متبادل راستہ
پاکستان معرض وجود میں آئے ہوئے 76 سال ہو چکے ہیں لیکن آج بھی اگر ملک کی حالت پر بغور نظر ڈالیں تو یہ آپ کو 14 اگست 1947 والی صورتحال سے ہی دوچار نظر آتا ہے۔ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا اور ہمارا ازلی دشمن ہم سے ہر شعبہ زندگی میں کم از کم 50 سال آگے جا چکا ہے۔ تعلیم، صحت، سائنس، ٹیکنالوجی، اکانومی، کھیل، ثقافت، سیاحت الغرض آپ کوئی بھی شعبہ اٹھا لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارا ان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ بالکل یہی صورتحال ہم سے جان چھڑوانے والے بنگلہ دیش اور 40 سال تک پہلے روس اور بعد میں امریکہ سے حالت جنگ میں رہنے والے افغانستان کی ہے اور یہ دو ممالک بھی ترقی کی دوڑ میں ہمیں بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔
جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمیں یہی بتایا گیا ہے کہ ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور اس سال عید سادگی سے منائی جائے گی۔ شیروانی پہنے پیغام دینے والے حضرات تو بدلتے رہے لیکن نازک موڑ ختم نہ ہو سکا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ان سادگی کا درس دینے والوں کی اپنی زندگی میں تو دور دور تک سادگی کی کوئی علامت نہیں تھی۔ ان کے ہاتھ تو کوئی ایسا جادوئی نسخہ لگ گیا تھا کہ بدترین عالمی کساد بازاری میں بھی ان کے اثاثے اور کاروبار راکٹ کی رفتار سے مسلسل بڑھ رہے تھے لیکن ملک اور عوام کی حالت اس کے برعکس بد سے بدترین ہوتی جا رہی تھی۔ فیصلہ سازوں نے ملک کو غلط راستے پر ڈال دیا تھا جس کے نتیجے میں نہ تو منزل قریب آ رہی تھی اور نہ ہی نازک موڑ ختم ہو رہا تھا۔
قوموں کی زندگی میں طویل عرصے بعد ایسا موقع آتا ہے جب وہ اپنی گزشتہ غلطیوں کی اصلاح کر سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ مجھے اور آپ کو بھی تقدیر نے یہ موقع دیا ہے۔ ہم سب اگر مل کر کوشش کریں گے تو شاید ہم اس بات کا فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ ہمارے ملک کی اگلے پانچ سال کی سمت کیا ہو گی۔ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اسی نازک موڑ پر رہنا ہے یا جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے راستہ تبدیل کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ نیا راستہ دشوار ہو لیکن بالآخر ہمیں منزل تک لے جائے۔
گزشتہ دو سالوں میں ہم نے بہت سارے چہروں اور کرداروں کے چہرے سے منافقت کا نقاب اترتے دیکھے ہیں۔ 20 سال سے ہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر ظلم کا رونا رو رہے تھے لیکن ہم نے دیکھا کہ ہمارے اپنے لوگوں نے یاسمین راشد، عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور سینکڑوں دیگر خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ یہاں آئے دن اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوتے تھے لیکن ہم نے دیکھا کہ ارشد شریف، ظل شاہ، ننھے عمار فاروق کے قتل نے قوم کو فلسطینیوں کا غم بھلا دیا۔
سابق وزیراعظم کی جان لینے کی کوشش کی گئی اور اس کے گھر پر متعدد بار دشمن کی چوکی سمجھ کر حملہ کیا گیا۔ ایسے ایسے انسانیت سوز کھیل رچائے گئے کہ کسی بھی مہذب معاشرے یا ملک میں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اگر آپ کو یہ سب ٹھیک لگتا ہے اور اس سب سے آپ کو فرق نہیں پڑتا تو یقین کیجیے آپ سانس لے رہے ہیں لیکن آپ کے اندر کا انسان مر چکا ہے۔ لیکن اگر آپ کو یہ سب باتیں تکلیف دیتی ہیں تو آنے والے پانچ دن اپنی پوری توانائی اس نظام کو بدلنے کے لیے لگا دیں۔ اپنا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں اور اپنے دوست احباب، عزیز و اقارب کو حقیقت بتائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ 8 فروری کو آپ خود اور آپ کے ارد گرد کے تمام لوگ اپنا اپنا ووٹ لازمی کاسٹ کریں تاکہ ظلم کی اس تاریک رات کا خاتمہ ہو سکے اور ہم ایک نئی روشن صبح دیکھ سکیں۔
آپ کی یہ پانچ دن کی محنت آپ کے اگلے پانچ سال بدل دے گی کیوں کہ اللہ ہمیشہ ان کی مدد فرماتا ہے جو خود سے کوشش کرتے ہیں۔ کسی بھی بڑے مقصد یا انقلاب کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ انفرادی طور پر تمام لوگ اپنی بساط کے مطابق اس میں حصہ ڈالیں۔ اب یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ تاریخ آپ کو ظلم کے نظام کے خلاف آواز اٹھانے والے کے طور پر یاد رکھے یا ایک ایسے مردے کے طور پر جو بظاہر تو سانس لیتا ہے لیکن اندر سے مر چکا ہے اور صرف اس کی تدفین ہونا باقی ہے۔
پاکستان زندہ باد


