جیل میں عام قیدی پر کیا گزرتی ہے؟ ملاحظہ اور توہین


لکھاری کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ اس نے سنی سنائی بات کو موضوع بنا کر اپنی تحریر کے اندر جان ڈالنی ہے۔ مانا کہ اس سفر میں مطالعے اور مشاہدے کو اولین ترجیح حاصل ہے تاہم ذاتی تجربات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ میرے خیال میں تو ذاتی تجربات ہی قلم کو دو دھاری تلوار میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ میں نے بھی اپنی زندگی میں اپنے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے، ایک حادثہ نے مجھے جیل کی راہداریوں کا راہی اور دیواروں کا مکیں بنایا تو سوچا آج ماضی کے ان چند دنوں کی بنیاد پر بات کی جائے، فیوڈور دوستوفسکی نے کہا تھا کہ ”کسی معاشرے کی تہذیب کا اندازہ اس کی جیلوں کے حالات سے کیا جا سکتا ہے“ ۔ ویسے بدقسمتی سے پاکستان میں تبدیلی صرف نعروں کی حد تک ہے عملی زندگی میں اس کا وجود ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔

میں یہاں یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی اذیت ناک سفر اختیار کریں یا جیل جائیں یا کوئی تلخ تجربہ کریں، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کبھی کوئی تلخ تجربہ ہو رہا ہے تو اسے سامنا کرنا اور پھر اسے اپنی تحریر، تحقیق یا تحریک ما موضوع بنانے میں کوئی عار نہیں ہے۔ جیسے کہ کچھ سال پہلے مجھے ایک معاملے کی وجہ سے جیل جانے کا اتفاق ہوا۔ تو میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں کسی بھی قسم کے تعلقات سے فیض یاب ہونے کی بجائے ایک عام پاکستانی شہری کی طرح جیل یاترا کروں گا۔ اس سے دو کام ہونے تھے اور ہوئے بھی، ایک تو میرا نتھارہ ہو گیا تھا اور دوسرے میرا مشاہدہ بھی بہت زیادہ بہتر ہو گیا کہ آخر ایسی کیا بات ہے کہ جو یہ کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔

کیونکہ جب ہم کسی این جی او کے تحت جیل وزٹ پر جاتے تھے یا کسی خاص ریفرنس یا پس منظر میں یا کسی پروجیکٹ کے حوالے سے جیلوں کا دورہ کرتے تھے تو ہمیں جیل کی ایک الگ دنیا دیکھنے کو ملتی، جیسے یہاں کچھ اچھا چل رہا ہے اور قیدیوں کے ساتھ بہترین سلوک ہے، کھانا پینا، رہائش، صاف ستھرائی ان سب کے بہترین انتظامات ہیں۔ مجھے غیر محسوس طور پر یہ سب مصنوعی لگتا تھا۔ کیونکہ جب ہم ایک ملزم کی حیثیت سے جاتے ہیں تو ہمارا واسطہ جیل کی سچائیوں سے پڑتا ہے جو کہ عام روٹین میں دکھائی نہیں دیتیں اور نہ ہی یہ خبروں کی زینت بنتی ہیں۔

یہ بات میں نے اس لیے بھی کہی کہ کچھ عرصہ پہلے اپنی ایک دوست کے ساتھ میں اس ایشو پر بات کر رہا تھا تو انہوں نے میری اس بات کی نفی کی ان کا کہنا تھا کہ جب وہ جیل کے اندر گئیں تو ان کو ایک بہت ہی آرگنائزڈ ماحول ملا۔ لیکن جب میں نے ان سے پوچھا اب کس ریفرنس سے گئی تھیں تو انہوں نے کہا ایک مبصر کی حیثیت سے۔ تو میں نے بے ساختہ کہا کہ ظاہر ہے کہ جب اپ ایک مبصر کی حیثیت سے جائیں گے تو پھر آپ کو پروٹوکول ملتا ہے اور پروٹوکول میں بہت ساری سچائیاں اور حقیقتیں نظر انداز ہو جاتی ہیں حتیٰ کہ جیل کا ماحول ایک غیر معمولی ڈسپلن کا منظر پیش کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

خیر ہم آگے بڑھتے ہیں یہ قصہ ہے میرے جیل جانے کا۔ تو سب سے پہلے جیل کے اندر پہلے دن آپ کی تلاش لی جاتی ہے اور جو شخص آپ کی تلاشی لے رہا ہوتا ہے اس کی زیادہ سے زیادہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ آپ سے کچھ نہ کچھ سمیٹ لے یا آپ خود ہی اس کو کچھ دے دلا کر اندر جائیں۔

اس کے بعد جب آپ جیل کے اندر جاتے ہیں اگر شام کے اوقات میں پہنچتے ہیں یا دن میں یا دوپہر میں پہنچے ہیں تو آپ کو اب اگلی صبح تک ایک ایسی بیرک میں انتظار کرنا پڑتا ہے، جہاں پر ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جن کو ابھی بیرک الاٹ نہیں ہوتی۔ اگلے صبح ان سب کو ایک بڑے میدان میں پیش کیا جاتا ہے جہاں ”ملاحظے“ کا مرحلہ آتا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جیل میں سب سے پہلے قیدی کی عزت نفس پر حملہ کیا جاتا ہے اور اس کی انا مجروح کی جاتی ہے۔

دیکھیں جیل کے اپنے قانون قاعدے، اپنی اصطلاحات، اپنی زبان، اپنے ضابطے اور روایات ہوتی ہیں۔ آپ ملزم ہیں یا مجرم، جیل کی مضبوط دیواروں کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی، آپ کس رتبے کے ہیں یا سماج میں کتنے معزز و محترم، جیل کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ تاہم یہاں عزت اسی کی ہوتی ہے جو جیل حکام کی مٹھی گرم کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ عام پولیس اور جیل خانہ جات میں کام کرنے والے اہلکاروں اور مراعات میں بھی فرق ہوتا ہے اور شاید یہی فرق انہیں لاقانونیت کا راستہ دکھاتا ہے۔

ملاحظہ کا مطلب ایک طرح سے یہ ہے کہ ہوشیار ہو جاؤ، اگر آپ نے مٹھی گرم نہیں کی تو سمجھ لیں کہ تہاڈی خیر نہیں ۔ ”ملاحظہ کی تقریب“ میں نئے قیدیوں کو زمین پر بٹھا دیا جاتا ہے اور سامنے ایک گراؤنڈ میں کرسی میز لگایا جاتا ہے۔ جہاں جیل سپرنٹینڈنٹ یا ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ یا جو بھی انچارج ہوتا ہے وہ آ کر بیٹھتا ہے اور پھر زمین پر بیٹھے ہوئے قیدیوں کو کرسی کے پاس آ کر بتانا پڑتا ہے کہ یہ اس کا نام ہے اور اسے یہ تعارف بہت اونچی آواز میں کروانا ہوتا ہے کہ یہ میرا نام ہے اور میں اس جرم میں یہاں پر آیا ہوں۔

یہ ایک توہین آمیز رویہ ہے، وہ جس مرضی جرم یا الزام میں آیا ہے، اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی 94 جیلوں میں ایک لاکھ سے زائد قیدی قید ہیں جن میں سے ستر فیصد ٹرائل پر ہیں اور تیس فیصد وہ ہیں جن پر جرم ثابت ہو چکا ہے۔ میں جب جیل میں گیا اور میں نے ملاحظہ کی تقریب میں شرکت کی تو پہلے ہی قیدی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے میری روح کانپ اٹھی۔ میں چاہتا تو ریفرنس لے سکتا تھا مگر مجھے تجربہ کرنا تھا۔

اکثر جو شخص قیدی کو کھڑا کرتا ہے وہ اس کو اس کا نام پکارنے کے بعد اس کے سر کے پیچھے ایک زور سی چماٹ مارتا ہے۔ اگر تو اپ نے ان کو پیسے دیے ہوئے ہیں یا جیل میں یہ آپ کسی ”تگڑے ریفرنس“ کے ساتھ ہیں تو اپ کے ساتھ ایسا توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ اب آپ کو زمین پر دوبارہ بیٹھنے کے لیے کہا جاتا ہے وہاں بیٹھنے سے مراد زمین پر بیٹھنا ہو گا اور جو کھڑا ہے وہ اہلکار کھڑا ہے، جو آپ کو اس حقارت سے دیکھ رہا ہوتا ہے کہ آپ کی عزت نفس وہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔

دراصل آج بھی پاکستان کی جیلوں میں تمام رسمیں وہی ہیں جو گورے اپنی محکوم رعیت کے لئے رائج کر گئے جن پر ہماری افسر شاہی آج بھی چل رہی ہے۔ با ادب، با ملاحظہ، ہوشیار۔ یہ مکالمہ آپ نے تاریخی فلموں، کتابوں اور ڈراموں میں کئی بار سنا اور پڑھا ہو گا، بادشاہ جب خلوت گاہ سے نکلتا ہے تو ہرکارے یہ ڈائیلاگ بولتے ہیں، جس کا مطلب ہے، سب اپنی اپنی گردنیں جھکا لیں اور آنکھیں زمین میں گاڑ دیں، آپ جیل میں ہوتے ہیں تو مغل اعظم اور کمپنی بہادر کی حکومت کے دور کا یہ مکالمہ آپ کو نہ صرف سننے کو ملتا ہے بلکہ آپ پر لاگو بھی ہوتا ہے۔

یہ سب لکھنے اور شیئر کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ میں اپنی اس تحریر کے ذریعے پاکستان کے جیل احکام تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ گورا چلا گیا مگر اپنے نشان چھوڑ گیا تو نشانوں پر چلنے کی بجائے انہیں مٹا دینے کا وقت آ چکا ہے۔ جرم انسان جبلت کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک لاشعوری کیفیت کا نام ہے جس کے تحت انسان اپنے ہوش و حواس کھو دیتا ہے اور جو رد عمل دیتا ہے وہ اسے مجرم بنا دیتا ہے۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ پاکستانی جیل احکام بھی اب ان معاملات پر نظر ثانی کریں اور ملاحظہ جیسی رسم، جس میں توہین آمیز رویے اختیار کیے جاتے ہیں ان کو بند کریں تاکہ جو جیل اصلاحات کا نعرہ لگایا جاتا ہے ہیں وہ عملی طور پر نظر آئے۔ جیلوں کی حالت زار بھی وہ نہیں جو بتائی جاتی ہے۔ صرف اڈیالہ جیل راولپنڈی کی بات کی جائے تو اڈیالہ جیل کے اندر کوئی بیڈ سسٹم نہیں ہوتا وہاں پہ سیمنٹ کے اونچے پلیٹ فارم بنے ہوئے ہیں جو اتنے زیادہ سخت ہوتے ہیں کہ اس پر سونا مشکل ہو جاتا ہے۔

جن قیدیوں کو کمر کی تکلیف ہوتی ہے یا اس سے متعلقہ مسائل تو ان کے لیے یہ بڑی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے۔ اگر وہ زیر عتاب ہیں تو گدے وغیرہ کی سہولت سے محروم ہو جاتے ہیں اور اگر ”اوپر والے“ خوش ہیں پھر سب اچھا۔ اس کے علاوہ چونکہ ہماری جیلوں میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے تو جیلوں میں رش بھی غیر معمولی ہے جس کا سارا بوجھ ریاست کے کندھوں پر ہوتا ہے۔ اسی طرح وہاں پہ واش روم کا جو سسٹم ہے وہ بہت زیادہ ناقص ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر جیلوں میں ان کی گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی وجہ سے صفائی کا معیار انتہائی ناقص ہے، صحت کی سہولیات ویسے عام شہریوں کے لیے نا ہونے کے برابر ہیں تو زنداں میں قید شہریوں کو کیا ملتا ہو گا اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ شاید یہی سچ ہے کہ کاغذات میں جیل اصلاحات کا صرف نام ہی ہے اور اس پر کھانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے، عملی طور پر کچھ بھی نہیں۔ جیل اصلاحات تبھی ممکن ہے کہ جب آپ سب سے پہلے ملاحظہ کی رسم کو ختم کرتے ہوئے جرم سے نفرت کریں گے ملزم یا مجرم سے نہیں۔

Facebook Comments HS