ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک عوامی جمہوریہ چین جب اس تہوار کو مناتا ہے تو اس کے معاشرتی پہلؤں کے علاوہ معاشی پہلو بھی اجاگر ہوتے ہیں۔ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں جانے والے جن سفری سہولیات کا استعمال کرتے ہیں اور جس انداز میں تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اس سے معاشی استحکام میں مدد ملتی ہے۔

چین کی وزارت ثقافت و سیاحت کے مطابق گزشتہ سال موسم بہار کی تعطیلات کے دوران تقریباً 308 ملین افراد نے ملک کے اندر سفر کیا جو 2022 کے موسم بہار کی تعطیلات کے مقابلے میں 23.1 فیصد زیادہ تھے۔ دیگر صنعتیں جیسے کیٹرنگ وغیرہ نے ان تعطیلات میں فروغ پایا۔ وزارت تجارت کے مطابق بڑے کیٹرنگ کاروباری اداروں کی مجموعی آمدنی میں 2023 میں 2022 کے موسم بہار کی تعطیلات کے مقابلے میں 6.8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اس کے علاوہ چائنا فلم ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 میں موسم بہار کے تہوار کی تعطیلات کے دوران چین کے سینما باکس آفس سے مجموعی طور پر تقریباً 6.76 بلین یوآن (تقریباً 1 بلین امریکی ڈالر) کی آمدنی حاصل کی تھی۔

کھانوں کی بات کی جائے تو اس تہوار کی مرکزی ضیافت تہوار شروع ہونے سے ایک رات پہلے کی ہوتی ہے۔ جی ہاں۔ یہاں بھی چاند رات منائی جاتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں چاند رات کی گہما گہمی اور تقریبات ہوتی ہیں۔ کھانوں میں خصوصیت کی بات کی جائے تو سٹیم رائس اور سٹیم گوشت خاصا پسند کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی، رائس بالز، فاگاؤ، سپرنگ رولز، ڈمپلنگ اور موسم کے پھل، کھانوں کا حصہ ہوتے ہیں۔

تہوار کا ایک خاص کھانا نیان مو بھی ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص قسم کا بن ہوتا ہے جسے خاص طرح کے آٹے سے ایک خاص انداز میں گوندھا جاتا ہے اور پھر اس میں پالک اور دیگر سبزیوں کو ابال کر ان کا رنگ چڑھایا جاتا ہے اور بن کو اس شکل میں پیش کیا جاتا جو اس سال کا خاص جانور ہو۔ مثلاً یہ سال ڈریگن کا سال منایا جا رہا ہے تو بن کی شکل کو ڈریگن کی طرح بنایا جائے گا۔ ایک اور خاص ڈش جاؤزے ہوتی ہے جس میں خاص انداز میں آٹے سے بنی شکل میں خاص فلنگ بھی کی جاتی ہے لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ عام طور پر گھر پر بنانے والے اس پکوان میں ایک سکہ چھپایا جاتا ہے اور پھر جس کسی کے حصے میں وہ سکے والا جاؤ زے آ جائے اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سال اس کے لئے نہایت خوش قسمتی کا سال ہے۔

خوشیوں سے بھرے اس تہوار میں کچھ لمحے غم کے بھی آتے ہیں۔ گزرے سال میں بچھڑ جانے والوں کو یاد کیا جاتا ہے اور انہیں اپنے ساتھ شامل سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر دنیا سے رخصت ہونے والے گھر کے بڑوں کے نام یا ان کی تصاویر اس مرکزی میز پر موجود ہوتی ہے جہاں سب مل کر چاند رات کا کھانا کھاتے ہیں۔ تصویر کے سامنے ایک پلیٹ، چاپ سٹک اور دیگر لوازمات بالکل ایسے رکھے جاتے ہیں جیسے وہ فرد اس وقت موجود ہو۔ اس کے علاوہ کچھ خاندانوں میں یہ بھی روایت ہے کہ وہ اپنے تعمیر کردہ عبادت خانوں میں اپنے اجداد کو یاد کرنے اور ان کے لئے دعائیں کرنے پھولوں کے گلدستے لئے سب کے ساتھ جاتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اپنوں کی یاد کا ایک الگ تہوار بھی ہر سال چین میں منایا جاتا ہے جسے چھن منگ کہتے ہیں۔

اس تہوار میں خوشیوں اور ملاقاتوں کے ساتھ جو چیز چین کے معاشرتی نظام میں سب سے اہم ظاہر ہوتی ہے وہ ایک خاندان کا تصور ہے۔ یعنی خوشیوں کے موقع پر تمام خاندان کا ایک ساتھ وقت گزارنا، خاندان کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ یہ خاندان ہی تو ہوتا ہے جو انسان کو انسان سے جوڑے رکھتا ہے۔ تعلقات میں خوشی کے رنگوں میں اضافہ اور غم کی لہروں کا مقابلہ اسی خاندان کی بدولت کیا جاتا ہے۔ کھانا پینا اور خوشی کے رنگوں میں رنگ جانا تو ایک ظاہری شکل ہے۔ اصل روحانی طاقت تو ان سات دنوں میں اس ساتھ سے ملتی ہے جب خاندان کا ہر فرد ہاتھ سے ہاتھ اور دل سے دل ملاتا ہے۔ یہی ہے انسان کے دل کی بہار۔ یہی ہے اصل جشن بہار۔