کھلاڑی سے کہاں غلطی ہوئی؟


چاہ کن ر اچاہ در پیش: ”کنواں کھودنے والے کے سامنے کنواں ہی آتا ہے۔ “ فارسی کا یہ جملہ، ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو ہمیشہ دوسروں کو تکلیف دینے میں سرگرم ہو اور پھر اچانک خود کسی مصیبت میں پھنس جائے۔ سائفر کیس میں عمران خان کو یہی معاملہ در پیش ہے۔ سائفر اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے، گویا سائفر (Cypher) ایسے مراسلے کو کہتے ہیں جو مخصوص اشاراتی زبان میں تحریر ہوتا ہے۔

حساس معلومات کو سفیر حضرات مخصوص زبان میں وزارت خارجہ کو بھیجتے ہیں اور یہاں موجود سائفر ماہرین اس کو ڈی کوڈ کر کے مراسلے کو وزارت خارجہ اور متعلقہ محکموں میں بھجواتے ہیں۔ سائفر سے متعلق بانی پی ٹی آئی اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو کال بھی لیک ہوئی جس میں سابق وزیراعظم کو کہتے سنا گیا کہ اب ہم نے امریکہ کا نام نہیں لینا ’بس کھیلنا ہے اس کے اوپر۔

سائفر عوامی جلسے میں لہرا کر بانی پی ٹی آئی نے ایک سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ امریکی انتظامیہ نے اس پر جنوبی ایشیا کے امور خارجہ کے ذمہ دار ڈونلڈ لو کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ متعلقہ ممالک کے سفراء سے ملیں اور انہیں امریکی تحفظات سے آگاہ کریں۔ امریکی نمائندے نے صرف پاکستانی سفیر سے نہیں بلکہ بھارت سمیت بہت سے ممالک کے سفراء سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی سفیر سے ملاقات میں ڈونلڈ لو نے جو کہا پاکستانی سفیر اسد مجید نے وہ تمام گفتگو سائفر کی صورت میں وزارت خارجہ کو ارسال کردی۔

خان جی اور ان کی اہلیہ کو توشہ خانہ کیس میں 14، 14 سال قید اور 787 ملین فی کس جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ واضح رہے کہ نیب ریفرنس میں الزام تھا کہ وزارت عظمی کے دوران عمران خان اور بشری بی بی نے 108 تحائف میں سے 58 تحائف ملزمان نے رکھے۔ نہ سعودی ولی عہد سے موصول ہونے والے جیولری سیٹ کی من پسند قیمت لگوائی۔ احتساب قوانین کے مطابق وہ 14 سال کے لیے نا اہل بھی قرار پائے جبکہ سائفر کیس میں 10 ’10 سال قید بامشقت کی سزا دی جا چکی ہے۔ دونوں فیصلوں کا وقت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ان فیصلوں کے پولنگ ڈے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

عمران خان اور ان کے وکلاء مقدمات میں تاخیری حربے استعمال کرتے رہے۔ توشہ خانہ ’سائفر‘ جیسے اہم مقدمات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور عدالتوں سے عبوری ریلیف لینے کی کوشش کی جاتی رہی۔ وکلاء بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر عدالتوں سے مسلسل غیر حاضر رہے۔ اس ناکام حکمت عملی کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ الیکشن کمیشن سے محاذ آرائی ’اداروں کی تقسیم کی پالیسی اور اہم مناصب پر فائز شخصیات کے خلاف شر انگیز مہم کے باعث عمران خان تاریک ترین سرنگ میں داخل ہو چکے ہیں۔ اب سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر مغل حکمران شاہجہاں کی طرح جھروکے سے سیاسی منظر دیکھتے رہیں۔ عمران کو شاید ادراک نہیں ہو رہا کہ وہ جس آگ سے کھیل رہے ہیں‘ اس سے ملکی وحدت و سالمیت متاثر ہو رہی ہے۔

خان جی کے وکلاء نے کسی عدالت میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ تحریک انصاف کے نوجوان ورکرز اور حامیوں کو یہ باور کراتے رہے کہ ان کے لیڈر کو سزا نہیں مل سکتی۔ سوشل میڈیا ونگ نے بھی کارکنوں کو یہ امید دلائے رکھی کہ بانی پی ٹی آئی الیکشن سے پہلے ہی جیل سے باہر آ جائیں گے مگر یہ سب حکمت عملیاں ناکام ہوئیں۔ عدالتی فیصلوں سے بانی پی ٹی آئی کا دیو مالائی تصور بھی چکناچور ہو گیا۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا جائے اور بین الاقوامی مبصرین اور کمیونٹی کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے کہ عوام کی اکثریت الیکشن سے لاتعلق رہی۔

سائفر کیس میں سزاؤں پر طرح طرح کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس میں بڑے جھول ہیں وکلاء صفائی کو جرح کا موقع نہیں دیا گیا اور جلد بازی سے کام لیا گیا، لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ ’خود کردہ را علاج نیست‘ ”اپنے کیے کا علاج نہیں ہوتا“ کے مصداق یہ چال الٹی پڑ گئی کہ وکلاء عدالت میں پیش نہیں ہوں گے تو معاملہ لٹکتا رہے گا اسی کا نتیجہ انہیں بھگتنا پڑا، جج صاحب نے قانون کے مطابق سرکاری وکلاء صفائی کی تقرری کرتے ہوئے کیس کے بدیہی تقاضے پورے کر لیے۔

سائفر تحریر کرنے والے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر اسد مجید سابق فارن سیکرٹری سہیل محمود اور پرنسپل سیکرٹری سمیت اٹھارہ ٹھوس شہادتیں سامنے آ نے سے یہ ثابت ہوا کہ قومی و ریاستی مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کیا گیا، ۔ اور ”وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر تک نہ تھا“ عوامی جلسوں میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ کیس پروسیڈنگز میں ثابت ہوا کہ سازش والی کوئی بات سائفر میں موجود ہی نہ تھی، اس غیر ذمہ دارانہ حرکت سے دو ممالک میں تعلقات میں خرابی ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی پھر اس پروپیگنڈے کی آڑ میں قومی اسمبلی توڑنے کا غیر آئینی قدم اٹھایا گیا۔

قومی نقطۂ نظر سے یہ ایسا جرم تھا جس کی سزا اس لیے بھی بنتی تھی کہ کل کلاں کوئی اور موقع پرست اس نوع کی جسارت نہ کرسکے۔ عمران خان کرکٹ کے کھلاڑی مگر سیاست کے اناڑی ثابت ہوئے جو وقت کے ساتھ ساتھ کچھ سیکھنے سے قاصر رہے۔ پانامہ کیس میں نواز شریف اور مریم نواز کو انتخابات کے بہت قریب بدعنوانی کے الزامات کے تحت احتساب عدالت نے سزا سنائی۔ سزا کے وقت وہ کلثوم نواز صاحبہ کے علاج کے لئے لندن میں تھے۔ انہیں بستر مرگ کے سپرد کر کے 13 جولائی کو وطن لوٹ آئے۔ دونوں لاہور ائرپورٹ سے اڈیالہ منتقل کر دیے گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں 25 جولائی 2018 ء کے عام انتخاب ہوئے۔ اگست کے آغاز میں عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہوئے۔

مریم نواز اور فریال تالپور کے ساتھ احتساب کے نام پر جو رویہ برتا گیا وہ ہماری ”مشرقی“ روایات اور سیاسی رواداری کی کامل نفی تھا۔ محب وطن لوگ ان دنوں امجد اسلام امجد کی طرح فریاد کرتے رہے کہ ،اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے ”مگر یہ فریاد صدا بہ صحرا ثابت ہوئی جو اب مکافات عمل کی صورت میں ان کے سامنے ہے۔

توشہ خانہ کی سزا کی بنیاد ”کرپشن“ ہے۔ ’کرپشن ”کا خاتمہ کرشماتی کھلاڑی کی سیاست میں آمد کی واحد وجہ تھی۔ لیکن عملاً اس کے برعکس ہوا۔ توشہ خانہ کیس میں وکلا صفائی ٹرائل کورٹ میں حق دفاع کو بھرپور انداز میں استعمال کرنے کے بجائے اپنے موکل کے مقدمے کے متعلق“ تکنیکی ”سوالات اٹھاتے رہے۔ ٹھوس دلائل عدالت میں دینے کے بجائے میڈیا کے روبرو الزامات کو بے بنیاد ٹھہرانے کی کوششیں کرتے رہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی وزیر اعظم کو سرکاری راز افشا کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔ عمران خان کا سائفر کا غلط استعمال اور سازش کا الزام انہیں اس عسکری قیادت کے ساتھ بھی محاذ آرائی پر لے آیا، جس نے ان کی حکومت کو سہارا دیا تھا۔

بطور وزیر اعظم حلف اٹھا کر سائفر جیسی دستاویز کو پبلک کرنا اور اس کا گم کرنا دونوں جرم ہیں۔ پاکستان کے کئی سابق وزرائے اعظم کو غیر آئینی طریقوں سے نکالا گیا، انہیں پھانسی تک کی سزا بھی دی گئی۔ لیکن کسی نے بھی سرکاری راز افشا نہیں کیا کیونکہ انھیں اس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ تھا۔ رہی عمران خان کی یہ منطق کہ مجھے جنرل باجوہ نے تب ہی کہہ دیا تھا کہ اگر سائفر پبلک کیا تو بارہ سال سزا ہو جائے گی۔ جنرل باجوہ نے ایسا کہا تو اس میں غلط کیا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی قتل کرنے جا رہا ہو تو اسے کہا جائے کہ اگر قتل کرو گے تو پھانسی ہو جائے گی۔ وہ قتل کر دے اور اسے پھانسی ہو جائے تو وہ اس شخص پر الزام لگائے کہ اس نے تو مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تجھے پھانسی ہو گی۔

تحریک انصاف کا یہ کہنا کہ ٹرائل میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اس لیے یہ سزائیں ہائی کورٹ سے ختم ہوجائیں گی، عملاً شاید اتنا آسان نہ ہو۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی اور ان کی وکلاء کا خیال تھا کہ جب وکیل غائب ہوں گے تو کارروائی یک طرفہ آگے بڑھے گی اور حق جرح ختم کر دیا جائے گا۔ تو وہ کہہ سکیں گے کہ ان کا حق جرح ختم کیا گیا۔ اس سے پہلے توشہ خانہ کیس میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔ لیکن اس بار جج صاحب نے نہ تو حق دفاع ختم کیا اور نہ ہی کوئی یک طرفہ فیصلہ سنایا۔ اس لیے عمران خان کے وکلا کے لیے ٹرائل سے غیر حاضری کا ہائی کورٹ میں دفاع مشکل ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS