ووٹ سے تبدیلی: کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
ڈیموکریسی (جمہوریت) ڈیمو کا مطلب لوگ اور کریسی کی معنی طاقت کے ہیں، یعنی ”لوگوں کی طاقت۔“ ابتدائی جمہوریت کا خاکہ یونانی تہذیب سے منسوب ہے۔ یونان کی دو مشہور شہری ریاستیں اسپارٹا اور ایتھنز تھیں۔ اسپارٹا اپنی فوجی طاقت اور جنگی صلاحیتوں کی بنا پر جبکہ ایتھنز اپنے فلسفیوں، دانشوروں، قانون سازوں کی وجہ سے اعلیٰ مقام کی حامل تھی۔ الیکشن (انتخابات) کا سرا بھی یونان اور روم سے ہی جا ملتا ہے۔ محققین کے مطابق اسپارٹا میں تقریباً سات سو سال قبل مسیح میں الیکشن کا تصور موجود تھا۔ اشرافیہ کا ایک مخصوص طبقہ الیکشن کے ذریعے سرکاری عہدے داروں کو منتخب کیا کرتا تھا۔
ایتھنز کی انتخابی اصلاحات جمہوری طرز پر تھیں، اس کا سہرا کلائس تھینیز (Cleisthenes) قدیم قانون ساز کے سر ہے۔ ، جس نے پانچ صدی قبل مسیح میں ایتھنز کے آئین اور جمہوریت کی بنیاد رکھی۔ اسی بنا پر ایتھنز کو پہلی جمہوری ریاست ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ایتھنز کے آئین میں ریاستی انتخابات میں تمام مرد شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا۔ اسی لیے محققین کلائس تھینیز کو ”بابائے جمہوریت“ کا خطاب دیتے ہیں۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں یورپ اور شمالی امریکہ میں الیکشن کا آغاز ہوا۔ آج دنیا کے تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں جمہوری نظام ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ جمہوریت اور انتخابات کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
الیکشن ایسا انتخابی عمل ہے جس میں ملک کے معاملات اور انتظامات چلانے کے لیے ایک مخصوص مدت کے بعد نئے سرے سے حکمران اور دیگر پارلیمانی نمائندوں کو عوام کے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی دو اقسام منتخب جمہوریت اور نمائندہ جمہوریت کی طرح الیکشن بھی دو قسم کے ہیں براہ راست اور بالواسطہ۔ منتخب جمہوریت کے انتخابات میں سماج کے تمام طبقوں مزدوروں، کسانوں، خواتین، معذوروں، نوجوانوں، اور اقلیتوں وغیرہ کی خاطر خواہ نمائندگی پارلیمنٹ میں نہیں ہوتی۔ نمائندہ جمہوریت میں سماج کے تمام طبقات کی نمائندگی یقینی بنائی جاتی ہے تاکہ پارلیمان میں کسی بھی قانون کی منظوری میں ہر طبقے کے مفادات اور خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔
نمائندہ جمہوریت کی اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں انتخاب کا انحصار دولت نہیں، سیاسی جماعت سے وابستگی پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں الیکشن زیادہ تر امیر لڑتے ہیں جو انتخابی مہم پر بے دریغ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ غریب امیدوار الیکشن میں کھڑے ہوں تو وہ اپنی انتخابی مہم چلانے کی سکت ہی نہیں رکھتے۔ اسی لیے گزشتہ سات دہائیوں میں میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ غالب کے الفاظ میں :
تیرے وعدے پر جیے ہم تو جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
کیونکہ :
نئے کردار آتے جا رہے ہیں
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے۔
اسمبلیوں میں غریب اور محنت کش طبقے کی نمائندگی نہ ہونے سے عام ووٹروں کی الیکشن میں دلچسپی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اور لوگ حق رائے دہی سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں جو کہ ایک خطرناک صورت حال ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کی اکثریت اس لائق نہیں ہے کہ ان کو ووٹ دیا جائے کیونکہ جیتنے کے بعد کوئی بھی عوام کے مسائل حل نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے :
ووٹ ڈالا تھا دل لگی کے لئے
بن گیا روگ زندگی کے لئے
پاکستان میں ”براہ راست“ انتخابات میں ووٹ کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو منتخب کیا جاتا ہے جبکہ سینیٹ ارکان اور صدر پاکستان کا انتخاب بالواسطہ ہوتا ہے یعنی انہیں قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران منتخب کرتے ہیں۔ 2024 الیکشن کی سرگرمیاں اختتامی مراحل میں ہیں۔ دیکھیں اس بار کتنے پاکستانی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ انتخابات جمہوریت کا لازمی جزو ہیں اور اس عمل کو جاری رہنا چاہیے کیونکہ ووٹ ہی جمہوری معاشرے میں طاقتور ترین اور غیر متشدد ہتھیار کا درجہ رکھتا ہے۔
