کاپی پیسٹ والا مثبت منشور
الیکشن کا سماں سماں ہے، عوام کی موجیں ہی موجیں ہیں کہ چاہے جس بھی امیدوار کی طرف جائیں خالی ہاتھ نہیں لوٹتے بلکہ ووٹ کا پاس یا پھر یاس دے کر ”لوٹ“ کے ہی آتے ہیں۔ الخیر نئے حکومت بننے اور پرانے چہروں کا نئے سوچ کے ساتھ ظہور ہونے کا وقت تقریباً سو گھنٹوں کی مسافت پہ سردی کے اس موسم میں پولنگ اسٹیشن پہ کھڑا ووٹروں کی راہ دیکھ رہا ہے۔
سیاسی جماعتوں میں سے قابل ذکر کے منشور بقول عرفان صدیقی صاحب کے کافی ہوم ورک اور کوششوں کے بعد اپنے نیک ارادوں اور بقول ان کے ان سچے وعدوں کے ساتھ پبلک ہو چکی ہے جو وہ آئندہ کی پانچ سالوں میں برسراقتدار آنے کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ارادہ رکھتیں ہیں۔ منشور دراصل کسی بھی جمہوری سیاسی پارٹی کا وہ رہنما اصول دستہ ہوتا ہے جو اس پارٹی کو وقت مقررہ کے لئے طے کردہ اہداف یاد دلانے اور اسے تکمیل تک پہنچانے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے اور یہی وہ اصل راہ نما ہوتا ہے جس سے کسی بھی سیاسی پارٹی کے مستقبل بین ہونے کے دعووں کو عوامی سطح پر پرکھا جاسکتا ہے۔ روشنی اگر پاکستان کی بڑی اور ”لمبی“ سیاسی جماعتوں پر ڈالی جائے تو تقریباً وہی جماعتیں زیر روشنی آئیں گی جو پچھلی کئی کئی بار کی حکومتوں میں کسی نہ کسی طرح سے جڑی رہی ہیں، مگر پھر بھی ان میں سے چند ایک قابل ذکر کا حال ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ جو کہ ملک کی عموماً اور پنجاب کی خصوصاً بڑی پارٹی تصور کی جاتی ہے دیر سے سہی مگر بڑے بڑے اشتہارات سے اپنے منشور کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہے، اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی بھی ”چنو نئی سوچ کو“ کے نعرے کے ساتھ اپنا منشور بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں عوامی صفوں تک لا چکی ہے۔ ملک کی ایک اور بڑی مگر تھوڑی معتوب پارٹی پاکستان تحریک انصاف، جو کہ آج کل خود انصاف کی منتظر کئی دروں کی طرف تکتی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، جذباتی ہی سہی مگر بہرحال منشور جاری ضرور کرچکی ہے۔
مذہبی جماعتوں کا چونکہ یہ ”پیشہ“ اول سے ہی نہیں رہا ہے تو انہوں نے برسبیل ماضی اب کی بار بھی بغیر منشور کے ہی چلنا پسند فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ اگر قابل ذکر قوم پرست جماعتوں مثلاً عوامی نیشنل پارٹی و دیگر کی طرف دیکھا جائے تو انہوں نے بھی اپنی بساط کے مطابق اپنے منشور جاری کر کے اپنے نقطہ نظر سے عوام کو آگاہ، قائل اور راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب کون بنے گا حکمران اور کون کس حد تک اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے کا موقع پائے گا یہ تو آئندہ ہفتے ہی پتہ چلے گا مگر واقعتاً یہ سب منشور جو سیاسی جماعتیں منظور عوام کرچکی ہے اپنی ہیئت میں اور اپنی اصل میں کافی وزن دار بھی ہے اور قابل تحسین بھی کہ ان میں حتی الوسع ہر پارٹی نے ہوم ورک کر کے موجودہ معاشی، معاشرتی، سماجی، سیاسی اور ماحولیاتی حالات کے پیش نظر بہت ساری قابل قدر نقاط شامل کی ہے۔
ہمارے ہاں المیہ مگر یہ ہے کہ پبلک ان منشوروں کو کچھ زیادہ قابل اعتنا نہیں سمجھتی کیونکہ ان کا خیال ہے یہ ایک روایت کی شکل اختیار کرچکے ہیں جو ایک مخصوص وقت میں مخصوص مقاصد کے لئے ان کے سامنے لائے جاتے ہیں اور وہ مخصوص وقت گزرنے کے بعد یہ بس مجبور الفاظ کا خالی اور بے وزن مجموعہ بن جاتے ہیں مگر اس حقیقت کے باوجود ہم پھر بھی مجموعی طور پر پھر بھی مثبت اور امکانی فکر کا سہارا نہیں چھوڑ سکتے کہ چاہے جیسا بھی ہو مگر ذیل دو میں سے ایک وجہ ہمیں منفی رجحان سے دور رکھنے میں کم از کم دلاسا تو دے سکتا ہے۔
ایک وجہ تو بذات خود امکان کا ہونا ہے کہ امکان کا دامن چھوڑنا اور وہ بھی موجودہ حالات کے تناظر میں ہرگز اچھا شگون نہیں ہو سکتا اور دوسرا وجہ بقول سید جعفر احمد کے ’پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا وہ غیرمعمولی قائم کردہ فضا ہے جو پاکستان کی آزادی کے ابتدائی چار پانچ عشروں میں تصور میں بھی نہیں لایا جاسکتا تھا‘ ۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اب ہر ایک وعدے اور دعوے کا احتساب عوامی حلقوں میں بھی بذریعہ ذکر کردہ ذرائع سے ہونے لگا ہے لہذا اس وجہ سے بھی کافی اطمینان حاصل کیا جاسکتا ہے کہ جو کہا یا لکھا گیا ہو اس سے یونہی صرف نظر کرنا کسی بھی وقت عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو عوامی کٹہرے میں کھڑا کر سکتا ہے، لہذا امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑا جاسکتا۔
بات اگر کی جائے ان منشوروں کے جائزہ کی تو بہت ساری مثبت کے ساتھ کافی منفی نکات بھی ہر پارٹی کے منشور کا حصہ پیوستہ ہیں مگر چونکہ یہ وقت ہر گز منفی نکات کے اجاگر نہ کرنے اور یا پھر جان بوجھ کے صرف نظر کر کے آگے بڑھنے کی ہے اس لئے صرف اتنا ہی کہنے پہ اکتفا کریں گے کہ چونکہ منشور عوام کے لئے ہوتا ہے کہ وہی ووٹ دیں گے تو منشور کو عمل میں لایا جا سکے گا اور عوام ماشاءاللہ سے پاکستانی نسل سے تعلق رکھنے والی ہے کہ جنہیں انگریزی زبان کچھ بہت زیادہ پسند نہ آنے کی وجہ سے راست آتی نہیں، لہذا انگریزی کے بجائے اردو میں ہی اپنی منشور کی کاپیاں مشتہر کروا دیتے تو کتنا ہی بھلائی والا کام ہوتا اور یوں عوام بھی آپ کی اچھی اور نیک خواہشات سے آگاہ ہوتے، اس سمیت دوسری بات یہ کہ اگرچہ منشور کی کاپیوں میں کاپی پیسٹ اور پلیجرزم کا بہت زیادہ دخل ہے مگر اگر پھر بھی اسی پلیجرزم والے منشور کے ساتھ ہی چلا جائے تو ملک کی قسمت ہی بدل جائے۔ ہمارا تو بس یہی ایک مدعا ہو گا کہ 2008 سے تعلیم پہ جی ڈی پی کا جس پانچ سے چھ فیصد حصہ کا نعرہ بمع وعدہ لگایا جاتا ہے وہ اب کی بار وفا ہو کہ علاوہ اس کے ہمیں کچھ بھی نہیں چاہیے۔


