رام جی کی مورتی میں روح کی واپسی! مگر ۔ ۔ ۔


1949 ء میں ایک سادھو نے رات کی تاریکی میں اس مسجد میں چند مورتیاں رکھ دی تھیں۔ یہیں سے اس تنازع کا آغاز ہوا۔ اختتام یہ ہوا کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے نام سے موسوم اس مسجد کو ہندو شدت پسندوں (کارسیوکوں ) نے تباہ کر دیا۔ جس کے بعد الہ آباد ہائیکورٹ میں ایک مقدمہ درج کرایا گیا۔ 30 ستمبر 2010 کو ہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ’‘ یہ زمین کا ایک وہ چھوٹا سا ٹکڑا ہے جہاں فرشتے بھی پاؤں رکھنے سے ڈرتے ہیں۔ اس زمین میں لاتعداد بارودی سرنگیں دفن ہیں۔ ہمیں اس زمین کو (جھگڑوں سے ) پاک کرنے کا کام دیا گیا ہے ”۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے اس تصور کو یوں بامقصد اور با معنی بنایا گیا کہ جہاں پاؤں رکھنے سے فرشتوں کے پر جلتے تھے پیر 22 جنوری 2024 کو اسی مسجد کی منہدم بنیادوں پر ہندو حکومت کی طرف سے دس لاکھ دیوں، ہندو منتروں، جاپوں اور روایتی مذہبی رسوم و رواج میں نریندر مودی نے ہندو توا سیاست کے محور رام مندر کا افتتاح کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سیاہ پتھروں سے تراشی گئی اکیاون انچ کی مورتی میں روح پھونکنے ”پران تشٹھا“ کی رسم ادا کر دی گئی۔

اس مورتی میں رام ایک پانچ سالہ بچے کی صورت میں دکھائے گئے ہیں۔ پانچ سو سال کے بعد بقول ان کے، ہندوؤں کو رام کی جنم بھومی کی واپسی ہوئی ہے۔ یہاں پانچ سو برس سے بابری مسجد تھی۔ ہندوؤں کے مطابق مغل بادشاہ بابر کے زمانے میں اس مسجد کی تعمیر سے ان کی دیوتا رام کی جنم بھومی تک رسائی ختم کر دی گئی تھی۔ اب یہ رسائی بحال ہو گئی ہے۔

اس موقع پر ایودھیا میں جشن کا سماں تھا۔ جگہ جگہ رام بھگتوں کی ٹولیاں ’جے شری رام‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اور بھجن، کیرتن گاتے ہوئے نظر آتی تھی۔ ہزاروں عقیدت مند خصوصی ہیلی کا پٹر سروس اور پرائیویٹ جیٹ طیاروں کے ذریعے ایودھیا پہنچے تو وہیں کئی سادھو ہزاروں میل کا سفر پیدل طے کر کے اور کئی گھٹنوں کی بل رینگ کر پہنچے۔ پورے ہندوستان سے موسیقی کے بڑے نام بھجن گانے کے لئے ایودھیا آئے۔ اس دن ایودھیا یکسر بدلا ہوا اور جشن کے ماحول میں ڈوبا ہوا تھا۔

مندروں کی ہیئت، ستونوں کا فن تعمیر سے تعلق، رنگوں کا انتخاب، پس منظر کی تشکیل، پچی کاری، کاشی کاری، بت گری کے تشکیلی عناصر پر ہندو اثرات اگر کسی کی خواہش کی تکمیل کر رہے تھے تو وہ وزیراعظم نریندر مودی تھے ہندوتوا کے رنگ میں انچ انچ ڈوبے ہوئے۔ رام مندر کی تعمیر حکمراں بی جے پی اور آر ایس ایس کی قیادت میں ہندو تنظیموں کی ایک طویل تحریک کے بعد وجود میں آئی تھی جس میں جان مودی جی نے ڈالی تھی۔ مذہبی رسومات کے بعد انھوں نے وہاں موجود ہزاروں سادھو سنتوں اور اہم شخصیات سے خطاب کیا۔

ان کی بیشتر تقریر بھگوان رام پر مرکوز تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’‘ یہ پل صدیوں کے طویل انتظار کے بعد آیا ہے۔ اس پل کو کھونا نہیں ہے۔ یہ انڈیا کے نئے عہد کا آغاز ہے۔ ہمیں اس وقت آئندہ ایک ہزار سال کے بھارت کی بنیاد رکھنی ہے۔ دیو سے دیش اور رام سے قومی شعور کی تخلیق سے ہی قوم کی تعمیر ہو گی۔ ملک صدیوں کی غلامی کی ذہنیت کی زنجیر توڑ کر باہر آ گیا ہے ”۔ اس تقریب میں ملک کے اعلی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت بھی شریک تھے، وزیر اعظم کے ساتھ والی نشست پر ۔ رام مندر بی جے پی کی ہندوتوا سیاست کا محور اور ہندؤں کی بالادستی کی علامت ہے۔ اس بات کا اعلان کہ بی جے ہی ملک میں ہندو مذہب اور ثقافت کی سب سے بڑی علم بردار ہے اور یہ علم نریندر مودی نے بہت اونچا تھاما ہوا ہے۔

بیسویں صدی کی آخری دہائیوں سے ”مغربی فکر اور حوالوں“ کے ساتھ بنیاد پرستی، مذہبی جنون اور مذہبی شدت پسندی کا جب جب ذکر کیا گیا تو اکثر مثال وہ مسلمان عورتیں تھیں جنھوں نے نقاب پہن رکھی تھی یا چادروں میں اپنے جسم چھپا رکھے تھے۔ مساجد پر حملوں، مسلمان تنظیموں کی عسکری کارروائیوں اور دہشت گردی کے واقعات کو بھی اس حوالے سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ دنیا دیکھ لے بھارت میں بنیاد پرست، مذہبی جنونی اور شدت پسند، ظلم اور دہشت گردی کے کس عالم میں ہیں جو پورے ملک کا 80 فیصد ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کی تقلید میں اس وقت جب کہ غیر مسلم اقوام میں دنیا کی اکثر قومیں اپنے ماضی کے ورثے کو چھوڑ رہی ہیں یہودی بنیاد پرست اپنے ماضی کے خیالات، افکار اور مذہبی عقائد کو پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ گلے لگا رہے ہیں۔ بدھ مت حتی کہ کنفیوشی مذاہب میں بھی یہی صورتحال ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس فہرست میں ہندو سب سے آگے ہیں اور اپنے علاوہ مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دوسری قوموں کا وجود برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو کسی طور غلط نہ ہو گا۔

اس حوالے سے اگر کسی کو مطعون کیا جانا چاہیے تو وہ مسلمان نہیں بلکہ ہندو، یہودی اور دیگر اقوام ہیں۔ اب تو بدھ مت کے ماننے والے بھی آپے سے باہر نکلے پڑ رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ عبادات اور مذہبی رسوم کی ادائیگی کے بغیر کوئی مذہبی نظریہ کوئی معانی نہیں رکھتا لیکن عبادت گا ہیں دوسرے مذاہب کی خمیدہ کمر، بنیادوں، کھنڈروں اور باقیات پر تعمیر نہیں کی جانی چاہئیں۔ مودی جی کو واضح ہو، اس صورت میں ایک ہزار سال تو ایک طرف ایک دو صدیوں کی بنیاد بھی نہیں رکھی جا سکتی۔

پاکستان ہندؤں کی عدم رواداری اور عدم برداشت کی بڑی مثال ہے ہندؤں کو جس کا وجود گوارا نہیں۔ بھارت پاکستان کے دو ٹکڑے کرچکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا چکا ہے اس کے باوجود بھارتی وزیراعظم مودی پاکستانی آزاد کشمیر کو بھی جلد ہی ”فتح“ کر کے بھارت کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی بھی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایران کے پاکستان پر راکٹ حملے بھی بھارت کی سازش اور شہ کا شاخسانہ تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا ایران کو سخت جواب دراصل بھارت کو ہی وارننگ تھی ورنہ ایران کو تو دوسرے ذرائع سے بھی ٹائٹ کیا جاسکتا تھا۔

مودی پہلے بھارتی مسلمانوں کا قتل عام کر کے کامیابیاں حاصل کرتے رہے ہیں جب سے وزیراعظم بنے ہیں الیکشن کے مواقع پر پاکستان کے خلاف ماحول جارحانہ کر کے اکثریت حاصل کر رہے ہیں۔ پچھلی مرتبہ کی سرجیکل اسٹرائیک اس کی مثال ہے۔ تین ماہ بعد ہونے والے بھارتی الیکشن میں پھر وہی ماحول بنانے کی تیاریاں کی جاری ہیں۔ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کو نہیں چھوڑیں گے اور بلوچستان کے اندر سے بغاوت کروائیں گے۔

آزاد کشمیر جو ہمارا حصہ ہے اس کو بھی ہم واپس ہندوستان میں ضم کر لیں گے۔ کل ہی پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دو بھارتی شہریوں کی ٹارگٹ کلنگز میں ملوث ہے۔ جس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ بھارت اس سے پہلے امریکا اور کینیڈا میں بھی ٹارگٹ کلنگز کرچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف نے صاف کہہ دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ ہندو ذہنیت کسی بھی طور مسلمانوں کے ہاتھوں اپنی غلامی کو فراموش کرنے پر تیار نہیں۔

رام مندر کے افتتاح کے ساتھ ہی بھارتی مسلمانوں کی جان اور مال پر حملوں اور انھیں نقصان پہنچانے کی تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائی گئی۔ لیکن عالمی مغربی میڈیا اور دنیا بھر میں بھارتی ہندو خود مغرب کی اصطلاحات کے جامے میں بھی کہیں انتہا پسند، بنیاد پرست اور دہشت گرد نظر نہیں آتا۔ بھارت مسلمانوں کی تاریخی مساجد برباد کر رہا ہے جب کہ مسلمان اپنے ممالک میں مندر، سکھوں کے ٹیمپل اور گرجے بنا رہے ہیں، سعودی عرب میں پہلی مرتبہ وائن شاپس کھل رہی ہیں بھر بھی مسلمان ہی انتہا پسند، بنیاد پرست اور دہشت گرد ہیں، یہودیوں، ہندو، عیسائیوں اور اب تو بدھسٹ کے ہاتھوں مظالم کا شکار ہونے اور مسلسل مارے جانے کے باوجود۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments