ووٹ تو ڈالیں مگر کرایہ نہیں ہے


پاکستان میں ان دنوں انتخابات کی گہما گہمی ہے، تمام سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی انتخابی مہم میں پوری طرح مصروف ہیں۔ اس وقت پاکستان کی تین بڑی سیاسی پارٹیاں جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں جس حد تک ان سے بن پا رہا ہے وہ الیکشن مہم چلا رہی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون اپنے اپنے تئیں کامیاب جلسے کر رہی ہیں لیکن تحریک انصاف کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔

پاکستان میں اس وقت رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ پچاسی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اور عمومی تاثر یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نوجوانوں میں باقی جماعتوں کی نسبت زیادہ مقبول ہے۔ ہر سیاسی پارٹی اپنے جلسے میں عوام کے مسائل حل کرنے اور دوسری پارٹیوں کی ناکامیاں گنوانے میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ دوسری جانب ہر سیاسی جماعت اپنا اپنا انتخابی منشور بھی پیش کر چکی ہے، لیکن افسوس کہ تمام سیاسی جماعت نے اپنے اپنے منشور میں ووٹرز کے دیگر مسائل کا ذکر تو کیا مگر میرے جیسے ووٹرز کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انتخابات کے دن وہ اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ کاسٹ کرنے کس طرح پہنچیں کیونکہ ووٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے حلقوں سے دور دوسرے شہروں میں مقیم ہے جن میں بڑی تعداد طلبہ اور ملازم پیشہ افراد کی ہے۔

میں اور میرے باقی بہن بھائی تعلیم کے سلسلے میں اسلام آباد رہائش پذیر ہیں، جبکہ ہمارے ووٹ کا اندراج ہمارے آبائی گاؤں میں ہے۔ لیکن ہمارے لیے ووٹ کاسٹ کرنے گاؤں جانے کا مطلب ہے پورے ایک مہینے کا بجٹ، کیونکہ اگر ہم گھر کے آٹھ افراد ووٹ کاسٹ کرنے گاؤں جاتے ہیں تو ہمارے لیے اگلے مہینے میں بجٹ مینیج کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا، ہماری طرح کے کئی طالب علم اور کم آمدنی والے ملازمت پیشہ افراد اپنی اپنی پسندیدہ جماعتوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن ان سب کے لیے اس وقت سب سے بڑی پریشانی اپنے حلقے میں آنے اور جانے کا کرایہ ہے۔

میری طرح ہر اس شہری کو یہ مسئلہ درپیش ہے جو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن کسی مصروفیت یا پھر مالی تنگی کی وجہ سے انتخابات کے روز وہ ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے اپنے حلقے تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ کیا بحیثیت پاکستانی شہری میں اپنا ووٹ اس جگہ کاسٹ نہیں کر سکتی جہاں میں موجود ہوں جبکہ میرے فنگر پرنٹس سمیت تمام تر ڈیٹا نادرا میں محفوظ ہے۔ اور میرا قومی شناختی کارڈ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ میں پاکستانی شہری ہوں۔

کیا ریاست پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ہم شہریوں کی اس مشکل کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن قوانین میں ترامیم کرے، اور الیکشن کمیشن اور نادرا اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کا ہر عاقل بالغ شہری انتخابات کے روز پاکستان کے جس شہر میں بھی مقیم ہو وہ وہاں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکے۔

اللہ نے خیر کی تو 8 فروری کو الیکشنز ہوجائیں گے، منتخب حکومت بھی تشکیل پا جائے گی لیکن میری طرح کے پاکستان کے ہزاروں ووٹرز اس بنا پر ووٹ کاسٹ نہیں کر پائیں گے کہ وہ اپنے انتخابی حلقوں سے دور تھے، اور مالی تنگی ان کو ووٹ کاسٹ کرنے جیسے اپنے بنیادی حق سے محروم کردے گی۔

آئندہ منتخب حکومت سے میری یہ درخواست ہوگی کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد پارلیمان کو اس اہم اور سنگین مسئلے پر اعتماد میں لے کر الیکشن قوانین میں ترامیم کرے، اور الیکشن کمیشن اور نادرا کو اس بات پر پابند کرے کہ وہ آئندہ انتخابات میں شہریوں کی مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہ ملک میں جہاں بھی ہوں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کا حق استعمال کرسکیں تاکہ کوئی بھی شہری اپنے پسندیدہ امیدوار کی شکست دیکھ کر یہ نہ کہہ سکے کہ وہ ووٹ تو کاسٹ کرتا لیکن اس کے پاس اپنے حلقے تک پہنچنے کا کرایہ نہیں تھا۔

Facebook Comments HS

معصومہ زہرا

معصومہ زہرا نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس اردو لٹریچر کیا ہے۔ آج کل وہ ایک میڈیا ہاؤس میں مترجم اور کاپی رائٹر کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

masooma-zahra has 1 posts and counting.See all posts by masooma-zahra