مزاح: کتے


ہماری گلی میں لگ بھگ آٹھ کے قریب کتے ہیں ان کتوں کے عادات و اطوار دیکھ کر میں سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں اور جان کی امان پاؤں تو یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ مجھے ان کتوں پر دور جدید کے شاعروں کا گمان ہوتا ہے۔ اور میں جانتا ہوں یہ محض گمان ہے۔ البتہ یہ سچ ہے کہ خدا نے ان کتوں میں تخلیقی صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہیں۔ میرا مطلب ہے کوٹ کوٹ کر! یہ کتے عام کتوں کی طرح راہ چلتے ہر ایرے غیرے پر نہیں بھونکتے اور نہ ہی کاٹتے ہیں۔

فطرتاً یہ تمام اندرون بین اور حد درجے کے انا پرست واقع ہوئے ہیں، جو ہر کس و ناکس پر بھونکنا شایان شان نہیں سمجھتے، ان کے چہروں پر مجذوبیت اور مظلومیت روز روشن کی طرح عیاں ہیں، جسمانی طور پر ان میں کچھ نہایت تگڑے اور کچھ انتہائی نحیف معلوم ہوتے ہیں۔ ارے میں تو بھول ہی گیا تھا ان میں ایک کتیا بھی ہے جو ہمیشہ سولہ سنگھار اور ناز و نخرے میں رہتی ہے۔ باقی تمام کتے اس کتیا پر دل و جان سے عاشق ہیں ان میں کچھ کتے تو محض اپنی جنسی غرائز کی پیاس بجھانے کے واسطے اس کتیا سے محبت محبت کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور کچھ کتوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ہماری محبت روحانی اور لافانی ہے جو جسم سے پرے ہیں کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے۔

بہرحال جو بھی ہو وہ ان کا اپنا مسئلہ ہے۔ اکثر و بیشتر ان کتوں کے درمیان بحث و مباحثہ بھی ہوتا رہتا ہے بحث کے دوران عموماً ادبی اور علمی آداب ملحوظ نظر رکھتے ہیں، لیکن بعض اوقات بحث زیادہ دیر تک چلتی ہے تو ایک دوسرے سے زبان درازی کرنے پر اتر آتے ہیں۔ بحث اس انداز سے شروع ہوتی ہے کہ ایک کتا ادھر سے ”غب کرتا ہے تو دوسرا ادھر سے“ غب غب ”کر کے اس کو ادبی انداز میں جواب فراہم کرتا ہے لیکن جب بات زیادہ بگڑ جائے تو“ غب غب غب ”کی گنتی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور پورے محلے کو سر پر اٹھا لیتے ہیں یہ سب عموماً رات کو ہی ہوتے ہیں۔

دن کو تمام کتے شب بیداری کے باعث نڈھال گلی کے کونے کھدروں میں پڑے رہتے ہیں اور نیم مدہوشی کی حالت میں مرغ تخیل کو لاہوت اور جبروت کی سیر و سیاحت پر لے چلتے ہیں۔ بحث و مباحثہ کے علاوہ ہفتے میں ایک یا دو بار یہ کتے رات کے اڑھائی بجے محفل مشاعرہ سجاتے ہیں۔ میرے رفیق پطرس بخاری نے غالباً ایسے کتے جو رات گئے محفل مشاعرہ سجاتے ہیں کے متعلق کہا تھا کہ

”ان سے کوئی پوچھئے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جاکر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آ کر سوتوں کو ستانا کون سی شرافت ہے“

بہرحال ان کتوں سے پطرس بخاری صاحب چاہے لاکھ منت کریں مگر محفل مشاعرہ تو گلی میں منعقد ہو کر ہی رہے گا۔ محفل مشاعرہ کا باقاعدہ آغاز ہوا چاہتا ہے سب سے پہلے ایک نوعمر کتے کا بچہ جسے ابھی مشق سخن کرنا چاہیے کو دعوت سخن دی جاتی ہے اور وہ میری طرح کچھ بے وزن اشعار پڑتا ہے جس پر اساتیذ فن منہ بنائے خاموش رہتے ہیں۔ پھر دوسرے کتے کو دعوت سخن دی جاتی ہے جو غالباً علم عروض سے واقف ہے مگر بزگ کتوں کا کہنا ہے اس میں تخیل ناپید ہے، وہ تین چار غزلیں لگاتار سناتا ہے۔

پھر تیسرے کتے کو دعوت سخن ملتی ہے جو کافی پختہ اور جدید لب و لہجے کا مالک ہے طبیعت میں اکھڑ پن اور چھچھورا پن واضح ہے، یہی اکھڑ پن اور چھچھورا پن ان کے کلام میں بھی نمایاں ہے اور ستم بالائے ستم کہ یہ کتا بزگ کتوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتا اور کلام کچھ اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا میرزا غالب اور میر تقی میر سے بڑا شاعر ہو، غرض اسی طرح مشاعرہ آگے چلتا ہے بالآخر کتیا کی باری آتی ہے۔ بعض شرارتی کتے ایک دوسرے کو کہنیاں مارتے ہیں آپس میں کھسر پھسر کرتے ہیں، جوں ہی غزل سے مطلع عرض کرتی ہے تو بزگ کتے بھی اچھل اچھل کر داد دیتے ہیں۔

ابھی شعر مکمل نہیں ہوا۔ مگر داد و تحسین کا وہ عالم ہے کہ پورا محلہ گونج اٹھا ہے مثلاً کیا عمدہ بخ بخ، تخیل آہا غب غب، انداز ہائے ہائے بھوں بھوں، غب غب۔ عجیب بات ہے اس کتیا کے شعر میں نہ وزن ہے اور نہ تخیل۔ بہر حال مشاعرہ تو اسی بد بلا کا نام ہے ہمیں کیا! لگ بھگ رات کے ساڑھے تین یا چار بجے تک مشاعرہ کا اختتام ہوتا ہے اور نشے میں لت پت ہو کر یہ سب گلی کے کونے کھدروں میں آرام فرماتے ہیں۔

جاتے جاتے آپ لوگوں کے معلومات میں اضافہ کرتا چلوں پطرس بخاری صاحب نے ان کتوں کے متعلق یہ بھی کہا تھا کہ ”اس میں شک نہیں کہ ہمارے تعلقات کتوں سے ذرا کشیدہ ہی رہے ہیں ”

مگر میرا معاملہ پطرس صاحب سے یکسر مختلف ہے ان کتوں سے میرے تعلقات گہری محبت اور شفقت پر مبنی ہیں۔ جب ان کتوں کو گلی میں ادھر ادھر تخیل میں گم صم دیکھتا ہوں تو میرا دل باغ باغ ہوجاتا ہے اور یقین جانیے یہ مجھے دیکھ کر نہایت با ادب ہو کر ”غب“ کر کے انتہائی عاجزی سے سلام ٹھونکتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments