کردار جنبش اور حصۂ ہوش


زندگی کا یہ دور جس میں ہم جی رہے ہیں اس کو میں کوئی اچھا دور نہیں کہہ پاتا اور نہ اپنے سے پہلے دور کو کوئی ممتاز حیثیت دے سکتا ہوں۔ ہمارے اجداد نے جو حالات چھوڑے اسی کے جھمیلوں میں ہم بھی گول دائرے میں چکراتے چکراتے گنجلک دائروں کو سمجھنے اور اس کے چکروں سے نکلنے کی رہنمائی ڈھونڈتے رہے لیکن چہرے پر جھریوں اور بالوں میں سفیدی کی کثرت نے یاد دلایا کہ کولہو کے بیل رہتے ہوئے کوئی ایک دریا بھی پار کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ ابھی تو ہمارے دور پر وہ مرحلہ بھی نہیں آیا کہ کہہ سکیں :

اک اور دریا کا سامنا تھا مجھے منیر
میں اس دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اس سے بیشتر کہ ہم خود کو یا اپنے ان رہنمایان زیست خوشنما و خوش نوا کو کسی کسوٹی پر پرکھنے کی صلاحیت پاتے اور اس کو بروئے کار لاتے، پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا تھا۔ نوید خود مختاری، نظام جمہوریت عوامی اور انسانی برابری و وقار کی لبھانے والی طلسم حسین ہمیں بندھے اعضا اور گنگ زبان ہستی بناتے نئی دنیا کے نقشے تقسیم کرنے والے ہمارے سیاسی و سماجی رہنماوٴں کے چوکھٹ پر اوندھے منہ پڑے جیش غلاماں بنا کر اس پانی کے ساتھ بہہ چکا ہے۔ ہمیں خالی خولی شعار ترقی و فلاح کی گونج اب بہت دور سے سنائی دے جاتی ہے اور ہم اس گونج میں اپنے متوالے اور بے لوث ارمانوں کی آخری رسومات کی تکمیل کی آہٹ بھی محسوس کرتے ہیں۔

کچھ ہمدم یہ دلاسا دیتے ہیں کہ بس اب یہ مرحلہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا چاہتا ہے اور ہمارے لیے نہ سہی اگلے پود کے لیے جو اب بالکل تیار ہے، ایک نئی دنیا کا فریم تیاری میں ہے اور یہ کہ مدھم ہی ہیں مگر صبح نو کے آثار دکھائی تو دے رہی ہیں۔ دل گریزاں سہی مگر حقیقت غالباً یہی ہے کہ ہمارے دور کا ان آثار صبح گاہی میں کردار جنبش تو ہے مگر حصۂ ہوش نہ ہونے کے برابر ہے۔

کردار جنبش یا شوریدگی کی خصلت نے ہم سے لمبا سفر طے کروایا۔ یعنی طلسم کار کو ہوشمندی کا نقیب پالنے میں کچھ زیادہ ہوش مندی دکھانے میں طویل عرصہ لگایا اور جب وقت نے از خود پردوں کو دبیز تر کر دیا تو ہمیں لگا پتہ کہ کولہو کی بیل کے لیے چکر پہ چکر اور دائرے پہ دائرے کا اضافہ جہاں سے ہوتا آ رہا ہے ہم نے تو وہیں دل و ماتھا ٹیکا ہوا ہے۔ آنکھ کی جنبش سے پہلے دھمال کی دھوم، تلوار کی نوک پہ سورج کی کرن اور جسم و جان کی ہنگامہ خیز توانائی سے خود کو تہہ اور پر فریب طلسم حسین کے تخلیق کاروں کو بالا نشینی سے سرفراز کرتے رہے۔ وقت مواقع دیتا رہا اور ہم بند یا نیم دیدہ آنکھوں سے بالا نشینوں کی سربلندی پر بھنگڑے ڈالتے رہے تاوقتیکہ بلندی کے نظارے نے دستار گرادئے، کچھ متوالوں اور عاشقوں کے سر بھی گرائے گئے لیکن ہنوز دلی دور است۔

زندگی کی آدرشوں کے عنوان کے تحت جو شعار آویزاں ہوتے رہے ان میں حق پرستی اور جمہوریت پسندی کی مالائیں اس میدان کے قد آوروں کو پہنائی گئیں اور انتخاب میں ان کی شمولیت کو اس عمل کی شفافیت کی کسوٹی اور جمہوریت کا درخشاں مستقبل قرار دیا گیا۔

سلیبس میں یا تو کچھ تھا ہی نہیں اور اگر تھا تو وہ برعکس تھا۔ جو دنیا سامنے تھی وہ الگ تھی اور سلیبس اور بیشتر اساتذہ کی زبانی جو دنیا کی تصویر کشی تھی وہ بالکل الٹ تھی۔

سن ایسی تھی کہ میرے لیے انتخابات کی ہنگامہ خیزی بھی میلے کی مانند تھا۔ مذکورہ طلسم حسین کا چرچا تو بہت تھا مگر ہنگامہ خیزی اک اور قسم کی طلسم نے برپا کی تھی۔ ہائی سکول کا طالب علم تھا جب پہلا ووٹ 1985 میں کاسٹ کیا تھا۔ قانونی لحاظ سے ووٹ کاسٹ کرنے کا عمر اور حق نہیں تھا لیکن اک امیدوار نامدار کے وفاداروں نے سکول کے سامنے سے ہم تین چار دوستوں کو گاڑی کی سواری کے شوق میں بٹھایا اور پولنگ سٹیشن پر ڈنڈوں اور پستول کے لہرانے سے ہمیں کوئی درجن بھر ووٹ کاسٹ کرنے کا پرلطف موقع فراہم کر دیا۔

پھر کوئی دو تین انتخابات میں سلسلہ ایسے ہی جاری و ساری رہا اور طریقہ بھی سب کا ایک جیسا۔ جمہوریت پسند، آمریت نواز، اسلام پسند اور قوم پرست وغیرہ، سب ووٹ بھگتانے کی حکمت عملی پر متفق۔ نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔ یعنی فی بندہ کوئی درجن بھر ووٹوں کی قومی خدمت، دین دوستی یا جمہوریت پسندی اور انقلابی ہونے کا ثبوت۔ ہاں البتہ اتنا فرق ضرور آیا کہ ڈنڈوں اور پستولوں کی جگہ کلاشنکوفوں اور راکٹ لانچروں نے لے لی۔ 93 میں انتخاب کے دن کا ایک منظر آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوا کہ پولنگ سٹیشن پر زیادہ سے زیادہ اسی نوے مردوزن صبح سے شام تک موجود رہے ؛ خواتین اپنے لباس اور دوپٹے تبدیل کرتے رہے اور مرد اپنی پگڑیاں اور چادریں۔ شام کو الیکشن عملہ اس بات پر نازاں نظر آ رہا تھا کہ ہزاروں ووٹ کاسٹ ہوئے تھے۔

اسکے بعد جب کچھ نظریاتی کتابوں اور نظریاتی لوگوں سے واسطہ پڑا اور تھوڑا سا شعور آنے لگا تو نامداروں اور الیکشن کے امیدواروں کو اس کی بھنک پڑ گئی لہٰذا ہمیں اس محنت اٹھانے کی تکلیف یعنی درجن بھر ووٹ کاسٹ کرنے سے آج تلک نجات دلائی گئی اور وہ ایسے کہ میرے جیسے کئی سو لوگوں کے ووٹ ہماری جگہ کوئی اور مہربان کاسٹ کر کے خود کو انقلابی، قوم پرست یا اسلام دوست ثابت کرنے اور قومی خدمت انجام دینے کا دستار اپنے سر باندھ لیتا ہے۔ اب ہم ووٹ کی زحمت و اخراجات سے پناہ میں فنا ہو رہے ہیں اور

اس خود کلامی کا سامنا کر رہے ہیں کہ چکر پہ چکر اور دائرے پہ دائرے کا اضافہ جہاں سے ہوتا آ رہا ہے ہمارا ماتھا بھی وہیں ٹکا دیا گیا ہے۔

نسل نو ہماری اس بیچارگی اور عادت اجدادی کی گواہ ہے اور بہت اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ اس راہ چلنے میں خود کو دلدل میں گرانے کی مترادف ہے۔ وہ اپنا رستہ خود چنے گی اور میرا خیال ہے بہت بہتر چنے گی۔ ہمیں ان پر پہرہ لگانے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ دو چار انتخابات میں شاید طاقت کے مراکز اور ان سے جڑے طلسم حسیں مگر پر فریب کے معمار ان کو اپنے نشان فردا سے روکنے میں کامیاب ہوں لیکن آخرکار وہ اس سارے نظام عفریت کو ٹھکانے لگانے میں سرخرو ہوگی۔ ہمارے بارے میں ان کی رائے کیا ہوگی، پشتو کے ممتاز شاعر رحمت شاہ سائل کے الفاظ میں ”اگر وہ ( نئی نسل) ہمارے قبروں کو پتھر نہ ماریں تو یہ بہت بڑا معجزہ شمار کیا جائے گا۔“


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments