نواب صادق خان عباسی (پنجم) کی صاحبزادی سے ایک ملاقات


میری نظر بیتابی سے اس پردے پر جمی ہوئی تھی جس کے عقب سے ریاست بہاولپور کے آخری فرمانروا، نواب صادق محمد خان عباسی پنجم کی آخری صاحبزادی کو نمودار ہونا تھا۔

بات آگے بڑھانے سے پہلے یار لوگوں کو بتاتا چلوں کہ یہ وہی نواب صاحب ہیں جنہوں نے نہ صرف بہاولپور کی تعمیر و ترقی اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کلیدی کردار ادا کیا بلکہ تقسیم ہند کے بعد نوزائیدہ مملکت پاکستان کو بھی اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے بھرپور مدد کی۔ مختلف روایات کے مطابق پاکستان کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ابتدائی ایام میں ریاست بہاولپور کے خزانے سے ہی ادا کی جاتی رہیں۔ ریاست کی فوج کو بھی پاکستانی فوج میں ضم کر دیا گیا۔ ریاست کے سونے کے ذخائر نو قائم شدہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سپرد کر دیے گئے کہ کرنسی چھاپی جا سکے۔ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور اور میریٹ اسلام آباد میں کھڑی بیش قیمت کیڈلک اور رولز رائس گاڑیاں بھی ہمیں ان تحفوں کی یاد دلاتی ہیں جو نواب صاحب نے قائد اعظم کو بطور گورنر جنرل ان کے سرکاری استعمال کے لیے دیے۔ نواب صاحب نے نوزائیدہ مملکت کی ائر لائن کی بنیاد رکھنے کے لیے بھی مالی معاونت فراہم کی۔ اور اس نوعیت کی اور بہت سی نوازشات!

کسی فرد واحد کے قیام کے بعد پاکستان پر اتنے احسانات نہیں جتنے نواب صاحب کے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف تو خود قائد اعظم نے انہیں محسن پاکستان کا خطاب دے کر کیا۔

اور پھر ہم یہ بھی کس طرح بھول سکتے ہیں کہ ہندوستان کی تمام تر ریشہ دوانیوں اور اس کی دلفریب پیشکشوں کو ٹھکرا کر نواب صاحب نے اپنی ریاست کو پاکستان میں ضم کر دیا تھا کہ جو آج پنجاب کے سب سے بڑے ڈویژن کی صورت میں صوبے کے تقریباً پانچویں حصے پر موجود ہے۔

انہی نواب صاحب کی بابت ابھی کچھ دن پہلے ہی میرے علم میں آیا تھا کہ ان کی ایک بیٹی نہ صرف اب تک حیات ہیں بلکہ بہاولپور سے کچھ فاصلہ پر احمد پور شرقیہ کے قصبے میں مقیم ہیں۔ میرے لیے یہ خبر غیر متوقع تھی اور انتہائی خوشگوار بھی۔ غیر متوقع اس لیے کہ نواب صاحب کو تو رخصت ہوئے عرصہ ساٹھ سال ہوا چاہتے ہیں اور اب ہمارا واسطہ ان کے پوتوں اور پڑپوتوں سے پڑتا ہے، اس صورتحال میں نواب صاحب کی اپنی اولاد کے حیات ہونے کے امکانات تو نہ ہونے کے برابر تھے۔ اور پھر میں تو بہاولپور میں چند سال پہلے بطور ڈپٹی کمشنر بھی تعینات رہا، میں نے تو کبھی ان کا ذکر نہیں سنا تھا۔

اور خوشگوار اس لیے کہ میں تہ دل سے نواب صاحب کے پاکستان کے لیے احسانات کا ممنون اور شکر گزار ہوں، صرف کہنے کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر بھی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ نواب صاحب دراوڑ کے پہلو میں اپنے خاندانی قبرستان میں، کسی حد تک گمنامی میں، مٹی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔

اور ہر سال ان کی برسی خاموشی سے گزر جاتی ہے۔

اس سال ان کی برسی کے موقع پر ہم نے پورے ڈویژن میں، جو الحاق سے قبل ریاست بہاولپور تھا، سرکاری چھٹی کی روایت شروع کی۔ تعلیمی اور دیگر اداروں میں اس حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ڈویژن کے سربراہ کے طور پر اپنے دفتر میں نواب صاحب کا پورٹریٹ بھی آویزاں کیا۔ مزید یہ کہ قلعہ دراوڑ اور نواب صاحب کی دیگر نشانیوں کے تحفظ اور بقا کی کوشش کر رہے ہیں۔

نواب صاحب کے خاندان کے کسی بھی فرد سے ملاقات کو میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں، انتہائی احترام اور محبت کو ملحوظ خاطر رکھتا ہوں۔ اب اک ایسے شخص کو یہ خبر ملے کہ نواب صاحب کی صاحبزادی حیات بھی ہیں اور موجود بھی تو میں بیتاب کیونکر نہ ہوتا!

