جھیل بیکال، ایک منفرد ارضیاتی مقام


روس کے سرد اور دور دراز علاقے، سائبیریا کے جنوبی علاقے میں ایک ایسی جھیل پائی جاتی ہے جس کا روئے زمین پر کوئی ثانی نہیں۔

سائبیریا کے مشکل اور دورا دراز علاقے میں واقع دنیا کی سب سے گہری اور قدیم یہ جھیل، اپنی ناقابل یقین خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے۔ اسے اکثر ”روس کے موتی“ کے خطاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ جڑا تحیر بھی اتنا ہی گہرا ہے جتنی یہ خود کیونکہ ایک طویل عرصے سے یہ جھیل عجیب واقعات کا مرکز رہی ہے۔

جھیل بیکال قشر ارض کی حرکت سے پیدا ہونے والی ایک دڑاڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ یہ شمال مغرب میں ارکوٹسک اوبلاسٹ سے لے کر جنوب مشرق میں بوریات ریپبلک تک پھیلی ہے اور اس کا رقبہ 12248 مربع میل یا 31722 مربع کلومیٹر ہے جو اسے دنیا کی تیسری بڑی جھیل جبکہ ایشیاء کی سب سے بڑی جھیل بناتا ہے۔ (یہ بیلجیم سے بھی کچھ بڑی ہے ) ۔ اس کی سب سے زیادہ لمبائی 395 میل یا 636 کلومیٹر ہے جبکہ سب سے زیادہ چوڑائی 49 میل یا 79 کلومیٹر ہے۔ 5387 فٹ یا 1642 میٹر گہری ہونے کے سبب یہ دنیا کی سب سے گہری جھیل ہے۔ یہ اتنی بڑی اور گہری ہے کہ ماہرین کے اندازے کے مطابق دنیا کا 20 فیصد تازہ پانی یہیں پایا جاتا ہے۔ اسے دنیا کی قدیم ترین جھیل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے کیونکہ یہ 2 کروڑ 50 لاکھ سال سے لے کر 3 کروڑ سال تک قدیم ہے۔

جھیل بیکال صرف اپنے حجم ہی نہیں، بلکہ اپنے شفاف پانیوں اور منفرد آبی حیات کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ یہاں پائی جانے والی کئی انواع دنیا بھر میں اور کہیں نہیں پائی جاتیں۔ جنوری سے مئی تک یہ منجمد رہتی ہے، اتنی کہ اس پر انسان تو کجا، برفانی گاڑیاں بھی بآسانی چل سکتی ہیں۔ اس میں 27 جزیرے بھی ہیں جن میں سے سب سے بڑا، اولکاہون، 49 میل یا 72 کلومیٹر چوڑا ہے۔ اس میں کم و بیش 330 چھوٹے بڑے دریاؤں کا پانی گرتا ہے جبکہ اخراج دریائے انگارا سے ہوتا ہے جو 1149 میل یا 1849 کلومیٹر بعد دریائے ینسی میں جا گرتا ہے۔ گرمی اور خزاں میں یہاں طوفانی موسم معمول کی بات ہے جس کی وجہ سے اس میں 4.5 میٹر یا 15 فٹ اونچی لہریں بھی اٹھتی ہیں۔

انہی منفرد خوبیوں کی وجہ سے اسے 1996 ء میں یونیسکو نے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔
نوٹ:تصویر میں نظر آنے والے مقام کو ”درندے کا پنکھ“ کہا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS