ذہنی برتری کا زعم یا عارضہ کیا ہوتا ہے؟


بناوٹ، تصنع، دکھاوا، منافقت اور پارسائی کا زعم ہماری گھٹی میں شامل ہوتا ہے۔ بچپن سے ہمیں یہ سکھایا اور بتایا جاتا ہے کہ کرہ ارض پر ہم ایسا کوئی نہیں اور ہم ہی قادر مطلق کے ”چنیدہ“ ہیں، ہمارا فلسفہ حیات و دین و دنیا ہی دنیا بھر کے مذاہب سے بالکل جدا ہے اور یہی حق سچ ہے اس کے علاوہ باقی سب کھیل تماشا ہے اور نظر کا فریب ہے۔

اب جو بچہ جس عقیدے کی چھتر چھایا میں پروان چڑھتا ہے وہ زندگی بھر اسی روایتی کنڈیشننگ کے زیر اثر رہتا ہے اب بھلا وہ اس سرکل سے کیسے باہر نکل سکتا ہے؟ جس ذہن کو بچپن سے بیڑیاں پہنا دی گئی ہوں وہ آزادی کی نعمت کو کیسے پا سکتا ہے؟ جن کانوں نے بچپن سے بلوغت تک ایک ہی بازگشت سن رکھی ہو وہ مختلف کیسے سن سکتے ہیں اور ان کا ٹالرینس لیول وسیع کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک ہی سچ کو حتمی اور اٹل جاننے والے نئی پیدا ہونے والی سچائیوں پر غور کیسے کر سکتے ہیں؟

جنہوں نے اپنے بڑوں سے بچپن سے لے کر سر میں چاندی امڈ آنے تک صرف یہی سنا ہو کہ ہمارے عقیدے، مذہب یا فکر کے علاوہ باقی سب جھوٹے، کافر بلکہ دائرہ مذہب سے ہی خارج ہیں وہ بھلا اپنے علاوہ دوسروں کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟

دیوبند مسلک سے تعلق کی بنیاد پر ہم نے تو دوسرے مسالک کے متعلق اپنے بڑوں سے یہی سن رکھا ہے کہ ”بریلوی“ کافر اور مشرک ہیں، اس کے علاوہ قبر پرست، مردہ پرست اور سجدہ تعظیمی کو جائز سمجھتے ہیں۔ اس لیے اس مسلک کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے، مزید تفصیلات کے لیے المہند و المفند یا حسام الحرمین جیسی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے متعلق ہمارے بڑوں نے ہمیں بچپن سے بتا رکھا ہے کہ یہ گیارہویں شریف کا ختم دلواتے ہیں اور کھانوں کے اوپر غیر اللہ کا نام لے کر دم وغیرہ کرتے ہیں اس لیے جس کھانے پر بھی غیر اللہ کا نام لیا جائے وہ حرام ہو جاتا ہے۔

اسی بنیاد پر دیوبند مسلک والے ختم والے کھانے کو قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں، اگر اس قسم کا کھانا گھر میں کوئی دے بھی جائے تو اسے ضائع کرنے میں ذرا سی عار بھی محسوس نہیں کرتے۔

” وہابی“ جنہیں عرف عام میں اہل حدیث بھی کہا جاتا ہے، ان کے متعلق ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس فرقے کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے انگریزوں نے کھڑا کیا تھا۔ یہ پیروں فقیروں اور ختم درود کے منکر ہیں حتی کہ تعویذ دھاگے کی اہمیت سے بھی انکاری ہیں۔ یہ اونچی آمین کہتے اور رفع یدین کرتے ہیں۔ اس لیے اس مسلک کا دین یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

” شیعہ“ ان کے متعلق تو بہت کچھ سن رکھا ہے بلکہ یوں کہیں کہ ان سے تو نفرت کرنے اور لعنت ملامت کرنے کی باقاعدہ ریہرسل بھی کروائی جاتی ہے۔ مثلا یہ اکثر صحابیوں کو برا بھلا کہتے ہیں، ماتم کرتے ہیں اور کونڈے وغیرہ کرتے ہیں۔ خیرات کی دیگوں میں انسانی خون اور گھوڑے کا پیشاب مکس کرتے ہیں۔ 10 محرم کی رات کو شام غریباں مناتے ہیں جس میں مرد و زن کا اختلاط ہوتا ہے۔ اس لیے یہ لادین، رافضی اور کافر ہیں اور ان کا بھی دین سے کوئی تعلق نہیں۔

