الیکشن ممکنات اور عوام کی ذمہ داری
ہمارے آئین کے مطابق طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہیں، اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ جسے چاہیں اپنے لیے حکمران منتخب کریں۔ پچھلی تمام ملکی تاریخ میں لیکن نصف وقت ایسا گزرا جس میں عوام کو نہ صرف آئین کے مطابق عطا ہوئے اس بنیادی حق سے محروم رہنا پڑا بلکہ اپنے حق کی خاطر آواز بلند کرنے کی اجازت بھی نہ ملی۔ بقیہ نصف دور میں بھی غیر معمولی تعداد میں الیکشنز ہوئے۔ ان کے نتیجے میں بننے والی منتخب حکومتیں بھی اپنی مکمل مدت گزارنے کے بجائے قبل از وقت ٹوٹتی رہیں۔ ان ادوار میں اقتدار کے ایوانوں کے مکین شب و روز غیبی اشاروں پر بدلتے رہے مگر بہرحال جمہور کو یہ طفل تسلی ملتی رہی کہ ان کی منشا بھی کسی حد تک اپنے مستقبل کے فیصلے میں شامل ہے۔ اگرچہ غیبی ہاتھ تو دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار تئیس تک بھی جمہوری سفر میں بھرپور انداز سے رخنہ اندازی کرتے رہے مگر اس عرصے میں پارلیمنٹ گھسٹتے لنگڑاتے اپنے ادوار مکمل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔
نظام کے اسی دائمی عدم تسلسل کی وجہ سے ہمارے ہاں پسماندگی، جہالت اور شعور کمی جیسے بیماریاں پنپتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو کبھی اقتدار کے کھیل میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔ کیونکہ وہ اس کھیل کے اہم فریق ہونے کے باوجود ہمیشہ کسی مفاد سے محروم رہے۔ حکمران کوئی بھی گزرا خواہ، جمہوری یا غیر جمہوری عوام سے اس کا فاصلہ یکساں برقرار رہا۔ اقتدار میں آنے والوں کے دن تو بدلتے رہے مگر عوام کی زندگیوں میں بے اطمینانی اور عدم تحفظ کا احساس ٹھہرا رہا۔ محض وسائل کی کمیابی کا بہانا بنا کر کسی کے لیے اس جرم سے دامن چھڑانا ممکن نہیں کیونکہ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والی خطے کی دیگر ریاستوں کے وسائل ہم سے بہتر نہیں۔ وہاں مگر شرح خواندگی اور عوام کی معاشی حیثیت ہم سے بہرحال بہتر ہے، حالانکہ ہمارے اور وہاں کے وسائل میں زمین اور آسمان کا فرق بھی نہیں۔ بڑی حد تک اب عوام بھی سمجھ چکے ہیں کہ جب تک نظام کو تسلسل حاصل نہیں ہو گا ان کی تکالیف کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ اسی باعث اقتدار میں آنے کے لیے چور دروازے ڈھونڈنے والے بھی آج کھلم کھلا جمہوریت کے خلاف کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہے۔
لیکن کیا پچھلے تین ادوار کی مانند محض چہرہ در چہرہ اقتدار کی منتقلی مسائل کا حل ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے پچھلی تمام ملکی سیاسی تاریخ کو پھر سے سوچنا پڑے گا۔ صاف نظر آتا ہے کہ گزری تمام سیاسی حکومتوں کی ناکامی کی وجہ ان کا غیر واضح مینڈیٹ رہا، جس کے باعث نہ تو کبھی وہ بیرونی دنیا کے بارے میں پالیسی بنانے میں آزاد رہیں اور نہ ہی انہیں مقامی سطح پر لسانی و صوبائی بلیک میلنگ سے آزاد ہو کر کام کرنے کا موقع ملا۔ آئندہ انتخاب جیت کر کون حکومت بنائے گا اس کے بارے میں فی الوقت تین واضح امکانات نظر آ رہے ہیں۔ پہلا امکان یہ ہے کہ تحریک انصاف کسی طور اتنی نشستیں حاصل کر لے گی کہ چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان کو ساتھ ملا کر حکومت بنا لے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ مسلم لیگ نون اپنے حالیہ نیک چال چلن اور خدمت کے بیانیے کے باعث پنجاب سے قابل ذکر نشستیں حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جائے۔ تیسرا امکان جس کے متعلق زیادہ اندیشہ ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی اور ”وسیع تر قومی مفاد“ میں کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کی صلاحیت حاصل نہ ہو سکے لہذا مختلف جماعتوں اور آزاد ارکان کے ملغوبے سے حکومت تشکیل دی جائے۔ جیسے پی ڈی ایم ماڈل۔
بہرحال ان تینوں صورتوں میں عوام کی حالت سدھرنے یا ملکی تقدیر بدلنے کا کوئی امکان نہیں بلکہ نظر یہ آ رہا ہے کہ آنے والا وقت مزید ابتری لے کر آئے گا۔ یہ تو بہرحال طے ہے کہ تحریک انصاف کو حکومت ہرگز نہیں دی جائی گی کیونکہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے تعلقات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں آپس میں وہ نباہ نہیں کر پائیں گے اور ملک کو نا قابل تلافی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
جبکہ نواز شریف اور ان کی جماعت نے اپنی تمام الیکشن کمپین معیشت کی بہتری خدمت کے بیانیے اور غیر جمہوری قوتوں کی نظام میں عدم مداخلت یقینی بنانے پر استوار کی ہے۔ نون لیگ نے طویل سوچ بچار کے بعد جو منشور پیش کیا ہے اس میں بھی سب سے زیادہ فوکس اکانومی کی بہتری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر تمام جماعتوں سے زیادہ قابل عمل اور جامع منشور نون لیگ کا ہی ہے مگر اس پر عملدرآمد اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اتحادیوں کی بلیک میلنگ سے آزاد ہو کر مضبوط مینڈیٹ کی حامل حکومت نہیں بنتی۔ سر دست اس قسم کی مضبوط حکومت کی تشکیل کا امکان بھی کم ہی نظر آ رہا ہے۔
تیسرے اور آخری یعنی پی ڈی ایم ماڈل حکومت کی تشکیل اور کامیابی کے زیادہ امکانات نظر آ رہے ہیں۔ لیکن پی ڈی ایم حکومت کے تجربے سے ثابت ہو چکا ہے کہ مقتدر قوتوں اور شریک اقتدار جماعتوں کی حد تک تو یہ فارمولہ بہت آئیڈیل ہے مگر آنے والے وقت میں یہ حکومت محض ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی کا کام دے گی۔ ایسی حکومت میں شریک جماعتیں تمام وقت آپسی کھینچا تانی پر صرف کریں گی اور ہو سکتا ہے وزیراعظم کی کرسی بھی میوزیکل چیئر بنی رہے۔ اس وقت ملک کے لیے توانائی، تعلیم، معیشت، امن و امان اور خارجہ پالیسی جیسے امور پر منظم منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن یہ تمام شعبہ جات مکمل یکسوئی اور منظم تدبیر کے متقاضی ہیں۔ کوئی بھی کمزور یا ربر اسٹمپ پارلیمنٹ ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکتی۔ آج ذرائع ابلاغ کی تیزی اور شعور میں اضافے کی وجہ سے پہلی بار عوام کے ہاتھ میں اپنی تقدیر کا فیصلہ آیا ہے۔ اب وقت کا تقاضا اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ نہایت سوچ سمجھ کر کریں، اور کسی بھی پراپیگنڈے یا جذباتی نعروں سے بالاتر ہو کر کسی پختہ سوچ کی حامل جماعت کو واضح اکثریت دلائیں اور پھر پانچ سال تک اس کے پشتی بان بھی رہیں۔ اسی میں ملک اور عوام کی بھلائی ہے ورنہ کوئی معلق پارلیمنٹ وجود میں آ گئی تو حالات اسی طرح ابتری کا شکار رہیں گے اور پھر اگلے پانچ سال بعد بھی لوگ جمہوریت کو کوستے نظر آئیں گے۔