الیکشن میں نوجوانوں کی بھاری اکثریت ووٹ دینا چاہتی ہے۔ نوجوان اکثریت بھارت سے بہتر تعلقات، افغان مہاجرین کو رخصت کرنے کی حامی اور انتخابات کے بعد تبدیلی سے مایوس ہے۔ ہر 5 میں سے 3 نوجوانوں کا خیال ہے کہ سیاسی رہنما ان کی ترجیحات نہیں سمجھتے۔ کیونکہ ان کا طرزِ عمل یہ ہے :
صرف بھاشن ہیں میرے سب وعدے
جیت کر سب میں بھول جاتا ہوں۔
اس الیکشن میں پانچ کروڑ 68 لاکھ سے زائد نوجوان ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ یہ تعداد پاکستان کے مجموعی ووٹرز کا تقریباً 44 فی صد ہے۔ وائس آف امریکہ کے سروے میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اور تمام صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں کے رہائشی اور مختلف معاشی و سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی رائے شامل ہے۔ عام تاثر کے برعکس سروے میں تقریباً 65 فی صد نوجوانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انتخابات صاف شفاف ہوں گے۔ اکثر نوجوانوں کہتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی ادارہ عام انتخابات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں کسی ادارے کی مداخلت ممکن ہے۔ ان کی اکثریت فوج اور امریکہ انتخابات پر اثر انداز ہو نے کی بات کرتی ہے۔ سروے میں سب سے زیادہ نوجوانوں ( 74 فی صد) نے پہلے نمبر پر فوج اور دوسرے نمبر پر سپریم کورٹ کو سب سے قابلِ اعتماد ادارہ قرار دیا۔ پارلیمان اور وفاقی حکومت پر اعتماد کرنے والے نو جوانوں کی شرح ان کے مقابلے میں کم ہے۔ 70 فیصد نوجوان اس الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہر پانچ میں سے ایک نوجوان اس بار کسی دوسری جماعت کو آزمانا چاہتا ہے۔ 17 فی صد نوجوان ووٹ نہیں دینا چاہتے۔ سروے میں 70 فی صد نوجوانوں نے مہنگائی کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔ نوجوان اکثریت نے ووٹ دیتے ہوئے مذہبی آزادی اور آزادیٔ اظہارِ رائے کو بھی اہمیت دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ، 75 لاکھ، 27 ہزار، 87 ہے۔ ان میں خواتین ووٹر پانچ کروڑ، 87 لاکھ، 40 ہزار، 453 جبکہ مردوں کی تعداد چھ کروڑ، 87 لاکھ، 86 ہزار، 634 ہے۔ بہر حال تمام تر ناگفتہ بہ صورت حال کے باوجود ووٹ معاشرتی، قومی اور اسلامی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جمہوری ممالک میں یہ ”اختیار“ عوام اگلی حکومت کے انتخاب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عوام کے ووٹوں سے نئی حکومت پانچ سال کے لیے منتخب ہوتی ہے۔ اس لیے ووٹ ڈالتے وقت تھوڑی دیر کے لئے اپنی وابستگیاں بھول کر غیر جانبدار ہوتے ہوئے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہر مرتبہ ہمارے ہاں ووٹر ٹرن آؤٹ خطرناک حد تک کم، جبکہ دنیا میں 70 فیصد سے زائد رہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ترکی، ملائیشیا، میکسیکو وغیرہ میں ٹرن آؤٹ یہی رہا۔ کئی ممالک میں ووٹ نہ ڈالنے والوں کو بھاری جرمانے، قید یا دونوں سزائیں بیک وقت دی جاتی ہیں۔ ابراہام لنکن کے بقول: جو شہری ووٹ نہیں ڈالتا، اُسے منتخب حکومت پر تنقید کا حق نہیں۔ ڈنمارک، کروشیا اور ناروے میں جو لوگ ووٹ کاسٹ نہیں کرتے، وہ بینکوں سے قرضے نہیں لے سکتے، انہیں دیگر حکومتی سہولیات نہیں دی جاتیں تاکہ وہ آئندہ لازمی اپنا ووٹ کاسٹ کریں۔ اسی طرح ووٹرز کو سہولیات بھی دی جاتی ہیں۔ مثلاً جرمنی میں ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کے لیے الیکشن کی مختص تاریخ کا انتظار نہیں کرنا پڑتا بلکہ جرمن باشندے الیکشن سے ہفتوں پہلے بھی ووٹنگ دفاتر میں اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
ہمیں ان لوگوں کو بھی ووٹ ڈالنے پر مائل اور قائل کرنا چاہیے جو کندھے اْچکا کر کہتے ہیں : ہم تو کسی کو بھی ووٹ نہیں دیں گے، اِس رویے اور سوچ کو بدلنے کا وقت ہے۔
اگر ہمیں ووٹ کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے تو یقیناً یہاں بھی خوشحالی اور شفاف قیادت میسر آ سکتی ہے۔ جو لوگ ووٹ کاسٹ نہیں کرتے ان کے لیے سزائیں ہونی چاہیے۔ انہیں بینک قرضوں کی سہولت اور سرکاری نوکریوں سے محروم رکھا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ ساڑھے 5 کروڑ سے زیادہ نوجوان ووٹرز کی اکثریت اپنے ووٹ کی قوت سے ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتی ہے۔ خصوصاً شہروں کی تعلیم یافتہ اور وسائل رکھنے والی نئی نسل عقل و تدبر سے کام لے کر ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔


