بیچارہ سٹیون اور دھوکے باز انسٹرکٹر
سٹیون کا تعارف اس موقع پر بے محل نہ ہو گا، درمیانہ قد، ابھری ہوئی آنکھیں، سانولا رنگ اور دبلے پتلے جسم کا مالک سٹیون اپنے روزمرہ کام کو انتہائی دیانتداری سے انجام دینا اس کا بہترین تعارف تھا۔ اگر اسے آپ کوئی بات بتائیں یا کوئی واقعہ بیان کریں تو وہ بغیر کسی شک و شبہ کے اسے سچ ہی تسلیم کرے گا، یہ تصور کرنا کہ کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے سٹیون کے لئے نا ممکن تھا۔ ٹائم پر آ فس آ نا، مقررہ وقت پر لنچ بریک کرنا اور وقت پر آفس سے چھٹی کرنا، ہیلو ہائے سب سے، لیکن ہنسی مذاق صرف اپنے چند قریبی دوستوں کے ساتھ، اس کے معمول کا حصہ تھا۔
سٹیون بعض اوقات غصہ میں بھڑک اٹھتا تھا، ۔ اس کے مزاج کا یہ پہلو حیران کن تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ وہ خود سچا اور سیدھا تھا تو دوسری جانب کا رد عمل بھی سچا و سیدھا ہی متصور کرتا، اور اگر اس کے برعکس پاتا تو وہ اس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتا اور چلا اٹھتا۔
اس سے پیشتر کہ میں کہانی کو آگے بڑھاؤں ایک حقیقت اپ کے گوش گزار کرنا بہت ضروری ہے (یو اے ای) امارات کے اندر جو نئے لڑکے اور لڑکیاں اپنے بہتر مستقبل اور آ سودہ زندگی کے خواب لئے جب وہاں اپنی ملازمت کا آغاز کرتے ہیں تو ان میں سے ایک بڑی اکثریت کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنی ”کار“ خرید لی جائے، اس کی بنیادی وجہ دراصل یہ ہوتی ہے کہ اگر ملازمت فیلڈ ورک ہو تو پھر یہ بہت ہی اہم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے ناممکن ہے۔ لہذا سٹیون کو بھی ڈرائیونگ لائسنس کی اشد ضرورت تھی۔
اب ہم دوبارہ سٹیون کی سرگزشت کی طرف آتے ہیں۔ ایک صبح میں کچھ جلدی دفتر پہنچ گیا آفس میں چند دوسرے اہلکاروں کے علاوہ سٹیفن بھی موجود تھا اس کے چہرے پر اداسی اور مایوسی واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے گڈ مارننگ کہا جواب میں ویری گڈ مارننگ کی دھیمی سی آواز آئی۔
بھائی۔ اس کی آواز منوں بوجھ تلے دبی ہوئی محسوس ہوئی،
میں نے پوچھا: سٹیون کیا بات ہے آج صبح صبح تم اتنے اداس اور پریشان لگ رہے ہو؟
جی۔ اس نے کہنا شروع کیا، بھائی آج تقریباً دو ماہ ہو گئے ہیں روزانہ ایک گھنٹہ ڈرائیونگ کی کلاسز لیتا ہوں، اس عرصے میں تقریباً چار مرتبہ میں ڈرائیونگ ٹیسٹ میں ناکام ہو چکا ہوں، آخری مرتبہ یہ گزشتہ روز ہوا ہے! ایک تو لائسنس نہیں مل رہا اور دوسری جانب مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس پر میری اچھی خاصی رقم بھی صرف ہو چکی ہے اور یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ وہ بولتا چلا گیا۔ ”ماؤس“ کو آہستہ آہستہ ہلاتا رہا اور کھوئی ہوئی انکھوں سے بے مقصد، کمپیوٹر کی سکرین پر ٹکٹکی لگائے دیکھتا رہا۔
وہ پھر گویا ہوا : رضوان اپنے پہلے ٹیسٹ میں پاس ہو گیا تھا، موہن نے تیسری کوشش میں حاصل کر لیا۔ مجھ سے نہیں ہو گا۔ شاید میں نہیں کر سکتا۔ میں نہیں کر سکتا۔ وہ خود کو مورد الزام ٹھہرانے لگا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہے۔ میں نے یہ سب دیکھتے ہوئے اسے حوصلہ دیا کہ کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے، تم ہمت سے کام لو ایک دن تم بھی کامیاب ہو جاؤ گے۔ میں اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اپنی میز کی طرف بڑھ گیا۔
میں اپنی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اپنے ایک ذاتی تجربہ کی بناء پر میرے ذہن میں ایک خیال آیا، میں دوبارہ سٹیون کے پاس پہنچ گیا، اور سٹیون سے دریافت کیا کہ تم ایک گھنٹے کی جو ڈرائیونگ کلاس لیتے ہو وہ کس سڑک یا مقام پر تمہیں دی جاتی ہے؟ یہ سنتے ہی سٹیون نے سر اٹھا کر میری طرف اس حیرت سے دیکھا جیسے وہ کوئی ایسی پراسرار بات میرے علم میں لانا چاہتا تھا لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ وہ در اصل بات ہے کیا!