فوراً ہی ملاقات کا ارادہ کر لیا اور اس حوالے سے تیاری شروع کر دی۔

پہلا مرحلہ معلومات اکٹھا کرنے کا تھا۔ پتہ چلا کہ نواب صاحب کی تین صاحبزادیاں حیات ہیں، شہزادی شفیقہ عباسی لندن میں مقیم ہیں اور شہزادی خلیقہ عباسی کراچی میں۔ شہزادی زہرہ عباسی نواب صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں اور احمد پور شرقیہ میں، نواب صاحب کے آخری دور کی قیام گاہ، صادق گڑھ پیلس کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں۔ اور یہ کہ اب ان کی عمر بھی پچاسی سال کے لگ بھگ ہے۔

دوسرا مرحلہ رابطہ کاری کا تھا۔ ان کے صاحبزادے محسن عباسی صاحب کا فون نمبر حاصل کیا اور شہزادی صاحبہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا جو انہوں نے کمال مہر بانی کرتے ہوئے فوراً قبول کر لی۔

مقررہ دن پر میں اپنے ایڈیشنل کمشنر، اشفاق سیال کے ہمراہ ان کے گھر جا پہنچا۔ یہ حویلی نما گھر صادق گڑھ پیلس کی مغربی دیوار سے تقریباً متصل تھا اور اب مرمت کا طالب نظر آتا تھا۔ محسن عباسی صاحب نے ہمیں پرانے فرنیچر سے مزین ایک سادہ سی بیٹھک میں جا بٹھایا۔ ایک جانب ایک پرانا ٹی وی پلاسٹک کی چادر اوڑھے دھرا تھا۔ دیواروں پر جا بجا، اور زیادہ تر بلیک اینڈ وائٹ، تصویریں آویزاں تھیں جو ریاست کے دور سے متعلقہ لگ رہی تھیں اور جنہیں عام دنوں میں ہم دلچسپی سے دیکھتے، اس دم ہم مگر شہزادی صاحبہ کے منتظر تھے۔

انتظار کی گھڑیاں تمام ہوئیں۔ پردہ سرکا اور شہزادی صاحبہ اپنے صاحبزادے اور پوتے کی ہمراہی میں داخل ہوئیں، جنہوں نے انہیں دونوں اطراف سے سنبھال رکھا تھا۔ اجلے کپڑوں میں ملبوس، ضعف کے دروازوں پر دستک دیتی، شہزادی صاحبہ کے چہرے پر اب بھی ایک وقار تھا۔ ہم نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔ وہ میرے قریب ہی صوفے پر نشست افروز ہو گئیں۔ سلسلہ گفتگو تعارف سے شروع ہوا۔ وہ سرائیکی میں اظہار سخن کر رہی تھیں۔ شاید عمر کا تقاضا تھا کہ لہجہ نہایت دھیما تھا اور انہیں سننے اور سمجھنے کے لیے تگ و دو کرنا پڑ رہی تھی۔ اپنی بابت بتانے لگیں کہ سب سے چھوٹی اولاد ہونے کے ناتے نواب صاحب ان سے خصوصی شفقت فرماتے تھے اور یہ بھی کہ انہیں ’نکی‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ خود ہی بتانے لگیں کہ ان کی پیدائش کے لیے گلزار نامی لیڈی ڈاکٹر ملتان سے آئی تھیں۔ یہ بھی بتایا کہ زنان خانے میں مرد تو مرد کسی کبوتر کو بھی پر مارنے کی مجال نہ ہوتی تھی۔ کہنے لگیں نواب صاحب ہمیں ریشم، ململ، بنارسی، کمخواب اور جارجٹ کے علاوہ کوئی کپڑا نہ پہنتے دیتے تھے۔ اور یہ کہ نواب صاحب زیادہ تر گفتگو سرائیکی میں کرنا پسند کرتے تھے، اور شہزادے شہزادیوں کو انگریزی کے ساتھ ساتھ سرائیکی زبان سکھانے کے لیے بھی اتالیق مقرر کر رکھے تھے۔ وہ سنا رہی تھیں اور ہم یادوں کے موتی چننے کے لیے ہمہ تن گوش بیٹھے تھے۔ کوئی بات سمجھ آتی، کوئی رہ جاتی جس کا باقاعدہ افسوس ہوتا۔ ایک دم خیال آیا کہ ہم تو ان تک پہنچ گئے، زیادہ تر لوگ تو ان کی موجودگی سے بے خبر ہوں گے اور ملنے سے قاصر۔ شہزادی صاحبہ کی یادداشتیں تو باقاعدہ محفوظ ہونی چاہئیں کہ جن کے ذریعے ہم براہ راست ریاست کے دور میں جھانک سکیں۔ اور اب تو ویسے بھی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے، خصوصی اہتمام سے اور شہزادی صاحبہ کے آرام اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے، متعدد نشستوں میں، ضروری سوالات تیار کر کے، ایسے کام کو سمجھنے اور سرائیکی زبان پر عبور رکھنے والے کسی شخص کے ذریعے ان کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کرتے ہیں۔ ان کے صاحبزادے کے سامنے تجویز پیش کی تو انہوں نے آمادگی کا اظہار کر دیا۔

یہ بھی پتا چلا کہ اگرچہ شہزادی صاحبہ صادق گڑھ پیلس کے پہلو میں ہی مقیم ہیں لیکن تقریباً بیس سال ہونے کو ہیں وہاں نہیں گئیں کہ جب 2004 میں آخری بار پیلس گئی تھیں تو جس قدر شکست و ریخت کا وہ شکار ہو چکا تھا، اور جیسی بیابانی کا منظر پیش کر رہا تھا، شہزادی صاحبہ اس کی تاب نہ لا کر بے ہوش ہو گئی تھیں۔ جہاں کبھی دربار سجا کرتے تھے، بگل بجا کرتے تھے، با ادب، با ملاحظہ، ہوشیار کی صدائیں لگا کرتی تھیں، تہہ در تہہ مددگار ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے، مہمانوں کی تواضع، سائلین کی شنوائی کی جا رہی ہوتی تھی وہاں اب چمگادڑوں کا بسیرا تھا!

محسن عباسی صاحب سے مزید ان کی گزر بسر کی بابت پوچھا تو بتانے لگے کہ ریاست کے دور میں وہ حویلی مشیر خزانہ کے لیے مختص تھی، اور اب اس احاطے میں شہزادی صاحبہ کے پانچ بیٹے اپنے خاندانوں کے ساتھ مقیم تھے۔ اور یہ کہ وہ کل احاطہ تیس کنال پر محیط تھا۔ وقفے وقفے سے اس کی تھوڑی بہت زمین بیچ دیتے تھے اور اس طرح کچھ عرصہ کا سامان ہو جاتا تھا، اور بس!

انہوں نے خاصے قلق کا اظہار کرتے ہوئے بتایا شہزادی صاحبہ سب سے زیادہ اس امر پر افسردہ ہوتی ہیں کہ کئی سال ہونے کو ہیں، نواب خاندان کے بڑے اب ان سے ملنے بھی نہیں آتے، گویا وہ ان کے لئے وجود ہی نہیں رکھتیں۔ رہی سہی کسر آپس کی مقدمہ بازیوں نے پوری کر دی تھی جس نے نہ صرف خاندان کی یکجہتی اور اثر و رسوخ کو نقصان پہنچایا تھا بلکہ اسے معاشی طور پر بھی کمزور کر دیا تھا۔

اسی اثنا میں شہزادی صاحبہ کا پوتا چائے کا سامان لے کر آ گیا، شہزادی صاحبہ کی گفتگو کے دوران چائے یا دیگر لوازمات سے مگر کسے غرض تھی!

اگرچہ شہزادی صاحبہ مجھ سے مخاطب تھیں لیکن مجھے محسوس ہوتا رہا کہ کچھ نہ کچھ ٹھیک نہیں۔ جلد ہی یہ افسوسناک حقیقت آشکار ہوئی کہ شہزادی صاحبہ کی نظر تقریباً ختم ہو چکی تھی اور آپریشن یا دیگر کسی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا تھا۔ ڈاکٹر ہونے کے ناتے میں رہ نہ سکا اور شہزادی صاحبہ کی رپورٹیں دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ رپورٹوں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے صاحبزادے سے پوچھا کہ کیا ڈاکٹر جواب دے چکے ہیں، کہنے لگے ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ یہاں تو اب کوئی علاج ممکن نہیں، البتہ راولپنڈی لے جایا جا سکتا ہے۔ مزید استفسار پر بتانے لگے کہ وسائل کی کمی کے پیش نظر، ان کے لیے یہ سب انتظامات کرنے مشکل بلکہ نا ممکن تھے۔ ہمارے دل پر اک پرمژدگی سی چھا گئی۔ گویا جو دل وہاں جاتے ہوئے نواب صاحب کی اولاد کو ملنے کے خیال سے خوشی سے بلیوں اچھل رہا تھا، واپسی کے سفر میں بجھ چکا تھا۔

ہاں واپس پہنچ کر ایک کام ضرور کیا، صوبے کے اعلیٰ حکام سے بات کر کے ہم نے قائداعظم میڈیکل کالج کی پرنسپل، ڈاکٹر صوفیہ فرخ صاحبہ جو کہ خود بھی ماہر امراض چشم ہیں، کی زیر قیادت ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا۔ یہ بورڈ شہزادی صاحبہ کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر مزید علاج تجویز کرے گا خواہ اس کے لیے انہیں کسی اور شہر لے جانا پڑے۔ انہیں لانے لے جانے سے لے کر علاج معالجے کے دیگر تمام تر انتظامات، حکومت پنجاب کے نمائندہ کے طور پر کمشنر آفس کرے گا۔

اب خواہش اور کاوش ہے کہ جس دیس کو پروان چڑھانے میں ان کے بڑوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، ہمارے نواب صاحب کی ’نکی‘ ایک دفعہ پھر اسے دیکھنے کے قابل ہو سکیں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments