حرکت کا سائنسی تصور حصہ اول
سائنس کا تصور حرکت سولہویں صدی عیسوی میں کوپرنیکس، کپلر اور گلیلیو سے ہوتے ہوئے نیوٹن کے قوانین حرکت اور میکانکی فلسفے کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ نیا تصور حرکت، قدیم فلسفے و جدید سائنس کے درمیان واضح حد بندی کرتا ہے۔ قدیم یونانی، بالخصوص ارسطوئی فزکس میں پائے جانے والے ابہام کی جگہ واضح اور قطعی مشاہدات نے اس نئے تصور کو جنم دیا۔ جدید سائنس نے قرون وسطی کے انسان مرکز نظریات پر کاری ضرب لگائی۔
قدیم یونانیوں سے لے کر قرون وسطی کے مسلم فلسفیوں تک سب کے نزدیک کائنات میں انسان اور اس کے آئیڈیلز کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ یہ تصور عام تھا کہ کائنات انسان کے لئے ہے اور زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا انسان کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ بلکہ ایک لحاظ سے انسان ہی کائنات کا مقصد اور اس کے افعال کا مدعا تھا۔ یہی ربط رائج مذہبی نظریات سے میل کھانے کی وجہ سے قدیم یونانی فلسفہ اور مذہبی بیانیے ایک دوسرے میں بآسانی گھل مل گئے تھے۔
نہ صرف یہ کہ دنیا کے بارے تمام علوم میں انسان کو مرکزیت حاصل تھی بلکہ جن کیٹگریز کے ذریعے انسان دنیا کو جاننا چاہتا تھا وہ بھی اس کے اپنے حواس یا ظاہری مشاہدات کی وضاحت اور انسانی مقاصد کے حصول کو مدنظر رکھ کر بنائی گئیں تھیں۔ اس دور کے مفکرین اپنا فلسفہ یا سائنس اسی نکتہ نظر کو سامنے رکھ کر ترتیب دیتے تھے جس میں انسان کی ابدی تقدیر اور اس کے آئیڈیل کی تکمیل شامل ہو۔ یہی کیٹگریز یعنی وجود و ماہیت، جوہر و عرض، مادہ و صورت، معیار و مقدار وغیرہ مذہبی و صوفیانہ بیانیے میں بھی اسے ہی مستعمل تھیں جیسی کہ اس دور کی فزکس میں شامل تھیں۔
فلوطین (متوفی 270 ء) کے زیر اثر ارسطو کا ’محرک اول‘ اور صوفیوں کا ’وجود‘ ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے تھے۔ اس لئے حرکت کا تصور بھی صوفیانہ رنگ اپنائے ہوئے تھا۔ قرون وسطی کے انسان الہام یا دیگر مذہبی تجربات کو سائنسی سچائی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اہل یونان کے ہاں مابعد الطبیعات اور طبیعات میں بنیادی فرق نہیں تھا اور اسی لئے دونوں کے ہاں ایک جیسی اصطلاحات رائج تھیں۔ اسی لئے ارسطو کی فزکس پر حملہ بیک وقت اس کی میٹا فزکس اور اس سے منسلک روحانی بیانیوں پر حملہ بھی سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ملا صدرا کے ہاں کوئی فلسفی اس وقت تک کامل حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ روحانی واردات اور کشف و الہام کے تجربے سے نہیں گزرتا۔ اسی لئے اسفار اربعہ پڑھانے والے اپنے مریدوں کو فلسفے کے ساتھ ساتھ روحانی بالیدگی کا سبق بھی دیتے تھے۔ فضل الرحمان لکھتے ہیں،
”جیسا کہ صدرا ہمیں بار بار بتاتے ہیں، وجود کی نوعیت اور اس کی انفرادیت کو جاننے کے لئے، مثال کے طور پر، صرف (روحانی) تجربہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ جس لمحے آپ اسے متصور کرتے ہیں، یہ وجود نہیں رہتا بلکہ ماہیت بن جاتا ہے (ملا صدرا اصالت وجود کے قائل تھے۔ مترجم) ۔ اس کے باوجود صدرا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے متعدد اور وسیع عقلی دلائل استعمال کیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدرا کے نزدیک صوفیانہ سچائی دراصل فکری سچائی ہی ہے اور صوفیانہ تجربہ ایک علمی تجربہ ہے، لیکن اس فکری سچائی اور اس علمی مواد کو مکمل طور پر محسوس کرنے کے لیے“ تجربے سے گزرنا ”لازمی پڑتا ہے۔ اگر ان سچائیوں کو صرف عقل کے معقولات کے طور پر ہی قبول کیا جائے تو وہ اپنی اصل نوعیت سے محروم ہو جاتی ہیں، یعنی وہ ادراک کا حصہ تو رہتی ہیں مگر حقیقت نہیں بن پاتیں۔“ (فضل الرحمان، فلسفہ ملا صدرا، صفحہ 4، سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک، البانی)
جدید فکر میں فطرت، انسان اور اس کے عقائد سے بالکل بے پرواہ قرار پائی ہے۔ فطرت کو انسان سے زیادہ بنیادی اور دائمی حیثیت حاصل ہے جبکہ انسان اس عظیم کائنات کے کھربوں مظاہر میں سے فقط ایک مظہر ہے۔ فطرت اپنے متعین اصولوں کی پابند ہے اور ان اصولوں میں انسان یا اس کے مقدر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انسان، فطرت کا مرکب ہے نہ کہ راکب۔ وہ اس عظیم کائنات کا محض ایک تماشائی ہے۔ اسی لئے جدید سائنس نے جب دنیا کی وضاحت کرنا چاہی تو نہ صرف انسان مرکزیت سے چھٹکارا حاصل کیا بلکہ قدیم یونانی اور قرون وسطی کے فلسفوں اور ان کی کیٹگریز تک کو بدل ڈالا۔ جوہر و عرض اور وجود و ماہیت کی بجائے زمان و مکاں، کمیت، قوت، اسراع اور توانائی جیسی نئی کیٹگریز متعارف کروائیں۔ جوہر اور عرض کے بجائے نئی اصطلاحات سے ماہیت کو سمجھنا اسی لئے ایک بڑا قدم تھا۔ کیونکہ پرانی اصطلاحیں کند اوزار کی مانند ہیں جو جدید دور کے تصورات کو متصور نہیں کر سکتیں۔
یونانی فزکس کا ایک معروف ابہام یہ تھا کہ وہ زمین کو اجرام فلکی سے مختلف جسم قرار دیتے تھے۔ ظاہری مشاہدے میں تو یہی نظر آتا ہے کہ زمین ایک جامد شے ہے اور اس سے استقرار اور مضبوطی کا تاثر ملتا ہے جبکہ اجرام فلکی جیسے سورج چاند اور ستارے، بادلوں کی مانند فلک پر مسلسل حرکت کرتی روشنیاں ہیں جن سے فلکی اجسام کی لطافت اور بلندی کا تاثر ملتا ہے۔ پھر ہمیں زمین پر بیٹھے آسمان کی ہر چیز زمین کے اردگرد گھومتے دکھائی دیتی ہے۔
اس لئے پہلا تاثر یہی ہونا تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور ہر چیز کی حرکت کا محور زمین ہے جو کہ خود ساکن ہے۔ لہذا بطلیموس کے نظام شمسی میں سیارے اور سورج و چاند زمین کے گرد ہی حرکت کرتے تھے۔ لیکن اس کا نقصان یہ تھا کہ فلکیات کی تفہیم میں بطلیموس کا نظام مزید سے مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ کوپرنیکس (متوفی 1543 ء) نے جب زمین کے بجائے سورج کی مرکزیت کا نظام پیش کیا تو اس کی کامیابی کی ایک وجہ ان چونتیس اضافی دائروں epicycles سے نجات حاصل کرنا تھا جو زمین کو ساکن ثابت کرنے کے لئے بطلیموسی نظام میں زبردستی ٹھونس دیے گئے تھے۔
