مصنوعی ذہانت: کل کی باتیں


دادی آپ جو ابو کو پریوں کے قصے سناتی تھی ہمیں بھی سناؤ، ابو کو یاد نہیں ہیں۔ مگر وہ آپ کے انداز بیان کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ اور ہاں گھر میں ابو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ادب و احترام کا لیکچر دیا کرتے ہیں! مگر ہمارے سکول والے ٹیچر کو زیادہ تنگ کرنے والے بچوں کو اچھا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے سارے سوالوں کا جواب لیے بغیر چپ نہیں ہوتے؟ یہ کیوں ہیں؟

اور ہاں امی آپ کے ساتھ گزرے وقت کو اچھی طرح یاد نہیں کرتی، کیا آپ اماں کو ڈانٹتی تھی؟ محسن لیپ ٹاپ کے سکرین کے سامنے بیٹھے اپنی دادی اماں سے معصومانہ سوالات کر رہا تھا۔ اور اس کی دادی ایک ایک کر کے جواب دے رہی تھی۔ ویسے محسن کی دادی کو مرے ہوئے سات سال گزر گئے تھے مگر محسن کے ابو نے آخری وقت میں دادی کی آواز اور زندگی کی آخری سال کی بہت ساری یادداشتیں اے آئی کے ذریعے محفوظ کرلی تھی۔ اب اے آئی اس کی آواز اور چہرے کے ساتھ ان لمحات اور محسن کے سوالات کو ملا کر جواب دے رہی تھی۔

یہ لمحہ ایسا لگ رہا تھا جیسا محسن سکائپ پہ بیٹھے دوسری دنیا سے اپنے دادی سے مخاطب تھا۔ اور یہ سروس اس کے ابو نے ویکنڈ میں محسن کے لئے رکھا تھا۔ اب محسن ہر ہفتے کے شام ایک گھنٹے کے لئے اپنی دادی اماں سے بات چیت کرتا ہے۔ اس کا بڑا بھائی اپنے سلیبس کے کتب میں بڑے سائنسدانوں کے شامل نام نکال کر ان سے بات چیت کرتا۔ ان سے سمجھ کر بھائی بڑا محظوظ ہوتا ہے۔ اور محسن کے ابو نے اپنے بچوں کے لئے امریکہ کے مشہور پروفیسر کی سروس بھی لے کر رکھی ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو اس سے پڑھا کر بڑا آدمی دیکھنا چاہتا ہے۔

اور محسن کی اماں اے آئی کے ذریعے دنیا کی ہر قسم کی ڈش بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ ہے۔ محسن کے ابو نصرت فتح علی سے نئی گانے قوالی کی طرز میں پڑھتا ہے۔ یہ دو ہزار تیس میں ایک گھر میں ہونے والے واقعات ہیں۔ یہ سب کل کی باتیں ہیں۔ کیونکہ بہت جلد انسان کو ایک دوسرے کو بتانے کے لیے جذبات کے علاوہ کچھ نہیں رہ جائے گا۔ مصنوعی ذہن جب آپ کے چھ سال کے بچے کو مخاطب کر تاریخ، سماجی شعور، عقائد، زبان، سماجی رویوں کے بارے میں بتائے گا۔

آج تک دنیا میں بولے جانے والے جھوٹ کا پردہ پاش کرے گی۔ اب بچے دس سال تک پورے بالغ ہوجائیں گے۔ پہلے جن کو کئی طریقوں سے گمراہ رکھا جاتا تھا۔ اب مزید نہیں ہوں گے۔ جب آپ کی جنگی، اور مشینی تربیت ایک مصنوعی ذہن رکھنے والی روبوٹ کرائے گی۔ آپ کا علاج اے آئی کرے گی۔ حتی کہ ممکنہ موت کے بارے میں بتانے کی قابل ہو جائے گی۔ کیونکہ جب آپ کی جسمانی اعضاء کی رپورٹ بنانے اور اس کے بعد آپ کی غذا اور آپ کی روزانہ کی روٹین اور آپ کی سرچ انجن کی تفصیلات کے مطابق بآسانی بتانے میں کامیاب ہو جائے گی کہ آپ کب موت تک پہنچ جائیں گے۔

اب لوگوں کو زبانیں سیکھنے میں وقت ضائع نہیں کرنا ہو گا۔ آپ جس زبان میں بولیں گے اپ کی آواز اور بات کو سننے والے کی زبان میں تبدیل کر کے سنوائے گی۔ اور اس کے جواب کو آپ کی زبان میں تبدیل کر کے آپ کو سنوائے گی۔ جب اے آئی دنیا کی مشکل ترین مثالوں کو آپ کی بچوں کو آسان بنا کر بتائے گی۔ جب آج تک کی انسان کی دریافت اور ذہانت اور سوچ کو سکڑ کر چند دن میں کل کے انسان کو سمجھائے گی۔ تو وہ کئی سالوں کی محنت سے بچ جائے گے اور وہ آگے کی سفر کے جانب نکل پڑیں گے۔

اے آئی کل کے لوگوں کا بہترین نگران ہو گا۔ آپ کے دس سال تک کی وقت کا تعین کر سکتی ہوگی۔ اے آئی ان لوگوں کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہو سکے گی جو لکھنا پڑھنا جانتے ہوں۔ باقی اے آئی کے لئے سانس لینے والی مخلوق ہوں گے۔ اے آئی کی دنیا میں حقیقی معنوں میں زندہ رہنے والے لوگ صرف آرٹسٹ ہوں گے جو انسانی جذبات کو رنگوں اور لفظوں میں ڈھال کر پیش کریں گے اور انسان اپنے دماغ کو استعمال کرنے کو ہی اپنی نجات سمجھیں گے۔

اب تک انسانوں نے ایک دوسرے کو مختلف نظریوں اور عقائد کی زنجیروں میں باندھا رکھا ہے ان سب سے نکل کر باہر آ جائیں گے۔ اپ جو کام کر رہے ہیں اس پر ایک دفعہ نظر دوڑائیں یہ تو نہیں آپ کا کام بھی اے آئی کر سکتا ہو گا۔ مگر شروع کے چند سال کے لئے اے آئی کو بھی سرمایہ دار اپنے لیے استعمال کریں گے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ سرمایہ داروں کے ہاتھ سے بھی نکل جائی گی۔ ایٹم بم کی ایجاد کی طرح اس کی ایجاد سے آج کا انسان خوف زدہ ہے۔

اس پروگرام پر Alan Turing نے جب کام شروع کیا تو کچھ عرصے بعد اس کے کام کو زبردستی بند کر دیا گیا۔ بعد میں نوے کی دہائی میں ایک جاپانی ادارے نے کام شروع کیا۔ اور 2022 میں اچانک اے آئی بوم ابھر کر سامنے آئی۔ جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو حیران و پریشان کر دیا۔ پہلے چیٹ جی پی ٹی اور اب تو اس کے سوشل میڈیا ورژن سامنے آئے ہیں۔ اب ہم وٹس ایپ کے ذریعے اے آئی سے کئی سوال داغ سکتے ہیں۔ اور لمحے بھر میں جواب دے جاتا ہے۔

اب ہمیں جتنی جلدی ہو سکے اس کو سمجھ کر اپنے کام میں لینا چاہیے اگر اس کو کفار کی ایجاد سمجھ کر چھوڑ دیا تو بہت جلد اے آئی کے روبوٹ رسی باندھے پاکستانی لوگوں کو یورپ کی گلیوں میں کام کروا رہے ہوں گے۔ یہ وہ سواری ہے جو اس کی سواری کرنا جان جائیے گا وہ بیٹھ کر مزے اڑائیں گے۔ باقی اس کے پیروں کے نیچے دب کر مر جائیں گے۔

خواب آوری کا سلسلہ کم ہو نہیں رہا
انسان مر چکا ہے اگر سو نہیں رہا

Facebook Comments HS