فیس بُک کے 20 برس مکمل: دنیا پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟


فیس بُک، مارک زکر برگ، انسٹاگرام، ایکس، ٹوئٹر
20 برسوں میں فیس بُک کے ڈیزائن میں تقریباً ایک درجن سے زائد مرتبہ تبدیلیاں کی گئی ہیں

آج سے تقریباً 20 برس قبل مارک زکربرگ اور ان کے چند دوستوں نے کالج کے ایک کمرے سے فیس بُک نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم لانچ کیا تھا۔

اس کے بعد سے آج تک فیس بُک دنیا کا مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے اور اس کے ڈیزائن میں بھی ایک درجن سے زائد مرتبہ تبدیلی آ چکی ہے۔

لیکن اتنے برسوں میں بھی فیس بُک کا مقصد نہیں بدلا اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے اور اشتہاروں کے ذریعے بےتحاشا پیسے کمایا جائے۔

فیس بُک کی عمر اب 20 برس ہو چکی ہے اور ہم آپ کو بتائیں گے کہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے دنیا میں کیا تبدیلیاں برپا کیں۔

فیس بُک، مارک زکر برگ، انسٹاگرام، ایکس، ٹوئٹر
مارک زکربرگ نے فیس بُک کی بنیاد 2004ء میں رکھی تھی

سوشل میڈیا کی دنیا میں جدت کا آغاز

فیس بُک کے وجود میں آنے سے قبل ’مائی سپیس‘ جیسی ویب سائٹس موجود تھیں لیکن مارک زکربرگ کا 2004 میں لانچ ہونے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم فوراً ہی مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔

ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس پر 10 لاکھ سے زائد صارفین موجود تھے اور اگلے چار برسوں میں اس نے ’مائی سپیس‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی کامیابی میں لوگوں کو تصاویر میں ’ٹیگ‘ کرنے جیسے آپشنز نے بڑا کردار ادا کیا۔

2012 تک فیس بُک کے صارفین کی تعداد تقریباً ایک ارب تک پہنچ گئی تھی اور اس کے بعد سے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

2021 وہ واحد سال تھا جب فیس بُک پر صارفین کی تعداد کم ہو کر ایک ارب 92 کروڑ ہوئی تھی۔

مارک زکربرگ نے فیس بُک کو ان علاقوں میں پہنچایا جہاں انٹرنیٹ کی رسائی کم تھی اور ان ممالک میں انٹرنیٹ کی فراہمی بھِی مفت کردی جس کے باعث فیس بُک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

2023 کے اختتام پر فیس بُک کے مطابق ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تقریباً دو ارب افراد روزانہ کی بنیاد پر استعمال کر رہے تھے۔

یہ بھی سچ ہے کہ فیس بُک اب نوجوانوں میں پہلے کی طرح مقبول نہیں۔ تاہم اب بھی یہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔

کچھ لوگ فیس بُک اور اس کی حریف کمپنیوں کو رابطہ بڑھانے کا ذریعہ قرار دیتے جبکہ کچھ لوگ اسے بربادی کا سامان کہہ کہ مخاطب کرتے ہیں۔

فیس بُک، مارک زکر برگ، انسٹاگرام، ایکس، ٹوئٹر
2012ء تک فیس بُک کے صارفین کی تعداد تقریباً ایک ارب تک پہنچ گئی تھی

صارفین کا ڈیٹا اور اشتہارات کے ذریعے کمائی

فیس بُک نے یہ ثابت کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ’لائکس‘ اور ’ڈس لائکس‘ کا حصول آپ کے لیے بہت سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

آج فیس بُک کی پیرنٹ کمپنی ’میٹا‘ ایڈورٹائزنگ کی دنیا کا ایک بڑا ہاتھی بن چکی ہے اور ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے ہی گوگل کی طرح اسے سب سے زیادہ منافع ملتا ہے۔

میٹا کے مطابق 2023 کی آخری سہ ماہی میں انھوں نے ایڈورٹائزرز کو اشتہاری سروسز مہیا کیں اور 34 ارب ڈالر کمائے۔ اس میں سے 11 ارب 50 کروڑ ڈالر صرف منافع کے مد میں ان کے پاس آئے تھے۔

لیکن فیس بُک کی آمد کے بعد صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال کے حوالے سے خدشات بھی بڑھے ہیں۔

میٹا کو ماضی میں صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال پر کئی مرتبہ جُرمانے کا سامنے کرنا پڑا ہے۔