وہ کسی شدید ذہنی الجھن میں تھا! یہ سوال سننے کے بعد اس کی آنکھیں روشن ہو گئیں سٹیون کی مردہ آواز میں جیسے زندگی لوٹ آئی ہو۔ وہ اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ملتجیانہ انداز میں کہنے لگا، بھائی : آپ خود چل کر وہ جگہ دیکھیں جہاں میں روزانہ ڈرائیونگ کلاسز لیتا ہوں! مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ غلط ہو رہا ہے! میں نے اسے یقین دلایا کہ آفس ٹائم کے بعد وہ جگہ ضرور دیکھیں گے جہاں وہ کلاسز لیتا ہے بعد ازاں میں روز مرہ کام میں مشغول ہو گیا۔
میں نے کمپیوٹر کو بھی شٹ ڈاؤن ہی کیا تھا کہ سٹیون میرے قریب پہنچ چکا تھا اور یاد دہانی کرا رہا تھا۔ آمدم بر مطلب ہم دونوں گاڑی میں سوار ہو کر اس جانب روانہ ہو گئے جہاں وہ روز مرہ کی ڈرائیونگ کلاسز لیتا تھا اس دوران وہ مسلسل بولتا رہا۔ بھائی، بھائی مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرا انسٹرکٹر مجھے کہیں دھوکہ دے رہا ہے، جب بھی میں یکسوئی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں وہ مجھے باتوں میں الجھا دیتا ہے، ظاہراً وہ بہت اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ وہ اصول و قوانین جو اہم نوعیت کے ہو سکتے ہیں وہ ارادتاً میرے علم میں نہیں لاتا! ؟ مگر یہ سب وہ میرے ساتھ کیوں کر رہا ہے؟ اسے بھلا کیا فائدہ ہو سکتا ہے کوئی مالی مفاد ہو سکتا ہے؟ وہ بڑبڑایا۔ کچھ ہی دیر بعد ہم اس جگہ کھڑے تھے جہاں سٹیون ڈرائیونگ سیکھتا تھا۔
جب میں نے وہ جگہ دیکھی تو حیرت و استعجاب سے میری آنکھیں کھلی کہ کھلی رہ گئیں! دراصل وہ علاقہ عام شاہراہوں سے ذرا فاصلے پر تھا اور حال ہی میں تعمیر ہوا تھا۔ سڑکیں تو بنی ہوئی تھیں مگر تا حال ان کا افتتاح نہ ہو سکا تھا۔ جو ٹریفک سگنل نصب تھے ہنوز استعمال کے قابل نہ تھے۔ لائٹس کو پلاسٹک پیپر لپیٹ کر بند رکھا گیا تھا۔ زیبرا کراسنگ پیدل چلنے والوں کی راہ تک رہے تھے۔ وہ جگہ آسیب زدہ دکھائی پڑتی تھی کیونکہ وہاں انسانی آمد و رفت ناپید تھی۔ تحیر کے عالم میں یہ منظر دیکھ کر میں نے سٹیون سے استفسار کیا کہ انسٹرکٹر تمہیں کیسے سکھاتا ہے؟ سٹیون کا جواب اور اس کی روداد میرے لیے ایک بم دھماکے سے کم نہ تھی۔
اس نے بتایا کہ بھائی تقریباً ایک گھنٹے کی کلاس کے دوران جب انسٹرکٹر مجھے سکھانے کے لیے یہاں آتا ہے، تو بالفرض اگر ”لین“ تبدیل کرنی ہو تو وہ مجھے بتاتا ہے کہ تم تصور کرو کہ شاہراہ پر ٹریفک رواں دواں ہے اور تیز رفتار گاڑیوں کا اژدہام ہے اور تم نے انڈیکیٹر ان کرنا ہے سائڈ مرر دیکھنا ہے اور جب ”لین“ تبدیل کرنا شروع کرو تو یہ ذہن میں رہے کہ پیچھے آتی گاڑیوں کا فاصلہ تم سے معقول دوری پر ہو، با مطابق ٹریفک قانون کے!