” احمدی“ ان کے متعلق تو خیر آئینی فرمان بھی لاگو ہے، بڑوں کا کہنا ہے کہ یہ نبوت کے انکاری ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ نبوت کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ سن رکھا ہے قصہ مختصر یہ بھی لادین اور کافر ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہمارے مسلک کے علاوہ سارے کافر، زندیق، لادین، مشرک اور مکروہ یا نجس ہیں تو پھر درست یا حق پر کون ہوا؟

اس کا جواب تو وہی ہو گا جو جس مسلک سے تعلق کی بنیاد پر خود کو برحق سمجھتا ہو گا اور ظاہر ہے ہر کوئی اپنے اپنے مسلک کو ہی حق اور سچ سمجھے گا۔

حالانکہ سب کا منبع اور ذرائع عقیدہ و علم وہی سب ہے جس پر سب مسالک کا ایمان و یقین ٹکا ہوا ہے، یعنی قرآن مجید احادیث مبارکہ اور مشترکہ تشریحاتی مواد۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ایک جیسے فکر و فلسفہ کی بنیاد پر ہی یہ ایک دوسرے کو کافر بھی کہہ دیتے ہیں اور گمراہ بھی۔

اب اس بات کا فیصلہ کون کرے کہ ان سب میں سے کون حق پر ہے؟ اور اس حقیقت کو جاننے کا ابتدائی اور مستند پیمانہ کیا ہو سکتا ہے؟

اپنے اپنے مالیاتی غلوں گوداموں کے تحفظ، جھوٹی سی انا کی تسکین اور مذہب کی بنیاد پر اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ہمارے مختلف مسالک کے علماء جو مذہبی دھندا کرتے ہیں ان کے اثرات بچوں کے ذہنوں پر کیا پڑتے ہیں، کون جانے اور کسے فکر؟

جو بچہ جس مسلک میں پیدا ہوتا ہے اسی مسلک کے بڑے پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی اسے ایک نارمل یا اچھا انسان بنانے کی بجائے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ یا احمدی بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے دوسرے مسالک، مذاہب اور لوگوں سے نفرت کرنے کا زہر اس کے معصوم سے ذہن میں ہمارے بڑے اور معاشرہ انڈیلنا شروع کر دیتا ہے۔

نفرت پر مبنی یہ مکروہ سرکل اور خطرناک قسم کی یہ سپون فیڈنگ جسے والدین اور معاشرہ اپنی انا کی تسکین کے لیے یا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے کرتا ہے وہ ایک طرح سے غیر محسوس طریقے سے بچوں کو ذہنی مریض یا ابنارمل بنا رہے ہوتے ہیں، جس کا نتیجہ ہم موب لنچنگ کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

اچھے بھلے اور بظاہر انسان دکھائی دینے والے لوگ چند سیکنڈ میں بھڑک جاتے ہیں، منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور محض الزام کی بنیاد پر ایک بندے کے جسم کے ہر عضو کو توڑ کے رکھ دیتے ہیں اور نعرہ تکبیر کی صدا بلند کرتے ہوئے لاش تک کو جلا ڈالتے ہیں۔ یہ اسی ایندھن یا نفرت کے ہی تو آفٹر شاکس یا نتائج ہوتے ہیں جو ہم اپنے بچوں میں دوسرے مسلک، مذاہب یا افراد سے نفرت کی اسپون فیڈنگ کی صورت میں ان کے ذہنوں میں بچپن سے ڈالنا شروع کرتے ہیں۔

روایتی کنڈیشننگ ایک طرح سے بچوں کے ذہنی و جسمانی استحصال کے زمرے میں آتی ہے۔ ہم قدرت کے حسین سے تحفے کو اس کی ”نیچرل سیلف“ کے ساتھ پروان چڑھنے کی اجازت نہیں دیتے اور اس کو اپنی اپنی اناؤں کے سائے میں پلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ہم اسے وہ بننے ہی نہیں دیتے جو وہ خود سے بننا چاہتا ہے۔

