پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی دکان داری کا سیزن
میٹرک کے امتحانات کا آغاز ہونے جا رہا ہے، مارچ کے مہینے میں تمام بورڈز کے تحت یہ امتحانات منعقد ہوتے ہیں، اس کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں میں فائنل ٹیسٹ سیریز کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان بھی حرکت میں آ چکے ہیں، دھڑا دھڑ اپنی ٹیموں کے ہمراہ ملک بھر کے مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں جا کر پرکشش قسم کے تعلیمی پیکج آفر کر رہے ہیں۔ میٹرک کے امتحان میں پہلی تین پوزیشن لینے والے طلباء و طالبات کو مختلف پرائیویٹ اداروں کے مالکان کی طرف سے 80 فیصد فیس معاف کرنے کے علاوہ دیگر سہولیات کا لالچ بھی دیا جا رہا ہے۔
ہر برانچ زیادہ سے زیادہ سٹوڈنٹس اینٹھنے کے چکروں میں نجانے کیسے کیسے جھوٹے سچے خواب دکھانے میں مصروف ہیں۔
طلباء کے ہجوم کو اپنے اپنے اداروں میں دھکیلنے کے لیے ٹیسٹ شیڈول کا آغاز کر رہے ہیں، جس میں پہلی تین پوزیشن لینے والے امیدواران کو کچھ ادارے موٹر سائیکل، کچھ کار اور کچھ بھاری رقم نقد کیش کی صورت میں دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ تاکہ انعام و اکرام کے لالچ میں زیادہ سے زیادہ طلباء ان کے اداروں کا رخ کریں اور اسی بہانے وہ کالج کو اندر سے ملاحظہ کر سکیں۔ جہاں ان کو پھانسنے والی چاق و چوبند اور مستعد ٹیمیں پہلے سے وہاں منتظر ہوتی ہیں، جن کا کام بچوں کو کالج کی عمارت میں پرکشش قسم کی سہولیات کے متعلق آگاہی دینا ہوتا ہے جو مختلف حیلے بہانے سے طلباء کو کالج کے وی آئی پی ایریاز، مہنگی ترین کمپیوٹر لیب، اے سی سسٹم سے مزین کلاس روم اور مہنگے ترین پروجیکٹر سے سجے کانفرنس روم دکھاتے ہیں اور آخر میں انہیں انٹرنیٹ کی تیز ترین سروس کا جھانسہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ شکار کو کہیں سے بھی بچ نکلنے کا راستہ نا ملے۔
پھر یہی بچے گھروں کو لوٹ کر اپنے والدین کو انہی پوش اداروں میں داخلہ دلوانے کی ضد کرتے ہیں، کچھ والدین تو افورڈ کر لیتے ہیں جو نہیں کر سکتے وہ بچوں کی خاطر ان اداروں کے آفس کے چکر کاٹتے ہیں، جہاں ڈیل کروانے والے ڈیلرز پہلے سے وہاں موجود ہوتے ہیں جو کالج مینجمنٹ سے مل ملا کر ایڈجسٹمنٹ کروا دیتے ہیں۔
بچہ جب ایک بار ادارے میں داخل ہو جاتا ہے تو پھر کیا امیر اور کیا غریب؟
والدین کو چار و ناچار ادائیگیاں کرنا ہی پڑتی ہیں ورنہ ادارے کے پاس گھی نکالنے کے درجنوں طریقے ہوتے ہیں اور آپ بچ بچا کے کہیں بھی نہیں جا سکتے۔
ایک داخلے کے پیچھے نجانے کتنی کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ ان اداروں میں جن اساتذہ کی خدمات کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں انہیں صرف ٹیچنگ کے لیے بھرتی نہیں کیا جاتا ہے یا کلاس روم میں شو پیس کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں بھی زیادہ سے زیادہ ایڈمیشن کروانے کا ٹاسک دیا جاتا ہے جسے انہیں چار و ناچار پورا کرنا ہی ہوتا ہے۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں آپ کی تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، کسٹمر کپیسٹی اور آپ کی پرسنل ریلیشننگ کا ٹریک ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی ٹیچر پوری طرح سے اور مکمل لوازمات یا پیکج کے ساتھ ادارے سے تعاون نہیں کرتا تو وہ آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے اور ایک دن بلاوجہ ہی فارغ کر دیا جاتا ہے۔ پرائیویٹائزیشن کی بقا ہی اس کے کل پرزوں کی مستعد ورکنگ میں پنہاں ہوتی ہے۔ اس لیے پرائیویٹ اداروں میں بے کار پرزوں کو برداشت نہیں کیا جاتا اور ادارے کی سلامتی و بقا کے لیے بے کار پرزوں سے جلد از جلد نجات حاصل کر لی جاتی ہے۔
تعلیم چونکہ ہماری ترجیحات کا شروع دن سے حصہ ہی نہیں ہے اسی وجہ سے ہمارا تعلیمی بجٹ نا ہونے کے برابر ہوتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے۔
سہولیات تو ایک طرف ٹیچرز ہی باقاعدہ طور پر سکول و کالج میں نہیں آتے، باقاعدہ لیکچر نہیں ہوتے، اسٹاف روم میں بیٹھے گپیں ہانکتے رہتے ہیں اور بچے پیریڈ کی یاد دہانی کے لیے اساتذہ اور پروفیسرز کے پیچھے پیچھے پھرتے رہتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج سرکاری کالج میں تعداد نا ہونے کے برابر ہے، پروفیسرز کی بے توجہی کی وجہ سے کالج خالی ہو چکے ہیں، اسی خلا کو پر کرنے کے لیے مختلف پرائیویٹ کالجز کی مہنگی ترین برانچیں میدان میں آ چکی ہیں۔ جو سرکاری اداروں کے پروفیسرز اور اساتذہ سے ساز باز کر کے ذہین طلباء و طالبات کو سستے پیکج کا لالچ دے کر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں لے جاتے ہیں جہاں ان طلباء کو چمکانے کا پورا بندوبست ہوتا ہے۔
جو پہلے سے ذہین و فطین ہوتے ہیں وہ جہاں بھی پڑھیں پوزیشن ہولڈر ہی ہوتے ہیں۔ دراصل یہی ذہین و فطین بچے پرائیویٹ کالجز کے ماتھے کا جھومر ثابت ہوتے ہیں، پوزیشن کی صورت میں کالج کا نام روشن کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر کالج کی روزی روٹی چلنے لگتی ہے۔
اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد تعلیم و شعور کی زبوں حالی کا دکھ سانجھا کرنا تھا کہ کیسے کیسے تعلیم کے نام پر وطن عزیز میں دکانداریاں ہو رہی ہیں؟
ان مہنگی ترین دکانداریوں کی وجہ سے نجانے کتنے والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کی بجائے چند ٹکوں کے عوض پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ورکشاپس کے حوالے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تعلیم اب ہمارے ملک میں ایک ”لگژری“ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جسے امیر کبیر گھرانے کے بچے ”اسٹیٹس سمبل“ کے طور پر اور اپنے پیسے کے زور پر حاصل کرتے ہیں اور ملک کے اہم ترین عہدوں پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ سسٹم کل بھی انہی کے ہاتھوں میں کھلونا تھا اور آج بھی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تو تعلیمی سسٹم پر بھی یہی راج کر رہے ہیں۔
ہمیں اس کلچر سے کیا لینا دینا؟
ہم کو تو افسوس ٹاٹ کلچر کی زبوں حالی پر ہے، جہاں سے کبھی بڑے بڑے اذہان نکلا کرتے تھے تعداد بہت زیادہ ہونے کے باوجود بھی اساتذہ سب طلباء پر مساوی توجہ دیتے تھے لیکن آج وہی ادارے ویران ہو چکے ہیں۔ سرکاری کالج کے پروفیسرز کالج میں آنا پسند ہی نہیں کرتے لیکن اپنے ٹیوشن سینٹر سے کبھی چھٹی نہیں کرتے۔


