امید بہار رکھ
امید خزاں میں بہار کی آمد کا انتظار ہے۔ امید غم میں عید کی نوید ہے۔ امید ایک سانس سے دوسرے سانس تک کا سفر ہے۔ امید ہی ایک دھڑکن سے دوسری دھڑکن کے درمیان فاصلہ ہے۔ امید خون کی رگوں میں دوڑ ہے۔ امید ویرانے میں آبادی کا امکان ہے۔ امید چراغ کا آندھیوں میں جلنا ہے۔ امید اندھیری راتوں میں جگنوؤں کا چمکنا ہے۔ امید منجدھار میں الجھی ناؤ کے کنارے لگنے کا خیال ہے۔ امید قدرت کا انعام اور جینے کا نام ہے۔ امید بے بسی کے معاملات میں قدرت کے فیصلوں پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔ امید زخموں پر مرہم اور دکھوں پر خاک ہے۔ امید آزمائشوں میں مایوسی کی عدم موجودگی ہے۔ امید کینسر کے آخری مرحلے میں زندگی کے آثار کی خوشی ہے۔ اگر آسان ترین الفاظ میں کہا جائے تو امید انسان کا سکون اور زندگی کا ستون ہے۔
دین اسلام میں امید کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اگر ہم قرآن پاک کو دیکھیں تو پورا قرآن ہی امید کا پیغام ہے۔ انسان کو جگہ جگہ اللہ پر بھروسا اور یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ مایوس نہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ“ ۔ رحمت سے مراد نا اہل کو اہل بنانا ہے۔ رحمت سے مراد اپنے گناہوں کو اللہ کی قدرت اور رحیمی کے سامنے چھوٹا سمجھنا ہے۔ واصف علی واصف رح کے مطابق رحمت اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو انسان کو اس کے اعمال کی عبرت سے بچا لے۔
اسی طرح ایک بار کسی نے حضرت امام زین العابدین ع سے پوچھا کہ قرآن کی سب سے زیادہ امید والی آیت کون سی ہے؟ تو آپ نے جواب میں سورۃ الضحٰی کی آیت چار پیش کی جس کا مفہوم ہے کہ ”تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے“ ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جو تاریک دلوں میں روشنی بھرتی ہیں جیسا کہ سورۃ الشرح میں اللہ نے فرمایا کہ ”ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے“ ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج مسلمان میں نا امیدی کیوں ہے جب کہ قرآن کا پیغام واضح ہے؟
دراصل آج کا مسلمان، مسلمان تو ہے مگر مومن نہیں۔ مسلمان اور مومن میں فرق ہے۔ مسلمان وہ ہے جس نے ظاہر کا کلمہ پڑھا اور مومن نے باطن کا۔ ایک نے کلمے کو خود میں ڈالا ہے اور دوسرے نے خود کو کلمے میں ڈھالا ہے۔ آج کا مسلمان یا تو عقل کو استعمال نہیں کرتا یا پھر صرف عقل کو ہی راستہ اور اسی کو ہی منزل سمجھتا ہے۔ مومن عقل اور حکمت کا امتزاج ہے۔ آج کے مسلمان کو مسلمان سے مومن ہونے تک کا سفر کرنا ہو گا جس کا آغاز اللہ پر یقین اور بھروسا رکھنے سے ہوتا ہے۔ یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو نا امید نہیں ہونے دیتا۔
آج کل بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پر امید رہنا خاص کر ان حالات میں جب بہتری کی کوئی کرن نظر نہ آئے تو یہ حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ اب حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ وہ انسان سوچ رہا ہے کہ جس کو اپنی سانس کا بھی یقین نہیں اور اس کی زندگی لٹکی ہی امید کی ٹہنی سے ہوئی ہے۔ پر امید ہونا حالات کا محتاج نہیں ہے بلکہ احساس کا محتاج ہے۔ یہ احساس ہمارے فلسفہ حیات یا ورلڈ ویو کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ مثلاً دین اسلام پر چلنے والے کے لئے امید کا منبع اس کا دین ہے اور کسی دین کو نہ ماننے والے کی امید کا مرکز کوئی اور فلسفہ ہو سکتا ہے۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ دراصل، امید بیرونی حالت کا نام نہیں یہ اندرونی کیفیت کا نام ہے۔ یہ بیرونی چیز ہی نہیں ہے یہ انسان کے اندر کی روشنی ہے۔ ایک مایوس انسان اچھے حالات میں بھی مایوس رہتا ہے۔ اگر تو حالات آپ کی امید کا مرکز ہیں تو پھر مایوسی ایک مستقل صورت اختیار کر سکتی ہے مگر امید کا مرکز اللہ ہو تو اس کے لئے سازگار حالات کی ضرورت نہیں ہے۔ امید ہوتی ہی وہ ہے جو ناپسندیدہ حالات میں ہو۔ اندھیری رات میں ہی صبح کا انتظار ہوتا ہے۔
اگر تحریک پاکستان کے دور کے حالات کو دیکھا جائے تو یقیناً اس وقت بھی بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس وقت کے حالات پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے اور ان کا خیال تھا کہ اگر قیام نصیب ہوا تو تھوڑا عرصہ ہی ٹک پائے گا۔ مگر امید والوں نے وہ کر دکھایا جو شاید حقیقت پسند کبھی نہ کر پاتے۔ برے دور سے امید پھوٹے نہ پھوٹے، امید سے اچھے دور پھوٹے ہیں۔ دنیا میں بڑے کام ان ہی لوگوں نے کیے جو امید کی کشتی میں سوار تھے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ بہت پرامید ہے کامیابی کے لئے مگر کوشش نہ کرے تو یہ امید نہیں دھوکہ ہے۔ امید نام ہی اس احساس کا ہے جو آپ کو تاریکی میں کامیابی کے امکانات دکھاتے ہوئے کوشش پر اکسائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک پر امید انسان کی کوشش میں اور ایک مایوس کی کوشش میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مایوس انسان جیت کر بھی ہارا ہوا ہے اور پر امید ہار کر بھی جیتا ہوا ہے۔ ایک پرامید انسان جانتا ہے کہ ناکامیاں رحمت ہیں جبکہ ایک مایوس انسان ناکامی کو زحمت سمجھ کے بیٹھ جاتا ہے۔ ایک پرامید انسان کے لئے کائنات لاتعداد مواقعوں سے بھری ہوئی ہے مگر مایوس کے لئے دنیا بہت تنگ اور چھوٹی ہے۔ پرامید شخص خطروں کا کھلاڑی ہوتا ہے اور مایوس آدمی اپنے لئے خود خطرہ ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ناصرف خود پرامید رہیں بلکہ اپنے دیے سے دوسروں کے دیے بھی روشن کریں۔ اللہ ہم پر اپنا خاص کرم فرمائے اور ہمیں ایمان، یقین اور توکل کی دولت سے نوازے۔ اللہ ہمیں خزاں کی رت میں امید بہار رکھنے کی توفیق دے۔

