ایک آئیڈیل حکومت کیسی ہونی چاہیے؟ (مکمل کالم)


ایک مثالی حکومت کیسی ہوگی؟ اسے کیسے منتخب کیا جائے گا؟ یہ حکومت کیسے کام کرے گی؟ اس کے اختیارات کی حدود کیا ہوں گی؟ اور یہ مثالی حکومت انصاف کیسے کرے گی؟ یہ سوالات نئے نہیں ہیں، افلاطون سے لے کر ہنری ڈیوڈ تھورو تک، فلسفیوں نے ان سوالات کا مختلف طریقوں سے جواب دیا ہے۔ سو، آج ہم ان فلسفیوں کے افکار کو دماغ میں رکھ کر آئیڈیل حکومت کا خاکہ بناتے ہیں اور پھر زمینی حقیقت سے اس کا تقابل کر کے دیکھتے ہیں کہ ہم اس آئیڈیل سے کتنے نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔

ایک آئیڈیل حکومت صاف، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے، دنیا میں جہاں جہاں صدارتی یا پارلیمانی جمہوریت رائج ہے وہاں چار یا پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ ان انتخابات کی شفافیت ہر جگہ زیر بحث آتی ہے حتیٰ کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی انتخابات کے نتائج کو متنازعہ بنا دیا جاتا ہے لیکن مغربی دنیا کے بیشتر مہذب ممالک میں انتخابی نتائج کو من و عن تسلیم کر لیا جاتا ہے اور وہاں جھگڑے کم کم ہی ہوتے ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ان ممالک میں انتخابات کا انعقاد آئیڈیل انداز میں ہوتا ہے مگر باقی دنیا سے بہرحال وہ بہتر ہیں۔ آمریتیں، بادشاہتیں اور کمیونسٹ حکومتیں البتہ اس تکلف میں نہیں پڑتیں، ایسا نہیں ہے کہ وہاں انتخابات نہیں ہوتے، انتخابات وہاں بھی کروائے جاتے ہیں مگر ویسے ہی جیسے آنجہانی صدام حسین کروایا کرتے تھے اور جس کے نتیجے میں موصوف ننانوے فیصد ووٹ لے کر بلا مقابلہ صدر منتخب ہو جاتے تھے۔ ہمارے جیسے ممالک کی درجہ بندی بھی کوئی اچھی نہیں، آئیڈیل سے کافی دور ہیں مگر دنیا کے کئی غریب اور کم ترقی یافتہ ممالک اور ہر قسم کی آمرانہ حکومتوں اور تھیوکریسی سے اب بھی بدرجہا بہتر ہیں۔ آئندہ انتخابات میں پاکستان کے 12 کروڑ 85 لاکھ شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، اس حساب سے دنیا کی جمہوریتوں میں ہمارا پانچواں نمبر بنتا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ تاہم یہ بھی درست ہے کہ محض کروڑوں ووٹروں کا اندراج اس بات کی ضمانت نہیں کہ ان کا حق رائے دہی حقدار تک پہنچے گا یا نہیں۔ لیکن اس خدشے کی آڑ میں پورے انتخابی عمل پر کراس لگا دینا بھی ٹھیک نہیں، ساڑھے بارہ کروڑ ووٹر کم از کم اپنا ووٹ تو ڈال ہی سکتے ہیں، ان پر نہ کوئی پابندی ہے اور نہ ایسا کوئی طریقہ کار ایجاد ہوسکا ہے جس سے یہ پتا چلایا جا سکے کہ ووٹر کے دل میں کیا ہے۔ ہاں، یہ عین ممکن ہے کہ نصف آبادی کی عمومی تائید، جسے روسو General Will کہتا ہے، حتمی نتائج میں ظاہر نہ ہو لیکن اگر ایسا ہوا، یعنی اگر نتائج میں general willکی عکاسی نہ ہوئی تو یہ بات بھی چھپی نہیں رہ سکے گی، کیونکہ general will کا اظہار بہرحال بیلٹ بکس میں ہو جائے گا اور یہ پتا چل جائے گا کہ انتخابی عمل آئیڈیل سے کتنا دور ہے، تاہم کسی بھی صورت میں ہم یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ انتخابی عمل بالکل ہی صفر یا ناقابل قبول ہے۔

تھامس جیفرسن نے کہا تھا کہ بہترین حکومت وہ ہے جو اتھارٹی کا کم سے کم استعمال کرے۔ ہنری ڈیوڈ تھورو نے اس بیان میں ترمیم کر کے اسے مزید بہتر بنا دیا اور کہا کہ مثالی حکومت وہ ہے جو حکمرانی ہی نہ کرے۔ ہمارے ہاں البتہ الٹی گنگا بہتی ہے، یہاں حکومت کا مطلب ہے زیادہ اختیار، زیادہ قوانین، عوام پر زیادہ پابندیاں۔ ایک آئیڈیل حکومت ایسی ہونی چاہیے جو منتخب ہوتے ہی اپنے اختیارات نچلی سطح پر عوام کو منتقل کرے، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنائے اور ان کے ٹیکس کا پیسہ اسی جگہ خرچ ہو جہاں سے وصول کیا جائے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم اس ضمن میں ایک بہترین اقدام تھا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، اس ترمیم کے نتیجے میں نہ صرف مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد یقین بنایا گیا بلکہ صوبوں کو وہ تمام محکمے دے دیے گئے جن پر ان کا حق تھا، اصولاً اس ترمیم کے بعد وفاق کے پاس کوئی ایسا محکمہ نہیں ہونا چاہیے جو صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہو لیکن عملاً ایسا نہیں ہوا۔ آئیڈیل حکومت میں وفاق اپنے پاس صرف کرنسی، مواصلات، دفاع، خارجہ امور اور ایک آدھ مزید محکمہ رکھتا ہے جبکہ مقامی حکومتیں اس قدر با اختیار ہوتی ہیں کہ یونین کونسل کا سربراہ عملاً اس علاقے کا وزیر اعلیٰ ہوتا ہے۔ آئے دن انتخابی جلسوں میں جو مسائل بیان کیے جاتے ہیں ان میں سے نوے فیصد کام وہ ہیں جو وزیر اعظم کے نہیں بلکہ کونسلر کے کرنے کے ہیں سو آئیڈیل حکومت میں مقامی حکومت کے پاس بجٹ ہو نا چاہیے اور اسی کے پاس خرچ کرنے کا اختیار۔ بد قسمتی سے ہم اس ماڈل سے ابھی کوسوں دور ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ ماڈل کامیاب نافذ ہو گیا تو صوبے کا وزیر اعلیٰ عضو معطل ہو جائے گا اور شہر کا مئیر مالک بن جائے گے۔ یہی وجہ ہے کہ لندن، بارسلونا اور اوسلو کے مئیر وزیر اعظم سے زیادہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔

ایک مثالی حکومت انصاف یقینی بناتی ہے۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو نے اس پر طویل بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ انصاف ہوتا کیا ہے۔ سقراط کے نزدیک اپنے کام سے کام رکھنا ہی دراصل انصاف ہے، ہر معاشرے میں ڈاکٹر، تاجر، سیاستدان، منصف اور فوج کے سپاہی ہوتے ہیں، انصاف کا تقاضا ہے کہ ان میں سے ہر شخص کو اپنی انفرادی ذمہ داری کی مکمل آگاہی ہو اور وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اسے احسن طریقے سے انجام دے۔ یہاں بھی ہم آئیڈیل سے میلوں دور ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ جو شخص بھی اچھا کام کرے، چاہے وہ اس کی نوکری کی ذمہ داریوں کا حصہ نہ بھی ہو، تو اس کی ستائش کی جانی چاہیے، یہ رجحان بے حد خطرناک ہے، بطور قوم ہم اس قسم کے ایڈونچر کی قیمت کئی مرتبہ چکا چکے ہیں۔ اب آخری سوال رہ گیا کہ آئیڈیل حکومت کس کی ہونی چاہیے۔ ارسطو نے اپنی کتاب سیاسیات میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، وہ لکھتا ہے کہ شخصی حکومت بادشاہت کہلائے گی، ایک چھوٹے سے گروہ کی حکمرانی کو اشرافیہ کہا جائے گا جبکہ تمام شہریوں کی حکمرانی کو جمہوریہ کہیں گے۔ ارسطو کے نزدیک حکمرانی کے یہ تینوں طریقے درست ہیں مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ ان میں سے کس طرز حکومت میں خرابی کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ ان میں سے جو بھی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اپنے مفادات کے تحفظ اور خواہشات کو مقدم رکھے گی وہ زیادہ جلد کرپٹ ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر یک شخصی نظام میں جابر حکمران صرف اپنے مفادات کی نگہبانی کرے گا اور رعایا کے حقوق بلا روک ٹوک پامال کرے گا۔ اسی طرح اشرافیہ اپنی طاقت کا استعمال کر کے تجوریاں بھرے گی اور غریب شہریوں کے مشکلات کو نظر انداز کرے گی۔ ارسطو، جمہوریت کا بھی زیادہ طرف دار نہیں کیونکہ اس کی رائے میں اکثریت کی حکمرانی اقلیتوں کے حقوق پر غلبہ پانے کے لیے طاقت کا استعمال کر سکتی ہے، آج کا انڈیا اس کی مثال ہے۔ لیکن بہرحال ہمیں انہی تین میں سے کسی ایک طرز حکمرانی کا انتخاب کرنا ہے۔ گو کہ افلاطون کی طرح ارسطو بھی فلسفی بادشاہ کے حق میں ہے مگر وہ یہ حقیقت تسلیم کرتا ہے کہ کسی ملک میں دیوتا سمان شخص ملنا تقریباً نا ممکن ہے اور اگر ایسا شخص مل بھی جائے تو بادشاہت آسانی سے ظلم میں بدل جاتی ہے جو کہ حکمرانی کی بدترین شکل ہے۔ اسی طرح انتہائی عقلمند اور خیر خواہ لوگوں کا چھوٹا گروہ بھی آسانی سے نہیں ملے گا، ماضی میں ایسے گروہ نے پاکستان کے ساتھ جو کھلواڑ کیا اس کی داستان لکھنے کے لیے سینکڑوں صفحے سیاہ کرنے پڑیں گے۔ آخر میں جمہوریت ہی بچتی ہے جس کے بارے میں ارسطو کا خیال ہے کہ وہ تینوں میں سے قدرے بہتر طرز حکومت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم آئیڈیل حکومت اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار سے فی الحال بہت دور ہیں مگر اس آئیڈیل کے قریب جانے کا اگر کوئی درست راستہ ہے تو وہ شاہراہ انتخابات ہے، بے شک یہ شاہراہ ٹوٹی پھوٹی ہے اور اس میں کئی رکاوٹیں مگر راستہ یہی ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم کسی بھی اور راستے پر چلیں گے تو منزل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ دو ہزار سال کی تاریخ یہی ثابت کرتی ہے۔

یاسر پیرزادہ

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 483 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments