”میرے نئے دیس میں“ از خواجہ ممتاز احمد تاج


خواجہ ممتاز احمد تاج کو اللہ تعالٰی نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے جنہیں وہ اپنی محنت سے بروئے کار لا کر جو بھی کرتے ہیں کمال کرتے ہیں۔ ” میرے نئے دیس میں“ خواجہ ممتاز احمد تاج کی تصنیف ہے جو انہوں نے ازراہ مہربانی میری فرمائش پر گزشتہ دنوں بذریعہ ڈاک مجھے بھیجی ہے۔

خوبصورت سرورق کے ساتھ اس کتاب کو بڑے احسن طریقے سے رابعہ بک ہاؤس، الکریم مارکیٹ، اردو بازار، لاہور والوں نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب واقعی ہی دیکھنے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

خواجہ ممتاز احمد تاج کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ بیک وقت معروف بزنس مین، مخیر، ادیب، سفر نامہ نگار اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔ جس کام کو بھی انہوں نے شروع کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی محنت میں برکت ڈالی اور وہ کامیاب ہوئے۔

خواجہ ممتاز احمد تاج 17 اپریل 1950 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق معروف کاروباری خاندان خواجہ فیملی سے ہے جنہوں نے کاروبار اور فلاحی کاموں میں بڑا نام کمایا ہے۔ انہوں نے F۔ Sc، ایف سی کالج، بی اے GCU اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ یوں وہ بیک وقت فارمانائٹ، راوین اور پنجابین ہیں۔ وکالت کی ڈگری کے بعد انہوں نے ڈسٹرکٹ بار لاہور اور لاہور ہائی کورٹ کی ممبرشپ بھی لی اور کچھ عرصہ پریکٹس بھی کی لیکن وہ جلد ہی اپنے خاندانی کاروبار میں آ گئے۔

وہ بڑے متحرک انسان ہیں۔ وہ یوتھ یونین آف پاکستان اور اسلامک سٹوڈنٹ فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اور کنوینئر بھی رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انجمن شہریان لاہور اور اولڈ انارکلی کے جنرل سیکرٹری، انجمن اصلاح معاشرہ سمن آباد کے جنرل سیکرٹری، جی سی یونیورسٹی سوشیالوجی سوسائٹی کے صدر، انجمن تاجران انارکلی کے سیکرٹری نشر و اشاعت، سیکرٹری فنانس اور پھر 6 سال تک اس کے مسلسل نائب صدر کے عہدے پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ یہ سب ان کے متحرک ہونے اور ان کی صلاحیتوں اور قابلیت کا واضح ثبوت ہیں۔

خواجہ ممتاز احمد تاج اگرچہ انگلستان آباد ہو چکے ہیں لیکن ان کا دل آج بھی پاکستان میں ہے۔ وہ خود کہتے ہیں۔

” پاکستان میرا دیس ہے جبکہ برطانیہ میرا دوسرا دیس“ ۔

”میرے نئے دیس میں“ دراصل خواجہ ممتاز احمد تاج کے سفرنامے اور پہلی کتاب ”ڈیانا کے دیس میں“ جو جون 2000 میں شائع ہوئی اس کا تسلسل ہے۔

”میرے نئے دیس میں“ خواجہ ممتاز احمد تاج نے برطانیہ کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ وہ بڑی دیانتداری سے وہاں کے معاشرے کی اچھائیاں اور برائیاں بیان کرتے ہیں۔ تاہم ان کے اندر یہ خواہش موجزن ہے کہ ایک اچھے معاشرے اور ملک کی خوبیاں ان کے اپنے آبائی دیس یعنی پاکستان میں بھی ہوں۔ خاص طور پر وہ کہتے ہیں کہ اگر تعلیم اور شعور کی کمی پاکستان میں دور ہو جائے تو یہ ملک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔

216 صفحات پر مشتمل کتاب ”میرے نئے دیس میں“ انہوں نے انگلستان کے معاشرے، تاریخ، نظام حکومت اور اچھائیوں اور برائیوں کا کھل کر ذکر کیا ہے۔ اسی کتاب کے اندر برطانوی معاشرے کے ادب و آداب، رسم و رواج، برطانوی ویزے اور امیگریشن سے متعلق قوانین وغیرہ درج ہیں۔ کتاب میں برطانیہ میں تارکین وطن کی آمد و رفت کے مسائل، تعلیمی نظام، برطانوی معاشرے میں عورت کا مقام، لندن کے مشہور بازار، سٹورز، مارکیٹیں، پارک، محل، عجائب گھر، آئرلینڈ اسمبلی، مقامی حکومتیں، پولیس، شاہی خاندان، بچوں کے حقوق، سیاسی نظام، کامن ویلتھ، یورپین یونین اور کونسل آف یورپ وغیرہ کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔

یوں یہ کتاب برطانیہ پر اہم مسودہ اور دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ برطانیہ کے بارے میں جاننے والوں کے لیے یہ ایک نایاب کتاب ہے۔ وہاں جانے والوں اور دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس کا مطالعہ نہایت ہی مفید ہے۔

خواجہ ممتاز احمد تاج کتاب کے صفحہ نمبر 19 پر یوں رقمطراز ہیں ؛

” دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کو بہت پیچھے دھکیل دیا تھا۔ بمباری سے لندن کو خوفناک تباہی دیکھنا پڑی۔ برطانیہ کہ جس کا سورج دنیا میں غروب نہ ہوتا تھا، بدحالی کا شکار ہو گیا۔ مقبوضہ دنیا میں اس کی گرفت کمزور پڑ گئی۔ لندن مسائل میں گھر گیا۔ تباہی کے آثار کو ختم کرنے کے لیے تعمیرات کی ضرورت تھی اور تباہ حال صنعت کی بحالی کے لیے افرادی قوت کی۔ یہاں تک کہ بس چلانے کے لیے ڈرائیور بھی کم پڑ گئے۔

برطانیہ اگرچہ جنگ میں خاصی تباہی دیکھ چکا تھا لیکن یہاں کی عدالتیں انصاف مہیا کر رہی تھیں۔ حکمرانوں کے ارادے نیک تھے۔ دنیا کے بہت سے ممالک پر قبضہ کرنے اور منظم برطانوی حکمرانوں اور عوام نے ہمت نہیں ہاری اور باہمی اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کی طاقت سے اس قوم نے پھر سے دنیا میں اپنی اہمیت منوائی ”۔

کتاب میں ایک جگہ مزید لکھتے ہیں ؛

” یقیناً میں نہیں سمجھتا کہ اپنے ملک میں مقام پانے اور بہتر روزگار حاصل ہونے والے کسی بھی شخص کو یہاں کی سیکنڈ کلاس سٹیزن شپ پسند آئے۔ ہم کچھ بھی پا لیں یہ ملک ہے تو گوروں کا۔ ہم اپنے ایشیائی رنگ کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ محدود مدت کی سیر و تفریح اور سیکھنے کے لیے یہاں بہت کچھ ہے لیکن مستقل رہائش رکھنے والے غیر ملکی اپنے وطن کی مٹی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ اپنے وطن کو کبھی نہیں بھول سکتے“ ۔

کتاب کی زبان انتہائی سادہ سہل اور آسان ہے۔ آپ شروع کریں ایک ہی نشست میں خاصے صفحات پڑھ لیں گے۔ یہ کتاب صرف سفر کے شوقینوں کے لیے ہی نہیں بلکہ طالب علموں، ادب کے شوقین، کاروباری شخصیات غرض سب کے لیے نہایت مفید کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔

اسلم بھٹی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 35 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments