کیچ اور گوادر کے حلقے میں انتخابی دنگل

8 فروری 2024 میں پورے ملک میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے لئے الیکشن ہو رہے ہیں۔
جمہوریت کی تسلسل جمہوریت میں موجود خامیوں کی دوری کی سبب بنتی ہیں۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کی آبیاری بہتر انداز میں نہ ہو سکی۔ وطن عزیز میں بار بار جمہوری اداروں پر شب خون ماری گئی۔ جمہوری تسلسل نہ ہونا بدقسمتی ہے۔ الیکشن میں جب تک شفافیت نہ ہو، جمہوری اداروں کا پنپنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جہاں جمہوری اداروں نے مثبت ارتقائی مراحل طے کیے ، ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔ وہ ممالک جہاں انتخابات وقت پر غیر جانبدار اور شفاف ہوتے ہیں، وہاں پر ووٹ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جمہوری معاشروں میں ووٹ ایک ہتھیار کی مانند ہے۔ اس ووٹ کے ذریعے آپ ایک حکومت کو بنا بھی سکتے ہیں، اور گرا بھی سکتے ہیں۔ ووٹنگ کے ذریعے حکومت پر ملکیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ آپ جس امیدوار کو پسند کرتے ہیں، اپنی رائے سے حکومت کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں۔
الیکشن کمیشن بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں ووٹرز کی تعداد 53 لاکھ 71 ہزار 947 ہے جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ 16 ہزار 164 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 23 لاکھ 55 ہزار 783 ہے۔
پورے پاکستان کی طرح صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات گوادر میں بھی ہو رہے ہیں
صوبائی حلقہ گوادر پی بی 24 میں مولانا ہدایت الرحمن۔ حق دو تحریک۔ حمل کلمتی بی این پی، اشرف حسین نیشنل پارٹی، سید مہیم جان آزاد امیدوار شاہد اسحاق مسلم لیگ، شیر جان جمعیت علماء اسلام نظریاتی، مولانا امجد جمعیت علماء اسلام کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس حلقے سے حمل کلمتی 2008 سے لے کر 2018 تک ہر بار بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر ہیٹ ٹرک کرچکے ہیں۔ حمل کلمتی 2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ قائداعظم کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے، اس کے بعد حمل کلمتی قوم پرست پارٹی بی این پی مینگل کے ٹکٹ پر دو مرتبہ منتخب ہو کر صوبائی اسمبلی کے ممبر رہے۔
اس مرتبہ گوادر میں صورتحال۔ پچھلے تمام انتخابات سے قدرے مختلف ہے۔ پہلے بی این پی مینگل کے حمل کلمتی کے مقابلے میں امیدوار کمزور تھے۔ لیکن اس مرتبہ حق دو تحریک حمل کلمتی کے ووٹر کو اپنے جانب مبذول کرانے میں بظاہر کامیاب نظر آ رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں گوادر شہر میں مولانا ہدایت الرحمان نے اچھے خاصے ووٹ حاصل کیے ۔ اگر مولانا نے اس مرتبہ اپنی مقبولیت برقرار رکھی۔ اور اس مقبولیت کو ووٹ میں بدلنے میں کامیاب ہوا تو اس صورت میں حمل کلمتی کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہو گا۔
