سیاسی پارٹیوں میں نیک نیتی کی تباہی
جمہوری ملکوں میں پارلیمان میں موجود اپوزیشن کو متبادل حکومت سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن ہو کہ حزب اقتدار دونوں ہی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہر دو جماعتوں کی تنظیم کی نچلے درجے تک یہی حیثیت ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ متعلقہ عہدہ داران اور ذمہ داران کی قابلیت، سیاسی بصیرت اور کردار پر ہی منحصر ہوتا ہے۔ جبکہ بڑی سطح پر کچھ ڈیلیور کرنا ایسی جماعتوں کے منتخب ارکان کی پارٹی تنظیم، منشور اور براہ راست عوامی ضروریات، مشکلات اور خواہشات سے آگہی اور ان کی بہترین صلاحیتوں کا مرہون منت ہوتا ہے۔
سیاسی پارٹی عوام پر مشتمل ہوتی ہے جس کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود اور اجتماعی ترقی، خوشحالی کے حصول کے لیے کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس لیے ملک میں جہاں بھی اور جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اقتدار تک رسائی چاہتی ہے۔ کیونکہ اقتدار ہی وہ آلہ ہے جس سے کوئی بھی سیاسی پارٹی اپنے منشور کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔ چونکہ اسی اقتدار تک پہنچنے کے لیے جمہوری راستہ صرف انتخابات جیتنے سے ممکن ہوتا ہے جو براہ راست عوامی حمایت کی راہ پر سے گزرتا ہے۔ اس لیے ہر پارٹی کی اولین ذمہ داری زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت اور طاقت حاصل کرنا ہی ہوتی ہے۔
جس کے لیے پارٹیاں آئین اور منشور بناتی ہیں۔ حامی جمع کر کے ممبرشپ بنائی جاتی ہے۔ تنظیمیں بنائی جاتی ہیں۔ پھر سب سے اہم اور مشکل ہی نہیں سخت ترین ذمہ داری یہی ممبران یا کارکنان سر پے لے لیتے ہیں۔ وہ پارٹی نظریہ اور دیگر لازمی امور کو سمجھنے کے لیے بہت ہی مطالعہ کر کر کے کافی علم حاصل کرتے ہیں اور آگے اپنے جیسا کیڈر بنانے کے ساتھ ساتھ دن رات گرمی سردی بارش اور ناموافق حالات کی پرواہ کیے بغیر عوامی رابطے کرتے ہیں اور پارٹی کو عروج تک پہنچاتے ہیں۔
اس ساری محنت کے پیچھے کوئی لالچ یا ذاتی مفاد کبھی نہیں ہوتا ہے۔ بس اپنے جیسے لوگوں کو امن شانتی سے تمام بنیادی سہولتیں اور آگے بڑھنے کی باعزت راہیں اور ماحول فراہم کرنا ظلم، نا انصافی اور استحصال سے پاک برابری پر مبنی معاشرہ کی تشکیل ہی ان کا ایک سہانا خواب ہوتا ہے۔ اور یہی لوگ پارٹی کی روح اور تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔
اور پھر وہ وقت بھی آ جاتا ہے، جب پارٹی کی ایک حیثیت بن جاتی ہے ایک ساکھ بن جاتی ہے۔ اسے عوامی قبولیت اور حمایت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے بڑے واقعی لیڈر بن جاتے ہیں۔ ہر ایک جان جاتا ہے کہ اب پارٹی کے اقتدار کے سنگھاسن تک رسائی میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔
اس وقت موقع پرست طالع آزما اپنی شیطانی کاروباری ذہنیت کے ساتھ اپنے اپنے انداز میں پارٹی کے سیدھے ممبر بن کے یا محض ہمدرد اور حامی بن کے اپنا کھیل کھیلنا شروع کرتے ہیں۔ ان میں کئی اقسام اور کردار کے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ہنر اور کرتب دکھانے لگتے ہیں۔ اور پارٹی کے کرتوں دھرتوں کی نجی محفلوں کی جان بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جو دولتمند ہوتے ہیں وہ پیسہ بے دریغ استعمال کر کے اے ٹی ایم بن جاتے ہیں۔ بعض لوگ جو بدمعاش ٹائپ کے ہوتے ہیں وہ اپنے بندوق برداروں سمیت ہر وقت ہر جگہ مفت کے باڈی گارڈ اور چوکیدار بن جاتے ہیں اور اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے جھوٹ موٹ کے پنگے لینا شروع کرتے ہیں۔
ایک اور قسم کا طبقہ جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا البتہ انسانی نفسیات کے استاد ہوتے ہیں۔ اور اپنی چکنی چپڑی باتوں اور شرمناک حد تک خوشامد اور چاپلوسی کر کر کے مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ بعض تو کئی قسم کی غیر اخلاقی خدمات فراہم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ایک عجیب اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ساروں کے مابین کمال کا تعاون رہتا ہے اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ پارٹی کی تنظیموں اور بڑے عہدوں پر براجمان ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ الیکشن ٹکٹ کے بھی آڑا لیتے ہیں۔
اصل اور بانی کارکنان پچھلی صفحوں تک محدود ہو کے فاضل پرزے بن جاتے ہیں۔ مگر پارٹی اور عوامی مفاد کی خاطر چپ بیٹھ جاتے ہیں۔ جبکہ پارٹی اپنا نظریہ منشور بھلا دیتی ہے اور پارٹی کی بجائے ایک گروہ بن جاتی ہے۔ ایسے مخلص کی خاموشی ہر چند کہ انتہائی نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہے۔ مگر ایسا بھی وقت آ جاتا ہے جب بعض پارٹیاں طالع آزماؤں کو الیکشن یا سینٹ کی ٹکٹ پہلے دے دیتے ہیں اور پارٹی میں بعد میں شامل کرلیتے ہیں۔ تبھی تو عوام دھکے کھاتے اور خوار ہوتے رہیں گے۔ اور ان کی نیک نیتی کی خاموشی عوامی تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔


