ہزار راتیں، ہزار کہانیاں!


ایک تھی شہر زاد!
ایک ہے شہر زاد!
زندگی کہانی سے پوچھتی ہے۔
”کون ہے؟
میں ہوں۔
تمہارا کیا نام ہے؟
میں کا نام نہیں ہوتا۔ ”
( آگ کا دریا: قرۃ العین حیدر)

موت کے منڈلاتے سائے اور ظالم بادشاہ کی موجودگی میں عورت کا کہانی بننا، کہانی کہنا اور ایسے کہنا کہ بادشاہ مسحور ہوئے بنا رہ نہ سکے اور سنانے والی کو جینے کے لیے ایک اور دن مل جائے۔

کہانی میں زندگی کی وعید تھی، بوند بوند زندگی! پھر کہانی نے زقند لگائی اور آسمان تک جا پہنچی۔ ہر طرف کہانیاں تھیں اور ان سے لپٹی ہوئی زندگی!

زندگی اور کہانی بن گئیں سہیلیاں جنہیں جدا کرنا ہوا دشوار! کیسے چھنتی کہانی کار سے زندگی؟
سو کہانی نے زندگی بخشی، شہرزاد کو اور ان ان گنت عورتوں کو موت جن کی منتظر تھی۔
کہانی چیز ہی ایسی ہے!

البیلی، انوکھی، اہلے گہلے الفاظ سے مہکتی، اجنبی سرزمینوں کے سحر میں مبتلا کرتی، ایک حیرت زدہ اجنبی کی دوسرے اجنبی سے ہم کلامی، شناسائی اور اجنبیت کے بیچ جھولتی، ہر کسی کو اپنا بنا لینے والی!

کہانی بہت حساس ہوتی ہے اگر اس کا ہاتھ نہ تھاما جائے تو وہ روٹھ کر واپس چلی جاتی ہے۔ بعد میں چاہے ہزار بار پکارا جائے، واپس نہیں لوٹتی۔ کہانی کار ٹامک ٹوئیاں مارتا رہ جاتا ہے۔ شہرزاد نے کہانی کو مدد کے لیے پکارا، کہانی آئی، شہرزاد نے لپک کر کہانی کو تھام لیا، منہ دھویا، لباس بدلا اور اپنا بنا لیا۔ کہانی نے شہرزاد کے کان میں منتر پھونکا اور شہرزاد کی محبت اور وارفتگی نے کہانی کو گم نہیں ہونے دیا ایک ہزار راتوں تک۔ اس کے بعد ہمیں سرا نہیں ملتا کہ کہانی تھک گئی یا شہر زاد؟ لیکن سب جانتے ہیں کہ دونوں امر ہو گئیں!

زمانے گزرے، بادشاہ بھی گزر گئے، سب کچھ خواب ہوا لیکن کہانی موجود رہی۔ کہانی اوٹ میں رہتی ہے، روز و شب کی ان تمام کٹھنائیوں سے دور جن کے سامنے زندگی گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ لیکن کہانی ہار نہیں مانتی نہ ہی کہانی کار کو چپ بیٹھنے دیتی ہے! دونوں کا رشتہ ابدی ہے۔ جہاں کہانی وہاں کہانی کار!

اور شہرزاد سے اچھا کہانی کار کون ہو سکتا ہے بھلا؟ سو طے پایا کہ ہر کہانی کار شہر زاد ہی ہو گی۔

وہ بھی کہانی بنتی تھی! اہلے گہلے الفاظ کا خزانہ تھا اس کے پاس اور ان سے کہانی بننا نہ جانے کہاں سے سیکھ لیا۔ وہ بنتی چلی گئی اور ان سب کہانیوں کو دفن کرتی گئی۔ اپنے دل میں۔

ان کہانیوں میں سب کچھ تھا۔ محبت، الفت، قربت، احساس، کرب، دکھ، سکھ، اطمینان، درد، حیرانی، خوشی، آنسو، قہقہے، جدائی، ملن۔ لیکن ان کہانیوں کو اپنے مدفن میں اپنے ساتھ رہنا پسند تھا، دنیا کے بازار کی جھلک انہیں اضطراب میں مبتلا کرتی تھیں۔ ان کا بندھن کہانی کار سے تھا اور وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے۔ بس، کافی تھا اتنا۔

پھر کہانی کار کو ایک طوفان نے گھیر لیا، اس کی جھولی میں شکست کا تحفہ تھا۔ کہانی کار کی زندگی اس سے چھن رہی تھی۔ قطرہ قطرہ، بوند بوند۔ شہرزاد خطرے میں تھی۔ تب کہانیاں سر جوڑ کر بیٹھیں، متفکر، اداس، حیران، آزردہ۔ ماضی لوٹ آیا تھا۔ اب کہانی کو لڑنا تھا کہانی کار کے لیے۔

کہانی نے اپنی سمادھی کھود ڈالی اور وہاں ایک الاؤ روشن ہوا جس میں کہانیاں تپتے ہوئے انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ الاؤ کی تپش دور دور تک پہنچی اور سننے والوں نے اپنے اپنے کاسہ ظرف میں اس تپش کو سمیٹ لیا۔

کہیں آئینہ تو کہیں محبت کی پھوار، کہیں احساس کی سانجھ تو کہیں ظلم اور بدصورتی کے خلاف احتجاج، کہیں آنکھ سے ٹپکا آنسو تو کہیں سرشاری، کہیں زمانے کی بے حسی کا غم تو کہیں کسی کٹیا میں جلتے چراغ کی لو۔

سمادھی سے نکل کر الاؤ میں کہانیاں دہکتی رہیں، ایک کے بعد ایک۔ ہارنا موت تھا۔ طوفان کا رخ موڑ دیا گیا۔ کہانی جیت گئی۔ شہرزاد کو نئی زندگی ملی۔ ایسی جس میں زندہ رہنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ لیکن شہرزاد نے ہزار راتیں گزر جانے کے بعد بھی کہانی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ شہرزاد کے سر پہ ظالم بادشاہ کے برہم مزاج جیسی کوئی تلوار نہیں تھی جو اسے کسی انہونی سے خوفزدہ کرتی ہو لیکن کہانی پھر سے مدفون ہو، یہ گوارا نہیں تھا اسے۔

شہر زاد اب تنہا نہیں۔ اس جیسی بہت سی شہر زاد اس کے ساتھ کھڑی ہیں جو اپنی اپنی کہانی کہہ رہی ہیں، کہنا چاہتی ہیں۔ سب جان چکی ہیں، کہانی کہہ دینے کے لیے ہوتی ہے۔

بڑھیا شہرزاد مسکرا کر ہولے سے کہانی کا ہاتھ پکڑ کر کہتی ہے، چلو۔ بہت سی سمادھیاں باقی ہیں ابھی۔

نوٹ ؛ کہانی کار پانچ برس مکمل ہونے پہ ہم سب کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

Facebook Comments HS