اس حلقے میں اشرف حسین بھی نیشنل پارٹی کی طرف سے ایک اچھے امید وار ہیں۔ نیشنل پارٹی کا گوادر میں اچھا خاصا ووٹ بینک ہے، اس مرتبہ چونکہ حمل کلمتی کے ووٹ دو سے تین نمائندوں میں تقسیم ہو رہے ہیں، اس کا فائدہ نیشنل پارٹی اٹھا سکتا ہے۔ حمل کلمتی کو اپنے سابقہ ساتھی سے بھی مقابلے کا سامنا ہے۔ سید مہیم جان جو آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جس سے پیپلز پارٹی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ پچھلے ہر انتخاب میں حمل کلمتی اور مہیم جان آپس میں اتحادی رہے تھے۔
اس مرتبہ سید مہیم جان خود آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور ان کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ گوادر کے حلقے پسنی، اورماڑہ میں مہیم جان کے اپنے مریدین ہیں، جن کے ووٹ مہیم جان کو پڑیں گے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مہیم جان کی پوزیشن جیت کے لئے اتنی بری نہی ہے۔ شاہد اسحاق، شیر جان صالح اس انتخاب میں نووارد ہیں، بظاہر ان کی کوئی خاص پوزیشن نہیں ہے۔ مولانا امجد جمعیت علماء اسلام سے جن کا تعلق ہے، اگرچہ جیت نے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، لیکن وہ بھی کچھ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔
اس مرتبہ گوادر کے صوبائی حلقے میں انتخابات میں سید مہیم جان، مولانا ہدایت الرحمان، حمل کلمتی، اشرف حسین کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ بظاہر مولانا ہدایت الرحمان کے حق دو تحریک بہت زور لگا رہی ہے۔ لیکن اس کے مقابلے حمل کلمتی اس میدان کے پرانے ریسر ہیں۔ ووٹوں کی اس تقسیم کا مہیم جان اچھا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مہیم جان کے مریدین کا ووٹ ہمیشہ سے یکجا رہا ہے، اگر مولانا صاحب کے حق دو تحریک مہیم جان کے مریدین کا ووٹ کاٹنے میں کامیاب رہا تو مہیم جان کے لئے جیت مشکل دکھائی دیتی ہے۔
میرے نظر میں گوادر کے اس انتخابات میں جیت سید مہیم جان، حمل کلمتی اور مولانا ہدایت الرحمان میں کسی کے حصے میں آ سکتی ہے۔ ان تینوں کے درمیان اچھا خاصا مقابلے کی توقع ہے۔ اگر اس حلقے میں عوامی مقبولیت کو پیش نظر رکھا جائے تو ہمیں مولانا ہدایت الرحمان کے حق دو تحریک اس وقت اس الیکشن میں آگے دکھائی دے رہی ہے۔ اس مقبولیت کو کیش کرنا، ووٹر کو بوتھ تک لانا بھی ایک سائنس ہے۔ اس آزمائش میں کس حد تک حق دو تحریک کامیاب ہوگی، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
حق دو تحریک مولانا ہدایت الرحمان جیت کے لئے پر امید ہیں، لیکن ان کا مقابلہ حلقے کے تجربہ کار اور منجھے ہوئے نمائندوں سے ہے۔ اس مرتبہ صوبائی اسمبلی میں گوادر کا نمائندہ کسے چنا جائے گا۔ اس وقت پیشن گوئی کرنا مشکل ہے۔ لیکن پورے ضلع اس مرتبہ تبدیلی کی موڈ میں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 8 فروری کو کون سی پارٹی اپنے حمایت یافتہ امیدوار کے لئے کتنے ووٹر کو بوتھ تک لاتی ہے۔ الیکشن جیتنا ایک آرٹ ہے۔ اس آرٹ میں مقبولیت شامل ہو جیت اسی کی مقدر ہوگی۔ مقبولیت کو کیش کرنا آسان نہیں اس کے لئے محنت کی ضرورت ہے۔ صرف مقبولیت جیت کا سبب نہیں بنتی۔ جیت کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں 8 فروری کی شام کا انتظار ہے۔ اس بات دیکھنے کے لئے کہ جیت کا سہرا کس کے سر بندھا جائے گا۔
کیچ گوادر کے قومی حلقہ این اے 259 میں مندرجہ ذیل امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔
حسین واڈیلہ حق دو تحریک۔
یعقوب بزنجو آزاد۔ حمایت یافتہ بی این پی۔
ڈاکٹر عبدالمالک نیشنل پارٹی۔
سید ملک شاہ۔ پی پی پی۔
سعید فیض ایڈوکیٹ۔ بی این پی عوامی۔
کہدا بابر۔ باپ۔
مولانا خالد ولید۔ جمعیت علماء اسلام
قومی اسمبلی کے انتخابات میں کیچ گوادر کے حلقے سے ڈاکٹر عبدالمالک کی پوزیشن بظاہر بہتر ہے۔ ڈاکٹر صاحب جو کہ نیشنل پارٹی کے سربراہ ہیں، اپنے دور میں بحیثیت وزیر اعلی حلقے کے لئے بہترین کام کرچکے ہیں۔ تربت شہر کو ماڈرن سٹی بنا چکے ہیں۔ تربت میں اعلی تعلیمی درسگاہ ان کے دور حکومت میں قائم کیے گئے۔ ان تعلیمی اداروں سے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک ایسے شخصیت کے مالک ہیں کہ عام لوگوں کی ان تک آسانی سے رسائی حاصل ہے۔
ڈاکٹر صاحب لوگوں سنتے ہیں، ان کی مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنی ماضی کی کارکردگی کے بل بوتے اس مرتبہ جیت کے پوزیشن پر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے مقابلے حق دو تحریک کے حسین واڈیلہ جو کہ ایک بزرگ سیاستدان ہیں۔ ان کا بھی ووٹ بینک ہے۔ لیکن ڈاکٹر کے مقابلے میں ان کا ووٹ بینک اتنا متاثر کن نہیں ہے۔ اس مرتبہ اس حلقہ انتخاب میں پیپلز پارٹی کے سید ملک شاہ بھی امیدوار ہیں۔ یہ حلقہ انتخاب ہمیشہ سے قوم پرست پارٹیوں سپورٹ کرتی رہی ہے۔
اس حلقہ انتخاب میں جب بھی شفاف انتخابات ہوئے قوم پرست پارٹی ہی جیت کا سہرا اپنے سر باندھتی تھی۔ سید ملک شاہ اس حلقے میں نووارد ہیں۔ بظاہر ان کی پوزیشن دوسروں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مرتبہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کو مقتدرہ کا آشیرواد حاصل ہے۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے سید ملک شاہ باقی امیدواروں کو ہرا سکتے ہیں۔ یعقوب بزنجو جو کہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کو اختر مینگل کی بی این پی کی حمایت حاصل ہے۔ 2013 میں وہ قومی اسمبلی کے لئے اس حلقے سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ایک اچھے امیدوار ہیں۔ ان کا اپنا ووٹ بینک بھی ہے۔ لیکن یعقوب بزنجو جب ماضی میں اس حلقے انتخاب میں منتخب ہوئے تھے تو ان کی کارکردگی حلقے کے لئے اتنی اچھی نہیں تھی۔ اس کا نقصان ان کو ضرور ہو گا۔ اس کے علاوہ سعید فیض بی این پی عوامی کے کہدا بابر باپ پارٹی کے، مولانا خالد ولید جمعیت سے بھی میدان میں ہیں۔
یہ حلقہ انتخاب بلوچستان میں کوئٹہ کے بعد سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کی حلقہ ہے۔ یہاں کے لوگ باشعور ہیں۔ ووٹ دیتے وقت وہ ایسے امیدواروں کو چنتے ہیں، جو حلقے کی فلاح کے لئے کام کریں۔ اگر انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوئے تو لوگ اپنے لئے ایک بہتر نمائندہ چنیں گے۔ یہ حلقہ تربت اور گوادر کے شہری اور دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں لوگ بلوچستان کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں۔
اس حلقہ انتخاب میں اچھے ادیب، شاعر، بیوروکریٹ ڈاکٹر، انجنئیر، استاد اور دانشور لوگ رہتے ہیں۔ 8 فروری کی شام کو اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ اگلے پانچ سال کے لئے اس حلقے لوگ کس کو اپنے نمائندہ چنتے ہیں۔ اس دنگل میں اس وقت ہر امیدوار کو اپنی کامیابی کی امید ہے۔ آخر میں بس ہم ہر امیدوار کے یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ۔