ماضیِ قریب میں 2018 میں اس حوالے سے کیمبرج اینلیٹیکا کا سکینڈل بہت مشہور ہوا تھا جس کے بعد ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزی کرنے پر میٹا کو جُرمانے کے طور پر 725 ملین ڈالر ادا کرنے پڑے تھے۔

2022 میں ڈیٹا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر یورپی یونین نے بیس بُک پر 287 ملیں ڈالرز کا جُرمانہ عائد کیا تھا۔

گذشتہ برس ہی آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے میٹا پر یورپی صارفین کے ڈیٹا کو یورپ کی حدود سے باہر استعمال کرنے پر ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کا جُرمانہ کیا ہے۔ فیس بُک نے اس جُرمانے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

فیس بُک، مارک زکر برگ، انسٹاگرام، ایکس، ٹوئٹر
آج فیس بُک کی پیرنٹ کمپنی ‘میٹا’ ایڈورٹائزنگ کی دنیا کا ایک بڑا ہاتھی بن چکی ہے

انٹرنیٹ کیسے نیا سیاسی میدان بنا؟

فیس بُک نے جب سے اپنے پیلیٹ فارم پر اشتہاری مہم چلانے کی اجازت دی ہے یہ پلیٹ فارم دنیا بھر میں انتخابی مہمات کا مرکز بن گیا ہے۔

مثال کے طور پر امریکہ میں 2020 کے انتخابات سے قبل آخری پانچ مہینوں میں اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے فیس بُک پر چلنے والے اشتہارات پر 40 ملین ڈالر خرچ کیے۔

فیس بُک نے سیاست کو نچلی سطح پر تبدیل کرنے کی بھی کوشش کی اور غیرمعروف گروہوں کو نئے لوگوں سے ملنے، مہم چلانے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا مقام بنانے میں مدد دی۔

کہا جاتا ہے کہ فیس بُک اور ٹوئٹر نے 2011 میں عرب سپرنگ کے دوران احتجاجی مظاہروں کے انعقاد میں نہ صرف بڑا کردار ادا کیا بلکہ وہاں کی صورتحال سے دنیا بھر کے لوگوں کو بھی آگاہ رکھا۔

لیکن اسی دوران فیس بُک کا سیاسی استعمال اور انسانی حقوق پر پڑنے والے اس کے اثرات بھی دنیا بھر میں بحث کا موضوع بنے رہے۔

2018ء میں فیس بُک نے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ وہ میانمار میں روہنگیا شہریوں کے خلاف ’تشدد پر اُکسانے‘ والے لوگوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

فیس بُک نے میٹا کو بلندی تک کیسے پہنچایا؟

فیس بُک، مارک زکر برگ، انسٹاگرام، ایکس، ٹوئٹر
میٹا کا دعویٰ ہے کہ تقریباً تین ارب افراد روزانہ اس کا ایک نا ایک پیلٹ فارم استعمال کرتے ہیں

فیس بُک کی شاندار کامیابی نے مارک زکربرگ کو ایک سوشل میڈیا ایما پر کھڑا کرنے میں مدد دی۔ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور اوکیولس جیسی کمپنیاں خریدی گئیں اور انھیں فیس بُک کی چھتری تلے لاکر 2022 میں میٹا کی بنیاد رکھ دی گئی۔

میٹا کا دعویٰ ہے کہ تقریباً تین ارب افراد روزانہ اس کا ایک نا ایک پیلٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ جب فیس بُک اپنی حریف کمپنیوں کو خریدنے میں ناکام رہا تو اس نے ان کمپنیوں کی نقل کرنا شروع کردی۔

فیس بُک اور انسٹاگرام پر 24 گھنٹوں بعد سٹوریز غائب ہوجاتی ہیں۔ یہ فیچر سب سے پہلے سنیپ چیٹ نے متعارف کروایا تھا۔

کپمنی کی جانب سے انسٹاگرام پر ریلز متعارف کروانا دراصل ٹِک ٹاک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنا تھا جبکہ تھریڈز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی ٹکّر پر بنایا گیا۔

2022 میں برطانوی حکام نے میٹا کو جِف میکر ’جِفی‘ فروخت کرنے پر اس لیے مجبور کیا تاکہ مارکیٹ میں کسی بھی ایک کمپنی کے پاس ساری طاقت نہ رہے۔

بی بی سی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32026 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments