب تک انہیں ہیرو کا مقام و مرتبہ میسر ہے، وہ کم از کم یہ تو کر سکتے ہیں کہ ڈائریکٹر کا جی بھرنے کے باوجود وزیر اعظم کے عہدے کو وقار و احترام میسر رہے۔ اس عہدے پر فائز رہنے والے کسی بھی شخص کے جرائم پر ضرور سزا دی جائے لیکن اس کے لیے کوئی ایسا عدالتی فورم تجویز کیا جائے جو کم از کم کسی ہائی کورٹ کے مساوی رتبہ کا حامل ہو اور اس کے فیصلے کے خلاف اپیل براہ راست سپریم کورٹ میں سنی جائے۔ کسی بھی سابق وزیر اعظم کو اس وقت تک گرفتار کر کے جیل میں نہ ڈالا جائے جب تک اس پر کوئی سنگین جرم حتمی طور سے ثابت نہ ہو جائے اور سزا تبدیل کرنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ سابق وزیر اعظم اگر آئین شکنی یا ایسے ہی سنگین جرم میں بھی ملوث رہا ہو، پھر بھی کسی داغدار ٹرائل میں اسے بے عزت کرنے کا اہتمام نہ کیا جائے۔

ہو سکتا ہے کہ انتخابی معرکے کے بعد بننے والی حکومت کو یہ رعایت کسی ایسے شخص کو دینی پڑے جسے نیچا دکھانا سیاسی لحاظ سے ضروری ہو۔ لیکن سوچ لیا جائے کہ ملک کی مختصر تاریخ میں منظر تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔ آج ہوش مندی سے کیے گئے فیصلے آنے والے کل میں سب کے لیے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali