شمالی وزیرستان ،شیواہ پیپلی اور مستی خیل کا زمینی تنازع
ہم پشتون کیوں جہالت میں مبتلا ہیں، کیوں جنگجو اور بے وقوف ہیں؟ اس کے پیچھے کیا تاریخ ہے۔ یہ اب نہیں برطانیہ کے دور سے لے کر آج تک ریاست ہم پختونوں کو وہ تعلیم، وہ سہولیات نہیں دیتی جو دینی چاہئیں۔ یہاں پر تعلیم کی ریشو تقریباً % 20 ہے۔ کیونکہ یہاں کوئی خاص سکول، کالج نہیں ہے۔ یونیورسٹی تو دور کی بات ہے، یہاں ہم کو انٹرنیٹ کی سہولت سے بھی محروم کیا گیا ہے۔ یہ ذمہ داری ریاست پاکستان کی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے جو آج ہم دیکھتے ہیں، کہ شمالی وزیرستان، شیواہ کے علاقے میں پیپلی اور مستی خیل کا زمینی تنازع چل رہا ہے اور دونوں قبیلوں کے درمیان فائرنگ سے مقامی لوگوں بالخصوص سکول کے بچوں کو جان کا خطرہ رہتا ہے۔ کچھ دن پہلے اسی فائرنگ کے نتیجے میں ایک 8 سالہ بچی فوت ہو گئی۔ اس کا حساب ایک دن اللہ کو دیں گے۔ اس دنیا میں آپ کے لاکھوں پیسے سے نہ یہ بچی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی گھر والوں کو سکون مل سکتا ہے۔
عام دنوں میں کوئی ہوائی فائرنگ کرے تو وزیرستان کی سکیورٹی فورسز الرٹ کھڑی ہو جاتی ہیں، جو بہت اچھی بات ہے۔ اس پر میں شاباش دیتا ہوں۔ یاد رہے کہ دونوں اقوام عرصہ دو مہینے سے بھاری اسلحے کے ساتھ ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں، جبکہ اس عرصے کے دوران پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار سوالیہ نشان ہے، اور وہ صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح ہمارے علاقے کے سیاسی لیڈران بھی، جو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے آتے ہیں، صرف اپنی سیاست کو چمکانے اور ووٹ مانگتے ہیں، دو باتیں کر کے پھر چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کو بے وقوف بنا کر کہ ہم آپ کے خیرخواہ ہیں۔ اگر اتنے خیرخواہ ہوتے تو کب کا یہ مسئلہ حل کر دیتے۔ ایسی ہزار فلاحی تنظیمیں بھی ہیں جو آتی ہیں صرف اپنے اپنی تنظیموں کو نمایاں کر نے کے لیے، پھر اللہ حافظ کرتی ہیں۔
جرگے بھی ایسا ہی کرتے ہیں، جس کا آپ کو بھی پتا ہے کہ یہ جرگہ سسٹم بھی ریاست کا بنایا ہوا ہے۔ وہ بھی پیسے لے کر مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید خراب کرتے ہیں۔ اگر یہ مسئلہ خود نہیں حل کرتے تو ہمارے اور کوئی خیرخواہ نہیں اور نہ بن سکتے ہیں۔ ہر مسئلہ حل کرنے کے لئے ہمیں خود اندر کی انسانیت پیدا کرنی ہوگی تھوڑی اونچ نیچ کو برداشت کرنا ہو گا۔ ایسے بندے کو آگے لیڈر بنانا چاہیے جو عدم تشدد کو پسند کرتا ہوں اور اپنے پشتونوں کو بھائی سمجھتا ہو۔
آج جو مسئلہ چل رہا ہے جس کے دونوں طرف لیڈ کرنے والے ایسے مولوی ہیں جو دینی مدرسے سے فارغ ہوئے ہیں اور کٹر مذہبی ہیں۔ ان میں نا برداشت ہے نا انسانیت اور جن کا پکا تشدد پسند فلسفہ ہے۔ مسئلہ کیا خاک حل کرے گا۔ اے میرے پشتون بھائیوں! تھوڑا سوچو اس کا کتنا نقصان ہے سکول کے بچے سکول نہیں جا سکتے یہ سوچ کہ ہم کو گرفتار، بے عزت نہ کیا جائے، ذہنی طور پر ٹارچر ہے۔ وہ کیا پڑھے گا؟
ایسے ہی اساتذہ کرام سکول اور ڈاکٹر ہسپتال نہیں جا سکتے۔ ہماری آنے والے نسل ساری عمر یہ سوچے گی کہ وہ ہمارے دشمن تھے ہمارے دادا بابا کو مارا ہے۔ آنے والی نسل کے ذہنوں میں ساری عمر وہ دشمن ہی تصور ہو گا۔ ہر روز فائرنگ کی وجہ سے چھوٹے بچے پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور فائرنگ کی شور سے گھر میں پڑھ نہیں سکتے۔ تو خدا کے لیے بھائی سمجھ کے آپس میں بیٹھ کر صلح کرو، اونچ نیچ کو برداشت کر کے انسانیت کی خاطر ایک دوسرے کو معاف کرو اور آنے والے نسلوں پر رحم کرو۔