اور پھر جب سگنل اور زیبرا کراسنگ آ جاتے ہیں تو وہ مجھے قانون کے مطابق سٹاپ کرا دیتا ہے اور پھر یوں گویا ہوتا ہے کہ تم اب یہ خیال رکھو کہ زیبرا کراسنگ پر لوگ ایک طرف سے دوسری طرف آ جا رہے ہیں سگنل کے متعلق اپنے ذہن کو حاضر رکھو کہ اس کی لائٹ سرخ ہے اور اب یہ اورنج ہو گئی ہے اور اب تم ہوشیار ہو جاؤ کیونکہ اسی دوران زیبرا کراسنگ پر سڑک کی دونوں جوانب آتے جاتے لوگ اب رک گئے ہیں۔ سبز لائٹ روشن ہو چکی ہے۔
اب میں پھر گاڑی کو دوڑانے لگتا ہوں اور حالت اب یہ ہو گئی ہے کہ میں اس تصوراتی مشق کا عادی ہو گیا ہوں۔ کبھی کبھی تو انسٹرکٹر کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی میں خود ہی تصور کرتا ہوں کہ سڑک پر گاڑیوں کا اژدہام ہے۔ تیز رفتار موٹر کاریں مجھے کراس کر رہی ہیں۔ پھر میں ان گاڑیوں کو تصوراتی طور پر فاصلے پر رکھتا ہوں لین تبدیل کر لیتا ہوں اس طرح سگنل پر کھڑے ہو کر میں چشم تصور میں لوگوں کو زیبرا کراسنگ سے سڑک کے دونوں جانب آتا جاتا دیکھتا ہوں پھر خیال میں سرخ، اورنج اور پھر سبز بتی روشن ہوتے دیکھتے ہی دوبارہ چل پڑتا ہوں۔
بھائی۔ سٹیون بولتا ہی چلا گیا۔ یہ تمام مشق میں سمجھداری سے کرتا ہوں اور خود کو بے پناہ پر اعتماد پاتا ہوں لیکن نہ جانے کیوں جب ٹیسٹ دینے جاتا ہوں تو ناکام ہو جاتا ہوں! اور یہ مسلسل دو ماہ سے ہو رہا ہے جس کی وجہ سے میں شدید کرب میں مبتلا ہوں۔ اس میں میرے اخراجات بھی بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔
یہ تکلیف دہ کہانی سن کے میں خود بھی افسردہ ہو گیا کیونکہ ( میں اپنے تجربہ کی بناء پر جان گیا تھا انسٹرکٹر زیادہ وقت لے کرincentives کما رہا ہے ) سٹیون کو ابھی تک یہ معلوم نہ ہو سکا تھا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ جب بھی اس کا ٹیسٹ ہوتا تھا وہ کسی نہ کسی مصروف شاہراہ پر ہوا کرتا تھا جہاں حقیقت میں ٹریفک سگنل ہوتے تھے، جہاں زیبرا کراسنگ پر لوگ ایک طرف سے دوسری طرف آ جا رہے ہوتے تھے، جہاں ”لین“ تبدیل کرتے ہوئے تیز رفتار گاڑیاں بھی سڑک پر موجود ہوتی تھیں اور پارکنگ کے وقت وہ جگہ گاڑیوں سے خالی نہیں ہوتی تھی بلکہ وہاں ارد گرد مختلف گاڑیاں پارکڈ ہوتی تھیں۔
دوسرے روز میں سٹیون کی ڈرائیونگ کمپنی کے مینجر کے دفتر حاضر ہوا اور شکایت کی کہ اس بددیانتی پر مبنی عمل کو فی الفور روک کر انسٹرکٹر کو سزا دی جائے اور اس کی جگہ پر نیا انسٹرکٹر مقرر کیا جائے۔ بعد ازاں انسٹرکٹر کو تبدیل کیا گیا اور اس کے بعد سٹیون کو بالآخر کامیابی حاصل ہوئی۔
دراصل یہی سٹفن کی مشکل تھی وہ ان تجربات سے گزر رہا تھا جن سے گزرنے کا وہ قطعاً حقدار نہ تھا۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا کہ کہ جیسے بحری مشقیں ڈرائنگ روم میں بیٹھ کے کی جائیں۔
نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ وطن عزیز کی گزشتہ 76 سالہ تاریخ بھی سٹیون کے تجربے سے بے پناہ مشابہ ہے۔ ہمارے انسٹرکٹرز بھی ہمیں ایسا ہی بتاتے رہتے ہیں۔ یعنی تصور کرو کہ ہم معیشت میں ایشین ٹائیگرز سے آگے نکل جائیں گے۔ تصور کرو تعلیم 100 فیصد ہو جائے گی۔ تصور کرو صحت کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ تصور کرو کہ جرائم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تصور کرو کہ ہمارا نظام عدل دنیا کا عظیم ترین نظام ہو گا۔ تصور کرو کہ ہم کسانوں کے لیے معاملات بہتر کر لیں گے۔ تصور کرو کہ مزدوروں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم ہو جائیں گی اور ان کی تنخواہ ایک تولہ سونا ہوگی؛! تصور کرو۔ تصور کرو۔ تصور کرو۔



Mashallah sir, kmal ki tehreer likhi hai apnay 🖤🌺