ہم اپنے بچوں کو ایک طرح سے روایتی کنڈیشننگ کے ساتھ انہیں ایک ”فالس سینس آف سپیریرٹی“ کے ذہنی عارضے میں مبتلا کر دیتے ہیں جو اپنی ساری زندگی اسی وہم میں گزار دیتے ہیں کہ جو سچ وہ جانتے ہیں وہی حق سچ اور حتمی ہے باقی سب مایا ہے۔

ہمارے بچے ایک بہتر انسان بننے کی بجائے ایک مذہبی جنونی بننا پسند کرتے ہیں، جو ہر وقت اپنے مذہب و مسلک کا جھنڈا اٹھائے رکھتا ہے اور اسی کے تحفظ کے لیے جان دینے اور لینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس کی نظر میں بس وہی انسان کہلائے جانے کا مستحق ہوتا ہے جو اس کے فکر و فلسفہ سے جڑا ہوتا ہے، اس قسم کی ذہنی کنڈیشننگ میں اس کا بھی کوئی قصور نہیں ہوتا وہ تو وہی لٹا رہا ہوتا ہے جو اس نے بچپن سے سیکھا ہوتا ہے۔ اس نے سیکھا ہی یہی ہوتا ہے کہ ہماری فکر کے علاوہ دنیا بھر کے تمام فلسفے گمراہی کا مرکب ہیں اور ان سے جڑے انسان گمراہ ہیں۔

روایتی کنڈیشننگ یا مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والا جبری ماحول ہمارے بچوں کو 72 حوروں کے سہانے سپنوں، آخرت کی فکر، روایتی فلسفے کے تحفظ اور دوسروں کو راہ راست پر لانے کی فکر کا اسیر بنا دیتا ہے اور وہ اپنے علاوہ دوسروں کو انسان تک سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ سوچنے والی بات ہے کہ اگر ہم واقعی میں چنیدہ اور برحق ہیں اور قادر مطلق کی محبوب ترین مخلوق میں شامل ہوتے ہیں تو پھر ان کے بچے ہم سے زیادہ خوشحال کیوں ہیں جنہیں ہم کفار، لعنتی اور جہنمی سمجھتے ہیں؟

ہمارے بچے گلیوں میں ننگے اور جوتوں کے بغیر گندگی میں اپنا رزق تلاش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ یہ منظرنامہ ہمیں کفار کی دھرتی پر دکھائی کیوں نہیں دیتا؟

ہم شروع دن سے کفار کو گالیاں اور بددعائیں دیتے آئے ہیں لیکن آج تک ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوا بلکہ وہ تو روز بروز خوشحال حتی کہ سپر پاور تک بن کے ہم پر راج کر رہے ہیں آخر ایسا کیوں؟

ہماری دعائیں یا بد دعائیں اتنی بے اثر کیوں؟
کیا اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرنے والے خود اللہ سے ڈرتے ہیں؟
اگر ڈرتے ہیں تو پھر اسی کے نام پر اتنی تقسیم، لڑائی، نفرت اور قتل و غارت کیوں؟

اگر ہم بطور قوم مجموعی طور پر اللہ سے ڈرنے والے ہیں تو بچوں کے دودھ میں زہریلے کیمیکل، دودھ میں زہریلا پاؤڈر، گھی میں گریس، کھانے کی مرچوں میں لکڑی کا بردہ کون مکس کرتا ہے؟

ہماری نظر میں تو جو لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے اور قیامت والے دن اپنی گمراہی کی بنیاد پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلیں گے کیا وہ اس قسم کا ظلم انسانی جان پر کرنے کے متعلق سوچ سکتے ہیں؟

ہم اللہ سے ڈر کر بھی انسانی خوراک میں زہر ڈالنے سے گریز نہیں کرتے اور وہ اللہ سے ڈرے بغیر انسانوں میں خیر بانٹنے میں مصروف ہیں۔

Facebook Comments HS