کوپرنیکس نے ثابت کیا کہ زمین کی بجائے سورج (یعنی زمین سے باہر کا جسم) مرکز قرار دے کر اس وقت تک کے تمام فلکی مشاہدات کو مزید سادہ نظام سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ سائنس کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے کلیات انتہائی سادہ اور ان کے نتائج دور رس ہوتے ہیں۔ کپلر (متوفی 1630 ء) نے سیاروں کے مدار متعین کرنے والے تین اہم قوانین پیش کیے ۔ کپلر ان چند ذہین ترین سائنسدانوں میں سے تھا جنہوں نے کوپرنیکس کے شمس مرکز نظام کے دور رس نتائج کو بھانپ لیا تھا۔
بعد میں گلیلیو (متوفی 1642 ء) نے دوربین کی مدد سے سورج پر سیاہ دھبے، مشتری کے چاند اور زہرہ کے مشاہدات وغیرہ کی مدد سے شواہد فراہم کیے کہ زمین دیگر اجرام فلکی جیسا ہی ایک سیارہ ہے اور کوپرنیکس کا سورج مرکز نظام ہی ان مشاہدات کی بہتر وضاحت کرتا ہے۔ کوپرنیکس اور کپلر کے نظام شمسی کی مزید سادہ ترین اور ٹھوس ریاضیاتی بنیاد پر وضاحت نیوٹن کے حصے میں آئی۔
سر آئزک نیوٹن (متوفی 1727 ء) نے 1687 ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب ”پرنسپیا“ شائع کی جس میں اس نے اپنے پیشرو کپلر (متوفی 1630 ء) کے سیاروں کی اپنے مداروں میں حرکت کے تین قوانین کو اپنے مشہور تین قوانین حرکت کے ذریعے مزید مضبوط بنیاد فراہم کی جو کہ قدیم یونانی فلسفیوں جیسے کہ دیموقراطیس کے ایٹمی تصور اور ہیراقلیطس کے جوہری حرکت کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ نیوٹن کے دور تک حرکت کو سمجھنے کے لئے جیومیٹری سے کام لیا جاتا تھا۔ مگر الجبرے کو صرف مساواتیں حل کرنے کی مشق کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
نیوٹن نے جیومیٹری کے تصورات جیسے قطعہ، خط اور دائرہ و مثلث وغیرہ کو الجبرائی مساواتوں کی شکل میں تبدیل کر دیا اور یوں کیلکولس دریافت کی۔ پھر اس نے اپنے حرکت کے تین قوانین پیش کیے جن کو کیلکولس کی زبان میں لکھا جاسکتا ہے۔ ان قوانین کی مدد سے اس نے سابقہ تمام طبیعی حقائق جیسے روشنی، فلکیات اور مادے کی مختلف حالتوں کی وضاحت انتہائی سادہ مگر قطعیت کے ساتھ پیش کی۔
اس نے واضح کیا کہ جو چیز زمین پر سیب گرنے اور چاند کے زمین کے گرد گھومنے کی وجہ ہے وہ کشش ثقل کی قوت ہے۔ اور اس کشش ثقل کے لئے جو کلیہ اس نے فراہم کیا وہ کوپرنیکس، کپلر اور گلیلیو کے سورج مرکز نظام کی وضاحت فورس یا قوت کی مدد سے کرتا ہے۔ حرکت کے قوانین کا الجبرائی مساواتوں کی شکل اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں ایسے کلیات مل گئے جن کی بدولت واضح اور قطعی پیش گوئیاں کی جا سکتی تھیں۔ نقطہ آغاز کے حالات معلوم ہونے پر کسی بھی جسم یا نظام اجسام کی مستقبل کی حرکت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ یوں مستقبل کی واضح اور قطعی پیش گوئیوں کو تجربات کی مدد سے درست یا غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔
کچھ لوگوں کو یہ وہم ہوتا ہے کہ شاید کلیات دریافت کرنا سائنس کا کام نہیں ہے۔ دراصل، سائنس کا حتمی مقصد ہی کلیات کی دریافت ہے۔ سائنس جن بنیادی کلیات سے آغاز کرتی ہے وہ ریاضیاتی تعقل اور حسی مشاہدات سے قائم ہوتے ہیں۔ ان بنیادی کلیات کی مدد سے نئے یا ثانوی کلیات کی دریافت ہوتی ہے۔ ان کلیات کے مضمرات کو عقلی طور پر ریاضی اور شماریات کی مدد سے معلوم کیا جاتا ہے اور تجربات سے ان کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ یونانیوں کے ہاں اپنے قیاس اور مفروضوں کو اس قدر قطعیت اور تجربات سے معلوم کرنے کا کوئی واضح طریقہ موجود نہیں تھا۔ یہی حال بعد والے ان کے مقلدین کا ہے۔ وائنبرگ نے اپنی کتاب To explain the world میں یونانی فلسفیوں کو شاعروں اور ان کے کام کو شاعری سے تشبیہ دی ہے۔ شاعری میں اس قدر ابہام ہوتا ہے کہ اس کی مدد سے معتبر و قطعی علم مہیا نہیں ہوتا۔
سائنس کے اس جدید تصور حرکت اور اس سے پیدا ہونے والے سائنسی فلسفے پر روایتی فلسفیوں کی جانب سے تنقید ہوتی رہی ہے۔ لائبنیز اپنی آخری عمر تک نیوٹن کے تصور زمان و مکاں پر تنقید کرتا رہا، برکلے اور نیوٹن کے نظریات میں واضح دشمنی کی حد تک فرق تھا، ہیوم نے جگہ جگہ نیوٹن کا حوالہ دیا، کانٹ اپنی ابتدائی عمر میں نیوٹن کا شیدائی تھا اور بعد ازاں وہ نیوٹن کی فزکس اور کانٹی نینٹل فلسفے میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا، ہیگل نے نیوٹن پر تنقید کی۔
ان میں سے اکثر کی تنقید نیوٹن کے تصور حرکت اور خارجی قوت یا فورسز کے ذریعے حرکت پر مرتکز رہی۔ مگر ان تمام کی تنقید کے باوجود جدید سائنس کے تصور حرکت نے دنیا کا نقشہ بدلنے اور مغربی قوموں کو مضبوط کرنے کا سفر جاری رکھا۔ اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ اکثر اہل فلاسفہ قدیم و فرسودہ خیالات اور کیٹگریز کی مدد سے جدید تصورات اور نئی سائنس کا رد کرنے یا اس کی تنقید میں مبتلا تھے۔ یہی حال ادھر مسلم دنیا کے مفکرین کا تھا۔
ان میں سے کسی کو یہ فرصت نہ تھی کہ وہ کوپرنیکس، گلیلیو، کپلر، نیوٹن وغیرہ کی نئی اصطلاحات اور اس کی بدولت پیدا ہونے والے نئے علم کو سیکھیں بلکہ وہ قدیم یونانی اور قرون وسطی کے فرسودہ خیالات ہی میں الجھے رہے۔ آج بھی اگر ان کے مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب کو دیکھیں تو اس کا بیشتر حصہ پرانے نظریات اور فرسودہ اصطلاحات پڑھانے میں ضائع ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ جدید سائنس کی منطق اور طریقہ کار سے بالکل اجنبی رہتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ کھلے ذہن کے ساتھ تقلید پرستی کی روش سے اجتناب کرتے ہوئے جدید علم کو قبول کیا جائے۔ (جاری ہے )


